پرفیوم: دی سٹوری آف اے بیچلر

میں، میرا ایک کزن اور اس کے دو دوست مونٹی اور سفیان ایک روز شام کے وقت شاہ صاحب کے آستانے پر موجود تھے۔
”یہ سال انشا اللہ سب کے نکاح کا سال ہو گا!“ شاہ صاحب نے آتے ہی اعلان کیا۔ وہ سارا دن آرام فرما کر ابھی تازہ دم اپنے حجرے سے برآمد ہوئے تھے۔ اب وہ رات گئے احباب کی مختلف محفلوں کو رونق بخششیں گے۔
”سبحان اللہ!“ سفیان نے نعرہ مستانا بلند کیا۔ وہ بات بے بات ایسے ہی شاہ صاحب کی مدح سرائی میں پیش پیش رہتا۔
میرا کزن اور اس کا دوست مونٹی نظریں جھکائے تائید میں سر ہلا رہے تھے۔ گویا کسی گہری سوچ میں مبتلا ہوں۔
شاہ صاحب کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ تھی۔ گاؤں میں ان کی آبائی جاگیر تھی۔ شہر میں وہ درس و تدریس کے لیے آئے تھے۔ واپسی پر میں نے اپنے کزن سے پوچھا کہ شاہ صاحب نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟ بولا، انہیں گاؤں میں نو عمر باکرہ کی تلاش ہے۔ میں نے سوچا، نو عمر لڑکی کی تلاش میں ان کی اپنی عمر نکلی جا رہی ہے۔
ان دنوں میں دفتر سے چٹھیاں لے کر گھر آیا ہوا تھا۔ میرا بھی معمول کچھ ایسا ہی تھا۔ رات گئے لیپ ٹاپ پر مووی دیکھنا یا موبائل پر کتاب پڑھنا۔ دن میں آرام کرنا اور شام کو کزنوں کے ساتھ ٹائم گزارنا۔ اس رات بھی میرے سامنے فلموں کا فولڈر کھلا ہوا تھا۔ کون سی مووی دیکھی جائے؟ ایک مووی پر آ کر میری نظر رک گئی۔ لیجیے انتخاب ہو گیا۔ پرفیوم: دی سٹوری آف اے مرڈرر۔
کہانی کچھ یوں تھی کہ ایک عجیب الخلقت نوجوان خوبصورت لڑکیوں کو اغوا کر کے قتل کر دیتا ہے۔ ان کے جسموں کو شیشے کے بڑے مرتبانوں میں بند کر کے ان کا عرق کشید کرتا ہے۔ اسے پھر عطر بنانے میں استعمال کرتا ہے۔ ایسا عطر جسے استعمال کر کے ہر خاص و عام بے خود ہو جاتا ہے۔ اور کوئی ماورائے اخلاق حرکت بھی کر بیٹھتا ہے۔ مووی اچھی لگی۔
اگلے روز مجھے پھر کزن کی کال آ گئی۔ اس نے دوستوں کو کڑاہی کی دعوت دی ہوئی تھی۔ بس میں، وہ، مونٹی اور سفیان۔ میں نے یہ نوٹ کیا تھا کہ سفیان ایسے مواقع پر بہت بولتا تھا۔ اس کی صدر بازار میں کریانے کی دکان تھی۔ یا تو وہ اپنی کسی نئی پراڈکٹ کی تشہیر کرتا۔ یا پھر کوئی ایسا واقعہ سناتا کہ اگلے بندے کو لگے کہ وہ کوئی مافوق الفطرت انسان ہے۔ جیسا کہ حال ہی میں وہ دریا کے گھاٹ تک پندرہ کلومیٹر پیدل چلا گیا۔ اور پھر فوراً واپس بھی آ گیا۔ سفیان نے ان دنوں نیا نیا پاسپورٹ بنوایا تھا۔ اس پر وہ ساؤتھ افریقہ کا ویزا لگوانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
کچھ دنوں بعد معلوم ہوا کہ مونٹی کی شادی ہو گئی۔ اب وہ زیادہ وقت نئی دلہن کے ساتھ ہی گزارنے لگا۔ شاپ پر کم کم نظر آنے لگا۔ دوستوں کی محفل سے تو بالکل غائب ہی ہو گیا۔
کچھ عرصہ بعد ہم پھر دوستوں کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے جب میرے کزن نے نوید سنائی کہ اس کی بات پکی ہو گئی ہے۔ اس روز سفیان ایک بیگ میں بہت سی کون مہندی لے کر آیا تھا۔ اس نے کئی کئی پیک ہم میں بانٹ دیے۔ گویا مہندی دکان پر پڑے پڑے اوبھ گئی تھی۔ مگر اس نے گارنٹی دی کہ مہندی کی پکڑ ایسی ہے کہ ہفتوں رنگ پھیکا نہیں پڑتا۔ گھر والوں نے مہندی کو لفٹ نہیں کرائی اور کام والیوں کو دے کر چلتا کیا۔
اور پھر میرا کزن بھی گھوڑی چڑھ گیا۔ اس کی سہرا بندی میں دو بندوں نے خاص طور پر جھومر ڈالا۔ ایک استاد بلی (میرے کزن کا ملازم) اور دوسرا سفیان۔ دونوں کنوارے۔
ہمارے اگلے ملن پر سفیان نے اپنا بزنس کارڈ آگے کر دیا۔ جلی حروف میں لکھا تھا: پرفیومز مین۔ ساتھ میں مائیکل جیکسن کی بلی جینز والی تصویر بنی ہوئی تھی۔ وہ اپنے نئے برینڈ کی تشہیر کر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ اب سوشل میڈیا کا دور ہے سو اس نے فیس بک پر ایک پیج بھی بنا ڈالا ہے۔ لائک، کمینٹ اور فالو کی بارہا تاکید کی۔
”او بھائی، پرفیوم لا ادھر“ مونٹی نے اسے چھیڑا۔
”بس، ریڈی ہے“ سفیان نے بڑے اعتماد کے لہجے میں بتایا۔ مجھے پتہ نہیں کیوں ’پرفیوم: دی سٹوری آف اے مرڈرر‘ یاد آ گئی۔
اور وہ سال بھی گزر گیا۔ اگلے سال کے آخر میں میری بھی شادی ہو گئی۔ میں فیملی کو اپنے ساتھ لے کر لاہور آ گیا۔ مونٹی کے کئی بچے ہو گئے۔ سو اس کا وقت گھر میں اور بڑھ گیا۔ کزن کاروبار میں الجھ کر گھر والوں کو ٹائم نہیں دے پاتا۔ شاہ صاحب گاؤں واپس چلے گئے۔ ان کی مراد بھی بر آئی۔ ان کا نوعمر باکرہ سے نکاح ہو گیا۔ لیکن ایک فراڈ ہاؤسنگ سکیم میں وہ اپنی جائیداد کا بڑا حصہ کھو بیٹھے۔ اب کورٹ کچہری کے چکر لگا رہے ہیں۔ اور سفیان (پرفیومز مین) آج بھی اپنے کورے پاسپورٹ کی طرح رشتے کی تلاش میں ہے۔

