پاکستان کے مسائل کا حل؟


فلاں کے آنے یا فلاں کے جانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ”سسٹم“ ہے، کوئی بھی چہرہ آ جائے جب تک یہ ”سسٹم“ قائم ہے، کچھ نہیں ہونے والا۔

حل کیا ہے؟ سب سے پہلے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن میشن بنائیں، 77 سال میں جس نے جو جو غلطیاں کی ہیں، انہیں تسلیم کریں۔ ایک دوسرے کے بجائے غلطی کرنے والے عوام سے معافی مانگیں۔

دوسرا موجودہ ”دستور“ سے چھٹکارا پائیں، ریاست کی اکائیوں میں نیا عمرانی معاہدہ ہو، اداروں لے کردار کا واضح تعین کیا جائے، جو بھی اپنے دائرہ کار سے باہر نکلے اس کی واضح سزا لکھی جائے۔ سزا کے تعین کا فیصلہ پارلیمان کو دیا جائے۔

تیسرا موجودہ ”بادشاہی سسٹم“ کا خاتمہ کیا جائے، ہر ضلع میں چند خاندانوں کے رجواڑے ہیں، فلاں ایم این اے بنا، اس سے پہلے اس کا ابا، اس سے پہلے اس کا دادا۔ اس سے چھٹکارے کے لئے بلدیات کو مضبوط کریں۔ عوام کو فیصلوں کا حق دہلیز پر دیں۔ ایم این ایز/ایم پی ایز کے درباروں کے چکر بند کرائیں۔

اسمبلیوں میں اقلیتوں کی مخصوص نشستیں مناسب ہیں، رہنے دیں، لیکن خواتین کی نشستیں ختم کریں۔ اس کے بدلے میں خواتین کے لئے حلقے مختص کیے جائیں، جہاں سے صرف خواتین الیکشن لڑ سکیں۔ یوتھ کے لئے بھی حلقے مختص کیے جائیں۔

عدالتوں میں تیز انصاف کے لئے قانون سازی وضع کریں، جو جج ایک مدت میں فیصلہ نہ کرے اسے سزا دیں، عہدے سے ہٹائیں۔ ججز کے احتساب کا نظام پارلیمان اپنے ہاتھ میں لے، وکلا کے ڈائریکٹ ججز بننے پر پابندی ختم کی جائے۔ گاؤں دیہات کی سطح پر پنچایت کا نظام لائیں، جو چھوٹے کیسز کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہو۔ پولیسنگ کو آسان بنائیں۔

سب سے بڑا کام موجودہ افسر شاہی کا خاتمہ ہے۔ کالونیل دور کے ان افسروں کو ختم کریں۔ ڈائریکٹ 17 ویں گریڈ کی بھرتی کسی کام کی نہیں۔ چھوٹے رینک میں افسر بھرتی ہوں جو ترقی کرتے کرتے آئی جی، چیف سیکرٹری تک پہنچیں۔ زیادہ ضرورت ہو تو خارجہ امور میں 17 واں گریڈ برقرار رکھیں۔

اسمبلی کی مدت 4 سال، بلدیات کے الیکشن ہر 3 سال بعد لازمی ہوں۔ سینیٹ الیکشن ڈائریکٹ کریں۔ صوبوں کو انتظامی سطح پر مزید یونٹس میں تقسیم کیا جائے۔

ٹیکس سسٹم کی بہتری، نان ٹیکس شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں۔ صرف تنخواہ دار طبقے کو نچوڑنا بند کریں۔ ایلیٹ کے لئے سبسڈیز کا خاتمہ، شہروں کے بے ہنگم پھیلاؤ کو روکیں، زرعی زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر پابندی۔

لکھنے کو اور بھی بہت کچھ ہے، ابھی کے لئے یہی بہت

 

Facebook Comments HS