معیشت میں فوری بہتری کیسے ممکن؟


موجودہ معاشی حالات اور حکومتی کاوشوں کو دیکھا جائے تو لگ بھگ نو سال بعد پاکستانی معیشت دوبارہ بہتر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پاکستانی معیشت کو یہ وقتی ساز گار حالات کیوں مل رہے ہیں اور ہم ان میں سے بہتر مواقع کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ آج ہم اسی موضوع پر اپنی گزارشات پیش کریں گے۔

قارئین کرام جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ چین، امریکہ اور سعودی عرب پاکستانی معیشت کے لانگ ٹرم پارٹنرز ہیں اور پاکستانی معیشت کا ایک بڑا حصہ انہیں تین ممالک کی امداد اور معاشی پیکجز سے چلتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے سابق حکومت نے اپنی سیاسی انا اور نا تجربہ کاری کی وجہ سے ملکی معیشت سے کھلواڑ کرتے ہوئے ان تینوں ممالک سے معاشی تعلقات بری طرح خراب کر لئے تھے جس نے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔

موجودہ حکومت اپنے پہلے ایک ماہ میں ہی اس مسئلے کو کسی حد تک ٹھیک کرنے میں کامیاب ہو گی ہے۔ یہ تینوں ممالک خصوصاً چین اور سعودی عرب شہباز حکومت پر اپنا اعتماد بحال کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی فنڈنگ کافی حد تک ملنا شروع ہو گئی ہے جس نے وقتی طور ملکی معیشت کو تھوڑی آکسیجن فراہم کی ہے۔ اس کے ساتھ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے بھی سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔ یہ سب باتیں مستقبل قریب میں پاکستانی روپے کی قدر کو کافی حد تک مضبوط کریں گیں۔ امید ہے کہ اس سال کے آخر تک ڈالر کی قیمت میں خاطر خواہ کمی ہو آ سکتی ہے۔

روپے کی قدر کی مضبوطی کی دلیل کے تناظر میں اگر ہم امریکی معیشت کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ موجود وقت میں امریکی ڈالر انڈیکس گراوٹ کا شکار ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ امریکی معیشت اگلے چند ماہ میں مزید سست ہو جانے کے ساتھ وہاں بے روزگاری کا رجحان بھی بڑھے گا۔ اگر امریکی ڈالر انڈکس گر کر 100 سے نیچے آ گیا تو اس کے براہ راست پاکستانی کرنسی پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی وجہ سے پاکستانی معیشت قدرے بہتر ہو سکتی ہے۔

یہ مواقع شاید قدرت کی طرف سے ہمارے لیے تحفہ ہیں اس لیے ان سے فائدہ اٹھانے کی خاطر چند ایک اقدامات فوری توجہ طلب ہیں جن میں ہنگامی بنیادوں پر وقتی طور پر درآمدات میں جو ممکن ہو سکے وہ کٹوتی کی جائے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ کم از کم چھ ماہ تک غیر ملکی مصنوعات کی خرید میں کمی لے کر آئیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح رہے کہ درآمدات میں بہت زیادہ کٹ بھی شاید ملکی معیشت برداشت نا کر پائے۔

جنگی بنیادوں پر برآمدات میں اضافہ کیا جانا چاہیے اس کے لیے سمال انڈسٹری اور سمارٹ ایگریکلچر سیکٹرز کا انتخاب کیا جائے اور ان کی ایکسپورٹ کوالٹی کنٹرول کرنے کے لیے سخت نئے قوانین بنائیں جائیں۔ ایگری پراڈکٹس کی ایک بڑی مارکیٹ ”سٹیرائیڈ“ کی صورت پاکستان کو فوری سنبھال سکتی ہیں۔ مثال کے طور بین الاقوامی مارکیٹ میں دیسی گھی کی بہت ڈیمانڈ موجود ہے۔ اگر حکومتی سطح پر اس سیکٹر کو تھوڑی سی بھی توجہ دی جائے تو مہینوں میں نہیں بلکہ ہفتوں میں نقد فوائد ملنا شروع ہو جائیں گے۔

حکومت جس تیزی سے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے کوششیں کر رہی ہے اس کے لیے چاہیے کہ اس سرمایہ کاری کے مخصوص زون قائم کیے جائیں اور ان زونز کی فول پروف سیکیورٹی کا بندوبست کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بدعنوانی پر زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی جائے۔ اس کے لیے فیئر اسپیڈی ٹرائلز کیے جائیں اور بدعنوانی ثابت ہونے پر مجرمان کو سخت سزائیں دی جائیں یاد رکھیئے یہ وہ عمل ہے جو بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتا ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مقامی حکومت سرمائے کی حفاظت کرنا جانتی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ان نکات پر فوری طور پر کام شروع کر لیا جائے تو شارٹ ٹرم بنیادوں پر دو سال کے اندر کم از کم ملکی معیشت کی پھولی ہوئی سانس بحال ہونا شروع ہو جائے گی اور اس کے بعد ملکی معیشت ٹیک آف کر جائے گی۔ اس کے بعد لانگ ٹرم بنیادوں پر پیداوار اور برآمدات پر مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ توجہ دی جائے۔ یاد رہے اس بہتری کا وقت مختصر ہو گا اور اگر تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس سنہری موقعے کو ٹھیک طرح سے استعمال نہ کیا تو خاک بدہن سفر حسب معمول دائروں میں ہی رہے گا۔

Facebook Comments HS