صادق اور امین ہونا اور دکھانا
یہ اتنی بھی پرانی بات نہیں۔ بس تھوڑا عرصہ پہلے لوگ غلط اور غیر قانونی کام کرنے والے لوگوں کو نفرت کی نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کی معاشرہ میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ یہ لوگ بھی اس کا نہ صرف احساس رکھتے تھے بلکہ خود کو حقیقی طور پر کمتر بھی سمجھا کرتے تھے۔ اس لیے ہر وہ جگہ، محفل یا کوئی بھی فورم ہوتا جو عزت وقار اور راستی کے حامل ہونے اور شفاف کردار کا متقاضی ہوتا از خود وہاں سے دور دور ہی رہا کرتے تھے۔ البتہ اپنے کاروبار، روزگار اور مفادات کے تحفظ کے لیے اچھے اور عزت دار لوگوں کی بھیڑ میں کالی بھیڑیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر الو سیدھا کراتے اور وہ ایماندار لوگ بھی ایمانداری میں بے ایمانی کرلیتے۔
وقت بدلتا رہا جمہوریت اصل روح کے مطابق تو نہیں البتہ دوسری نظاموں کی طرح مخصوص طبقہ اور ان کے مفادات کے لیے مقبول ہوتا گیا۔ اور خیر سے، معذرت کے ساتھ عوامی مسائل کے حل کی بجائے عوامی قوت سے اب اپنے مفادات کے حصول اور تحفظ کا ذریعہ بن گیا۔ تو سیاست بھی خیر سے باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر گیا۔
یہ کاروبار اس وقت مزید منافع بخش شکل اختیار کر گیا جب جنرل ضیاء الحق اپنے ڈکٹیٹرانہ نظام کو قانونی شکل دینے کا اچھوتا منصوبہ سامنے لایا۔ پہلی دفعہ اقربا پروری پر مشتمل مخصوص اور غیر سیاسی پارلیمنٹ کی بنیاد اسلامی جامہ پہناتے ہوئے ”مجلس شوریٰ“ کی شکل میں رکھ دی۔ اس طرح قومی اسمبلی اور نام نہاد جمہوری حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ حیران کن طور پر آئین، جمہوریت سیاسی عمل پر یقین رکھنے اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والے نامی گرامی سیاسی رہنماء اور پارٹیاں اس کا حصہ بھی بن کے تقویت دیتے رہے۔
اس آمرانہ جمہوریت میں ساتھ دینے کے عوض مخصوص بڑی بڑی پارٹیوں اور بندوں کو خصوصی انعامات و اکرام کے علاوہ ہر ممبر مجلس شوریٰ کو بھی نوازا جانے لگا اور تنخواہیں، صوابدیدی سالانہ ترقیاتی فنڈ، ملازمتوں میں کوٹہ، لائسنس، پرمٹ کے علاوہ دیگر بہت سے اثر رسوخ اور اختیارات دے دیے گئے۔ اس کے علاوہ سینٹ الیکشن، صدر مملکت الیکشن، سپیکر اسمبلی الیکشن، چیئرمین سینٹ الیکشن کے وقت خرید و فروخت یعنی ہارس ٹریڈنگ اور مرضی کی قانون سازی، بجٹ اور دیگر مواقع پر مزید عوضانوں اور کئی دیگر مراعات اور استحقاق ہائے نے مجلس شوریٰ (قومی اسمبلی) کو بشمول دیگر فورم ہائے نمائندگان کو باقاعدہ انڈسٹری اور اس کے ممبران کو ممبران بورڈ آف ڈائریکٹرز بنا کے رکھ دیے۔ جو خیر سے مارشل لائی مقدس یادگار کے طور پر اب بھی جمہوریت کا جامہ پہنا کے جاری و ساری رکھے گئے ہیں۔
اب جبکہ سیاستدانوں نے بھی انتخابات کو سیاست کے ایک جزو کی بجائے کل کی حیثیت دے دی ہے۔ دوسری طرف منفی ذرائع سے کمائی جانے والی دولت کچھ با اثر اور با اختیار لوگوں کی معمولی کمیشن اور کچھ حکومتی کالے دھن کو سفید بنانے کی پالیسیوں نے اوپر ذکر کردہ دو نمبریوں کی دولت، شان اور شوکت میں اتنا اضافہ کر دیا کہ کہ ان کی معاشی اور سماجی حیثیت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار بھی بدل گئے اور اب سب کچھ دولت ترازو تولا جانے لگا۔
سیاست، تھانہ کورٹ کچہری، حکومت، بیوروکریسی، سیاست اور سیادت ایسے دولت مندوں کے گھر کی لونڈی بن گئی اور معتبر اور عزت دار ٹھہرے۔ اب یہ بادشاہ بننے میں مددگار بننے کی بجائے خود بادشاہ بننے لگے۔ کیونکہ کسی کا ایک دفعہ ممبر بننے سے اس آئندہ نسلیں تو کیا ان کے قریبی لوگوں کی قسمت ہی بدل جاتی ہے۔ اس لیے ایسے لوگ کرپشن اور لاقانونیت کی وہ ادھم مچاتے رہے کہ آئین میں آرٹیکل 62 اور 63 لانے کے ساتھ ساتھ دیگر بند بھی باندھنے پڑے جو سب ان کی دولت و ثروت کے سامنے ریت کے بند ثابت ہوتے گئے۔
ذکر کردہ آرٹیکل محض الیکشن کے دوران کاغذات نامزدگی کے وقت آمدن، ذرائع آمدن، ٹیکس، کاروبار، پیشہ، اخلاق انسانیت وغیرہ کی انکوائری اور احتساب کی بجائے ریٹرننگ افسر کے پرائمری لیول کے اسلامی سوالات مثلاً شش کلمے، نماز، نماز جنازہ وغیرہ سے متعلق سوالات تک محدود رہ گئے ہیں۔ جس میں بھی وہ اکثر فیل ہی ہو جاتے ہیں۔ مگر اب تو سارے بند ہی ریت کے بند بن چکے ہیں۔ آرٹیکل 62 ’63 کا اصل مقصد صادق اور امین بننے اور پارلیمان کو صادق اور امین لوگوں کو پہنچانے کے لیے ہے مگر صادق اور امین بننے اور دکھانے میں قطبین کا فرق ہے۔ جس کا مٹانا ہی تمام مسائل کا حل اور بہت بڑا چیلنج ہی ہے۔


