اپوزیشن کا گرینڈ الائنس: حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک
عام انتخابات کے انعقاد کو دو ماہ ہونے والے ہیں۔ وفاقی دار الحکومت اسلام آباد جہاں حکومت اور اپوزیشن (پی ٹی آئی) کے درمیان میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ وہاں اسلام آباد سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر اڈیالہ جیل میں سرکاری مہمان شہباز شریف حکومت کو سکھ کا سانس نہیں لینے دے رہا۔ پی ٹی آئی کے ارکان آئے روز پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کر کے اپنے وجود کا احساس دلا رہے ہیں۔ فارم نمبر 45 اور 47 کے نتائج کا جھگڑا ختم نہیں ہوا قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 88 ارکان جنہوں نے سنی اتحاد کونسل میں پناہ لے رکھی تھی، کو دوبارہ آزاد ارکان قرار دے کر بے مہار اونٹ کا درجہ دے دیا ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے نامزد قائد حزب اختلاف عمر ایوب کو تاحال قائد حزب اختلاف تسلیم نہیں کیا گیا پی ٹی آئی کے وفد نے عمر ایوب کی قیادت میں سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی ہے لیکن تاحال انہیں سپیکر کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا اگرچہ عمران خان اڈیالہ جیل سے اپنی پارٹی کو کنٹرول کر رہے ہیں اور پی ٹی آئی کی وکلا پر مشتمل قیادت ان کے جاری کیے گئے احکامات پر عمل در آمد کرنے کی کوشش کرتی ہے جو لیڈر ان کے معیار پر پورا نہیں اترتا اسے فارغ کر دیتے ہیں۔
اس کی تازہ ترین مثال شیر افضل مروت اور عمیر خان نیازی کی ہے جنہیں پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے عمران خان کے فوکل پرسنز کی فہرست سے نکلوا دیا ہے۔ پی ٹی آئی اور دیگر پانچ جماعتوں کا اسلام آباد میں مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومت کے خلاف عید الفطر کے بعد مزاحمتی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 6 جماعتی اتحاد کو اپوزیشن کا گرینڈ الائنس کا نام دیا گیا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کی دعوت پر پختونخوا ملی عوامی، جماعت اسلامی، بی این پی مینگل، سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی کی قیادت کا اکٹھ ہوا جس میں حکومت کو گرانے کے لئے فارمولہ تیار کیا گیا ممکن ہے۔
آئندہ چند روز میں اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔ دلچسپ امر ہے۔ شہباز شریف کی 16 ماہ کی حکومت میں سردار اختر مینگل اور محمود خان اچکزئی ان کے اتحادی تھے لیکن 8 فروری 2024 ء کے انتخابات میں نشستوں کی بندر بانٹ نے ان کو مسلم لیگ (ن) سے دور کر دیا ہے۔ دوسری طرف جمعیت علما ء اسلام کی قیادت نے شہباز شریف کی حکومت گرانے کے لئے لنگوٹ کس لیا ہے اور عید الفطر کے بعد جلسوں کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔
اہم بات یہ ہے۔ پی ٹی آئی سپانسرڈ گرینڈ الائنس میں جمعیت علما ء اسلام نے تاحال شمولیت کا عندیہ دیا ہے اور نہ ہی مولانا فضل الرحمنٰ پی ٹی آئی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے اپنے کارکنوں کی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہیں۔ مجوزہ گرینڈ الائنس میں جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس کے پاس سٹریٹ پاور ہے۔ دوسری بڑی جماعت جس کے پاس سٹریٹ پاور ہے تو وہ جمعیت علما ء اسلام جو اسٹیبلشمنٹ مخالف تحریک چلانے کے لئے پر تول رہی ہے اور مولانا فضل الرحمن خاصے غصے میں ہیں اور وہ کچھ قوتوں کے خلاف ادھار کھائے بیٹھے ہیں لیکن وہ کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہتے جو اڈیالہ جیل میں سرکاری مہمان کی رہائی کا باعث بنے اگرچہ عوام کی اکثریت موجودہ حکومت سے مطمئن دکھائی نہیں دیتی جو مسلسل مہنگائی کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے۔
عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود کسی حکومت کو قائم ہوئے مہینہ دو مہینہ ہی ہوئے ہیں۔ گرانے کے لئے عوام کو سڑکوں پر نکالنا خاصا مشکل ہے۔ کسی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے سال ڈیڑھ سال کی مہلت دی جاتی ہے چونکہیہ تحریک مہنگائی کے خلاف نہیں ہو گی۔ انتخابی نتائج تبدیل کرنے کے خلاف ہے۔ روز اول متاثرہ جماعتیں عوام کی عدالت دوبارہ جانے کی بجائے پارلیمنٹ میں چلی گئی ہیں اور الیکشن کمیشن کے قائم کردہ ٹربیونلز سے رجوع کرنا شروع کر دیا ہے جس کے بعد عوام کو سڑکوں پر لانے کا جوش و خروش مانند پڑ گیا ہے۔
پی ٹی آئی، جمعیت علما اسلام، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) پارلیمنٹ میں بطور احتجاج بیٹھ گئی ہیں اور سر دست انہوں نے پارلیمنٹ کو میدان جنگ بنا رکھا ہے۔ ادھر عمران خان اور جیل انتظامیہ کے درمیان ہفتہ میں دو بار ملاقات کا فارمولہ تیار ہو گیا ہر ملاقات میں عمران خان پارٹی کے کسی نہ کسی لیڈر کی ناقص کارکردگی پر اس کی چھٹی کر دیتے ہیں۔ گویا حکومت نے جیل میں ملاقاتیوں کے کمرے میں پارٹی رہنماؤں کے غیر علانیہ اجلاس منعقد کرنے کی اجازت دے کر جہاں عمران خان کو پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو مشاورت کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ وہاں اسے اس اجلاس کے حوالے سے معلومات تک با آسانی رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی کے ر ہنماؤں عمر ایوب، اسد قیصر اور شبلی فراز نے عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ حسب معمول پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے ملاقات کے بعد جیل کے باہر پریس کانفرنس میں گرینڈ الائنس کا سربراہی اجلاس 12 اپریل 2024 ء کو کوئٹہ میں سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ پر منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ عید الفطر کے بعد کوئٹہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں مزاحمتی تحریک کے شیڈول کی منظوری دی جائے گی۔
اس ملاقات کے بعد پریس کو بتایا گیا پارٹی کے دو رہنماؤں شیر افضل مروت اور عمیر خان نیازی کی فوکل پرسن کی حیثیت ختم کر دی گئی ہے۔ عمران خان حکومت تحریک چلانے کے خواہاں ہیں لیکن ان کی اپنی جماعت ان آرڈر نہیں عمران خان کی جیل یاترا کے بعد پی ٹی آئی کے لیڈروں کے درمیان لڑائیاں بڑھ گئی ہیں۔ عمران خان شہباز شریف حکومت گرانے کے پورا زور لگا رہے ہیں۔ ہیں لیکن راولپنڈی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر اڈیالہ جیل میں قید ان کے لیڈر عمران خان سے اظہار یک جہتی کے لئے گنتی کے چند کارکن نہیں آتے لہذا ان کو سڑکوں پر لانا خاصا مشکل کا ہے۔
وفاق اور تین صوبوں میں سینیٹ کے انتخابات ہو گئے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے کے پی کے سے منتخب ہونے والے ارکان کا حلف لینے سے انکار کر دیا ہے جس کے باعث سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات التوا میں پڑ گئے ہیں۔ کے پی کے سے خصوصی نشستوں پر منتخب ہونے والے سینیٹر کی حلف برداری کا معاملہ سپریم کورٹ کے باعث زیر سماعت ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے ہیں اور دھمکی دی ہے۔
وہ کسی قیمت پر ان نشستوں پر منتخب کیے گئے ارکان کو حلف نہیں اٹھانے دیں گے۔ وفاق اور کے پی کے میں محاذ آرائی کے ملکی سیاست پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اگر وزیر اعلیٰ نے اپنے رویہ میں نرمی پیدا نہ کی تو وفاق صوبے میں انتہائی اقدام اٹھا سکتی ہے۔ پاکستان میں عام انتخابات کے خلاف تحاریک چلتی رہی ہیں۔ 1977 کی تحریک کے نتیجہ میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ تو الٹ دیا گیا لیکن اس کے نتیجے میں ملک میں مارشل لا ء لگ گیا طویل عرصہ تک ملک میں آمریت مسلط رہی اپوزیشن کی تحریک سپانسرڈ نہ ہوئی تو اس کی کامیابی کے امکانات نہیں۔


