اور نوکری چلی گئی


mohammad rafiq dad

مسز نوشین درّانی کے شوہر، جناب نوازش علی درّانی، ایک نجی کمپنی میں ڈائریکٹر تھے، نوشین سے ان کی یہ دوسری شادی تھی۔ مبینہ طور پر ان کی پہلی بیوی انھیں چھوڑ کر چلی گئی تھی، اب کیوں گئی تھی، اس کے بارے میں نہ تو نوازش علی نے کبھی بتانے کے زحمت کی نہ ہی نوشین کو پوچھنے کی ہمت ہوئی۔ نوازش علی ایک کم گو انسان واقع ہوئے تھے جو ضرورت سے زیادہ بات کرنے کے قائل نہیں تھے۔ نوازش علی اور نوشین کی عمر میں اچھا خاصہ فرق تھا، نوازش ساٹھ کے پیٹے میں تھے جب کہ نوشین نے ابھی زندگی کی چالیس بہاریں ہی دیکھی تھیں، لیکن لگتی پینتیس کی تھی۔

وہ اپنے حسن اور صحت کا خاص خیال رکھتی تھی، ہر صبح باقاعدگی کے ساتھ بنگلے کے قریب واقع پارک میں جا کر جاگنگ کرتیں اور اپنے حسن کی ضو فشانی کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف بیوٹیشن سے ٹِپس لیتیں۔ گھر میں زندگی کی تمام آسائشیں موجود تھیں، پیسے کی ریل پیل تھی، نوکر چاکر، گاڑی بنگلہ، زیورات ہر وہ چیز جس کی آرزو کوئی عورت کر سکتی ہے موجود تھیں۔ اس آسودگی کے ماحول میں نوشین کو بس دو چیزوں کی کمی محسوس ہو رہی تھی، ایک اولاد کی دوسرا اپنے شوہر کی جس کے پاس نوشین کے لیے وقت نہیں تھا۔

لذیذ اور توانائی بخش خوراک انسان کو نہ صرف طاقت و توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ اس کے اندر نفسانی خواہشات کے فروغ کا بھی ذریعہ بنتی ہے جنھیں اگر جائز طریقے سے پورا نہ کیا جائے تو انسان کے بہکنے کا خطرہ رہتا ہے۔ نوشین درّانی کے ساتھ بھی یہی ہوا، نوازش علی کی بے توجہی کی وجہ سے اس کی منہ زور جوانی اس کے قابو میں نہ رہی اور انھیں اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اپنے ڈرائیور، شوکت علی کا سہارا لینا پڑا۔ ڈرائیور کی ڈیوٹی میں نوازش علی کو دفتر چھوڑ کر واپس بنگلہ آنا ہوتا تھا تاکہ بیگم صاحبہ کو گاڑی کی ضرورت پڑنے پر کوئی دشواری نہ ہو۔

ڈرائیور کے انتخاب میں نوازش علی سے چُوک ہو گئی۔ گھر میں ایک جوان اور خوبصورت بیوی کے ہوتے ہوئے انھوں نے ایک تندرست اور خوبصورت جوان کو ڈرائیور ملازم رکھا۔ دوسری غلطی یہ کی کہ دودھ کی رکھوالی بلی کے سپرد کردی (یعنی نوشین کو شوکت علی کے حوالے کر دیا) پیٹرول اور ماچس جب مل گئے تو عشق کی آگ بھڑک اٹھی اور نوکر اور مالک کے درمیان جتنے حجاب تھے ایک ایک کر کے اٹھتے چلے گئے۔

نوشین کی طرف سے حوصلہ ملنے پر شوکت کی بے باکیاں بڑھنے لگیں، وہ اکثر بیگم صاحبہ سے چھیڑ چھاڑ کرتے جس پر نوشین کوئی اعتراض نہ کرتی۔ نوشین پیار سے شوکت علی کو ”شوکی“ کہتی تھی۔ اکثر اوقات جب نوشین کسی کام میں مصروف ہوتیں تو شوکت علی پیچھے سے دبے پاؤں آتے اور انھیں اپنی بانہوں میں لے کر اپنے ہاتھوں سے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ لیتے (ویسے تو دونوں کی آنکھوں پر پہلے ہی عشق کی پٹی بندھی ہوئی تھی) ۔ شوکت علی کی بانہوں میں سما کر نوشین کسی اور ہی دنیا میں چلی جاتی۔

چُھپن چھپائی کا یہ کھیل اب بھی جاری رہتا مگر ایک دن نوشین کی معمولی سی غلطی سے جیتی ہوئی بازی پلٹ گئی۔ ہوا یہ تھا کہ صبح دفتر جاتے ہوئے نوازش علی نے نوشین سے کہا تھا کہ وہ لنچ پر تیار رہے، کہیں دعوت پر جانا ہے۔ نوشین دن گیارہ بجے ہی بن سنور کر تیار ہو گئی، اس کے دماغ میں تو شوکت علی سمایا ہوا تھا۔ وہ کیاریوں میں سے گلاب کا پھول توڑ کر اپنے جُوڑے میں سجا رہی تھی کہ پیچھے سے کسی نے آ کر اسے اپنی بانہوں میں لے لیا اور اس کی آنکھوں پر اپنے ہاتھوں سے پٹی باندھ دی۔ نوشین یہ سمجھ کر گھبرا گئی کہ شوکت علی آج غلط موقع پر مستی کر رہے ہیں، اگر صاحب آ گئے تو گڑبڑ ہوگی۔

یہ سوچ کر انھوں نے شوکت علی کو پیار سے ڈانٹتے ہوئے کہا: ”نہ کر شوکی نہ کر! آج صاحب جلد آنے والے ہیں، انھوں نے دیکھ لیا تو معاملہ خراب ہو گا“ ۔ نوشین کی بات سن کر آنے والے شخص نے فوراً نوشین کو خود سے جدا کر دیا۔ نوشین نے پیچھے مڑ کر جو دیکھا تو اس کے سامنے شوکی نہیں بلکہ ’صاحب‘ بہ نفسِ نفیس کھڑے غصے سے انھیں گھور رہے تھے۔

نوشین شرمندہ ہو کر کمرے کی اندر بھاگ گئی۔ صاحب کا موڈ بھی خراب ہو چکا تھا وہ واپس گھر سے باہر چلے گئے، مگر اس سائے قضیے میں زیادہ نقصان شوکت علی کا ہوا جس کی نوکری چلی گئی۔ دو دن بعد نوشین کی خدمت میں ایک نیا ڈرائیور حاضر ہوا جس کی عمر 70 سال کے قریب تھی، سر اور داڑھی کے سارے بال سفید تھے، آگے کے چار دانت بھی غائب تھے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments