برلن اور بچوں کی تعلیم
جرمنی میں تعلیم کو بہت اہمیت ہے۔ پہلی کلاس میں آنے والے بچوں کے لئے خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ سب بچوں کے لئے ایک میلے کا سماں باندھ دیا جاتا ہے۔ بچوں کے والدین، دادا، نانا اور قریبی رشتے دار، سکول کے پہلی کلاس کے اندراج کے فنکشن میں آتے ہیں۔ ہر بچہ، پتنگوں کے کاغذ سے بنائی گئی ایک خوبصورت، لمبی تکون دار گڈی بیگ (تحفوں کا بیگ) ، جس میں چاکلیٹ، سویٹس وغیرہ ہوتی ہیں، ہاتھوں میں لئے ہوئے کھڑا ہوتا ہے۔ اور کلاس ٹیچر سب بچوں کے نام باری باری بلاتے ہیں۔ پہلے دن صرف ٹیچرز اور بچے آپس میں متعارف ہوتے ہیں۔
پہلی کلاس کے اندراج کے لئے نوے کی دہائی میں، برلن میں یہ قانون تھا کہ اگر بچہ 30 جون تک 6 سال کا ہو گیا ہے اس کا، اپنی رہائشی رجسٹریشن کے قریب ترین واقع پرائمری سکول میں داخلہ لینا لازمی ہے یعنی اگر کسی بچے کی یوم پیدائش یکم جولائی تھی تو اس کو پہلی کلاس میں آنے کے لئے مزید ایک سال انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اب تو شاید قوانین بدل چکے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے والدین اپنے بچے کو اسکول نہیں بھیجتے یا وہ خود سکول نہیں جانا چاہتا یہ ممکن نہیں ہے۔ پولیس بچوں کو زبردستی سکولوں میں لا سکتی ہے۔
ہماری بڑی بیٹی کا ترفت شولے نامی پرائمری سکول ہمارے اسٹوڈنٹ ہوسٹل سے 50 میٹر دور تھا۔ پرائمری اسکولوں میں بچوں کے داخلے، بچوں کی رہائشی رجسٹریشن کے مطابق، برلن کی لوکل گورنمنٹ کرتی ہے۔ جب اس نے کلاس شروع کی تو میری حیرانی کی انتہا ہو گئی کہ اس کی کلاس میں ایک بھی جرمن نژاد بچہ نہیں تھا۔ 90 فیصد، ترک نژاد بچے اور ایک بچی سری لنکن تھی۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ اس لئے ہے کہ اس ڈسٹرکٹ ویڈنگ میں فارنر یعنی غیر جرمن باشندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
ان کلاسوں کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں مغربی برلن کے تین اضلاع، ٹئیر گارٹن؛ ویڈنگ اور کرؤز برگ میں فارنر کو رہائش کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ اور یہ عمل کافی سالوں تک جاری رہا۔ میں فوراً سکول ڈائریکٹر کے پاس گیا کہ میں اپنی بیٹی کو ایسی کلاس میں ہرگز نہیں ڈال سکتا جہاں کوئی جرمن بچہ ہی نہیں۔ وہاں سے نکال کر، اس کے کنڈر گارٹن کے پاس ہی، ویڈنگ گرنڈ شولے نامی پرائمری اسکول میں داخل کرایا گیا۔
میں اس کو بچپن ہی سے، کسی بھی کھیل میں ایک اچھی کھلاڑی بنتا دیکھنا چاہتا تھا۔ ہمارے ایک جاننے والے برلن کے سرکاری اسکواش بورڈ میں ٹرینر تھے۔ وہ ایک دفعہ ہمارے گھر آئے اور اس کے لئے ایک ریکٹ بھی بطور تحفہ لائے تھے۔ لیکن اس کو کھیلوں سے اتنی دلچسپی نہیں تھی۔ ہر وقت کتابیں پڑھتی رہتی۔ برلن میں بک ٹریڈ سٹاک ایکس چینج ایسوسی ایشن کی طرف سے چھٹی کلاس میں کتابیں پڑھنے کا مقابلہ ہوتا تھا، جس میں وہ پہلے اپنی کلاس میں فرسٹ آئی، پھر اپنے ویڈنگر پرائمری سکول کی 4 کلاسوں میں، اور پھر ڈسٹرکٹ ویڈنگ کے تمام پرائمری اسکولوں میں فرسٹ آئی تھی۔
مجھے یاد ہے کہ جب یہ صوبہ برلن کے تمام سکولوں کے مقابلے کے لئے کمرے میں گئی تو باہر ساری فیمیلی دعائیں کر رہی تھی کہ وہ برلن میں بھی اول آئے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ڈسٹرکٹ ولمسڈورف میں فرسٹ پوزیشن پر آنے والی ایک جرمن بچی، برلن میں پہلے نمبر پر آئی تھی۔ میری بیٹی کا اپنی ڈسٹرکٹ ویڈنگ میں فرسٹ آنا بھی بہت بڑا اعزاز تھا اور ویڈنگ کے مئیر اور جنگ لندن کی طرف سے پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ پرائمری سکول کی ہیڈ مسٹریس نے اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ برلن میں بہت کم غیر ملکی سٹوڈنٹس، اس کی طرح کے ہیں۔
برلن کی چھٹی کلاس میں ہی بچوں کے تعلیمی مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ پرائمری اسکول کے خاتمے پر سکول کی طرف سے بچے کی قابلیت اور سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر، اس کے کلاس ٹیچر کی طرف سے والدین کو تجاویز دی جاتی ہیں کہ آپ کے بچے میں کالج جانے، جسے جرمنی میں جمنازیم کہتے ہیں، صرف میٹرک کرنے یا پھر کوئی ووکیشنل سینٹر میں جانے کی قابلیت ہے۔ والدین ان تجاویز کے پابند نہیں ہوتے، لیکن عموماً بچوں کے روشن مستقبل کے لئے ان تجاویز کو قبول کرتے ہیں۔
میری بیٹی نے ڈیسٹروگ نامی جمنازیم میں ساتویں کلاس شروع کی تھی جہاں اس نے تیرہویں کلاس کے بعد، کالج سرٹیفکیٹ، جسے جرمنی میں آبیٹور کہتے ہیں، حاصل کیا تھا۔ آبیٹور، جو اینگلو سیکسن ممالک میں پری گریجویشن بھی کہلاتا ہے، جرمنی میں نہایت مشہور ہے۔ ہماری دوسری بیٹی نے، جس کی پیدائش بھی، ارنسٹ روئٹر سٹوڈنٹ ہوسٹل میں ہوئی تھی، برلن ووکیشنل ٹریننگ سینٹر میں فیشن ڈیزائننگ کورس کی پڑھائی کی تھی۔
ہمارے بیٹے کی پیدائش ورشو کلینک میں ہوئی تھی۔ پیدائش کے فوراً بعد نرس نے اس کو میرے ہاتھوں میں دیا تھا۔ سب نومولود بچے چھوٹے چھوٹے الگ بستروں میں تھے اور رو رہے تھے۔ ہمارے بیٹے کے ساتھ ہی ایک بچی بھی تھی۔ جس کے والدین ہمارے پڑوسی تھے۔ اور بچی کی ماں، لاؤس نژاد چینی خاتون آج بھی میری بیگم کی بہترین دوست ہے۔
ہمارے بیٹے کو ورشو کلینک میں دیکھنے کے لئے بہت لوگ آئے تھے۔ چند دن بعد بیگم اور بیٹے کو میں گھر لے آیا۔ پھر ہماری اپارٹمنٹ میں دوستوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دونوں بہنیں، بھائی کی آمد پر بہت خوش اور پر جوش تھیں۔ خصوصاً بڑی بیٹی مجھ سے بار بار کہتی تھی کہ اس کو یقین نہیں آ رہا کہ وہ ایک بھائی کی بہن ہو چکی ہے۔ ہم نے بیٹیوں کی طرح، بیٹے کی بھی پیدائش سے ہی، بہت سی تصاویر بنا کر البموں میں لگا رکھی ہیں جن کو دیکھ کر بہت سی بچپن کی یادیں، تازہ ہو جاتی ہیں۔


