پاکستان کی جیوپولیٹیکل پوزیشن اور چیلنجز
جیو پولیٹیکل ایک ایسا معاملہ جو کسی ملک کی جغرافیائی، اقتصادی اور ڈیموگرافی کے زیر اثر اس کی سیاست پر اثر انداز ہو خصوصاً ریاست کی خارجہ پالیسی پر ۔ جس میں حکومتی پالیسی جیو پالیٹکس کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کو منظم کرے۔ سادہ زبان میں جغرافیائی حدود اور اقتصادیات مل کر کسی ملک کی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہو۔ اس کے وسیع تر تناظر میں اسے کسی معاشرے کا اپنے ملک کے ارد گرد کی جغرافیائی پوزیشن، ملکوں کے ساتھ تعلقات، اپنے مفادات کی نگرانی اور کسی بھی پیش خیمہ دھمکی یا بدلتی صورتحال حال کو جانچنا اور اس کے تدارک میں لگے رہنا، اس کا قلع قمع کرنا اور اس کے برے اثرات سے بچنا ہی کسی ملک و معاشرے کے لئے ایک چیلنج ہوتا ہے۔
اردگرد کے ممالک کے جغرافیائی و اقتصادی مفاد کو بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں استعمال کرنا جو اپنے ملک کو اس خطے میں دوسرے ممالک سے ممیز کرے۔ آج کل کے دور میں جیو پالیٹکس میں کسی بھی ملک کا اپنی طاقت کا استعمال جغرافیائی حدود و قیود میں رہتے ہوئے نہایت زیرک و دانشمندانہ طور پر ادا کرنا اور اپنے اپنے مفادات کی نگرانی کرنا ہے۔
جیو پالیٹکس اور جیو حکمت عملی کا اگر کسی کو استاد مانا گیا اور جس نے اس کی راہ دکھائی تو وہ ایک برطانوی جغرافیہ دان، سیاست دان اور علمی شہرت کا حامل انسان سر ہیلفورڈ جان مکنڈر تھا جس نے جیو پالیٹکس میں ملکی و بین الاقوامی تعلقات پر سیر حاصل بحث کی۔ جس میں جیو پالیٹکس میں انفرادی و اجتماعی طور پر کمپنیوں، تنظیموں اور کسی بھی قومی حکومت کی سیاسی، اقتصادی اور مالیاتی معاملات کو دوسرے ممالک کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے کیسے آپ کو اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔
جیو پالیٹکس میں زیادہ تر دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات، تجارتی معاہدات، توانائی، عسکری اخراجات، دوسرے ممالک پر لگی پابندیاں اور ایک دوسرے کے خلاف جنگ و جدل اور اس کے اثرات سے مربوط حکمت علی کے ساتھ نبرد آزما ہونا اور اپنے عوام کے لئے مواقع تلاش کرنا اس کا حصہ ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام، سول نافرمانی، ہڑتالیں اور علاقائی جھگڑے جو کہ اندرونی طور ملک کو کھوکھلا کر دیتے ہیں، سے نبرد آزما ہونا جس سے ملکی مفادات و اقتصادی حالت پر اثر پڑتا ہے اور بل آخر عوام کو اس کے اثرات سہنا پڑتے ہیں۔
اب آتے ہیں مملکت پاکستان اور اس کا ایشیاء میں اہم جیو سٹریٹیجک مقام خاص طور پر حاضر دور میں بین الاقوامی معاملات میں اس کا کردار کیوں اہم ہے۔ پاکستان کی جیو سٹریٹیجک پوزیشن میں اس کا تعلق اسلامی دنیا، بھارت، چین، امریکہ، اور افغانستان جیسے ممالک سے ہے۔ اس کی قومی سیاست اور عسکری مواقع بھی اس کے زمرے میں آتے ہیں جو اسے منطقی طور پر اپنی اسٹریٹیجک پوزیشن بنانے میں اہم مواقع و چیلنجز فراہم کرتے ہیں۔ جن سے حکمت عملی کے ساتھ نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔
پاکستان کے جیو پولیٹیکل چیلنجز مختلف ممالک کے ساتھ مختلف ہیں۔ جن میں سر فہرست تشدد اور دہشتگردی ہے۔ پاکستان کو دہشتگردی کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان پر افغانستان کی اندرونی صورتحال بھی اثر انداز ہوتی ہے جب افغانستان میں سکیورٹی کے خطرات بڑھتے ہیں۔ خصوصاً پاکستان کی مشرقی سرحد پر جہاں سے افغانستان کی طرف سے دہشتگردوں کی حملے ہوتے رہتے ہیں تو لا محالہ اس کا اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کا کشمیر تنازع جو ایک نا ختم ہونے والی کشیدگی اور جھگڑے کا باعث ہے۔
ہمیں اس کے لئے مسلسل تیار رہنا پڑتا ہے۔ پاکستان اپنے خطے میں مسلم ممالک کے ساتھ بھی اہم جیو پولیٹیکل چیلنج رکھتا ہے جس میں سعودی عرب، ایران، ترکی، اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ تین بڑی طاقتیں امریکہ، چین اور روس اس خطے میں اپنے مفادات اور ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور ان سب کے حالات پاکستان کو کسی ایک کے ساتھ چلنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ لیکن اپنے مفادات کا تحفظ ہم کس طرح درمیانی راہ نکالتے ہوئے کرتے ہیں یہ ہی پاکستان کے لئے عصر حاضر کا چیلنج ہے۔
پاکستانی قیادت و عوام کو جب تک اندرونی چیلنجز سے نمٹنے اور ان کا سدباب کرنے کا کوئی حل مستقل بنیادوں پر نہیں ملتا ان کے لئے ترقی کرنا ایک مشکل امر بنتا جا رہا ہے۔ ہمیں اپنے تمام اختلافات کو ختم کرنا، قانون کی عملداری، میرٹ پر فیصلے صادر کرنا، ایک دوسرے کو عزت و احترام سے دیکھنا، حقوق کی پاسداری اور ملکی سالمیت کے خلاف کام کرنے والوں کو پکڑ کر قانون کے کٹہرے میں لانا اور سزا دلانے کی مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ قوموں کی زندگی میں چیلنجز آیا کرتے ہیں ان سے بہادری و نہایت زیرک طور نبردآزما ہونا ہی ان کا اصل امتحان ہوتا ہے۔
پاکستان کے اس خطے میں مختلف ممالک سے تعلقات نہایت اہم موضوع ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات اس کے دوستانہ ہیں اور ان کے درمیان معاشی تعاون کا تسلسل ہے۔ سعودی عرب مسلمان برادری کا ملک ہونے کی بنیاد پر مبنی دوستانہ تعلقات پاکستان سے رکھتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات مختلف مسائل پر بحث کے مابین ہیں جس میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ پاکستانی عوام اس تعلق کے بارے اچھی رائے نہیں رکھتے جس کی بنیاد امریکی رویہ اور اپنا مفاد نکلنے کے بعد پاکستان کو دلدل میں پھینک جانا ہے۔
افغانستان میں امن کا بحران اور دفاعی تعاون دونوں پاکستان کے لئے لازم ملزوم ہیں۔ ایران کے ساتھ بھی تعلقات مختلف امور پر مشتمل ہیں، جن میں براہ راست تجارت اور علاقائی امن کے مسائل و بیرونی قوتوں کے پریشر جن میں گیس لائن کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچے دینا جس سے پاکستان کے لئے سستی گیس کا حصول ممکن نہ ہونا وغیرہ ہیں۔ موجودہ دور میں دہشتگردی کا سر اٹھانا وہ بھی چین کے ماہرین کے خلاف تا کہ سی پیک منصوبہ اپنے پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکے۔ ان سب سے نبٹنا اور مالیاتی طور مستحکم ہونا اب ہمارے لئے ایک سنگین چیلنج ہے۔ قومیں یک جہتی کے ساتھ اپنے تمام چیلنجوں سے عہدہ برا ہوتی ہیں۔


