ہم چاند ہی پر رہ رہے ہیں
کون کہتا ہے کہ ہندوستان ہم سے آگے نکل کر چاند پرجا پہنچا ہے ہم تو پہلے ہی سے چاند پر رہ رہے ہیں کیونکہ یہاں نہ پانی ہے نہ بجلی، گیس ہے نہ آٹا۔ نہ کوئی قانون ہے نہ آئین اور سب سے بڑھ کر نہ کوئی انسان۔ تو گویا یہ چاند ہی ہو گیا نا۔ ہم ہر چیز میں غور و فکر کرنے والے ہیں لیکن کبھی اس پر غور کیا ہی نہیں۔ ہم ہمیشہ اس بات کا رونا روتے ہیں کہ ہماری اشرافیہ نے ملک کے لئے کچھ نہیں کیا لیکن اس سے بڑھ کر اور کیا کر سکتے ہیں کہ ہمیں چاند پر پہنچایا اور خود لندن، دبئی، آسٹریلیا اور امریکہ میں خوار ہو رہے ہیں۔
ہم نے اس پر بات پر بھی غور نہیں کیا کہ ساری دنیا کو چاند نظر آجاتا ہے لیکن ہمیں نظر نہیں آتا کیونکہ ہم چاند پر رہ کر چاند دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ایسا ہی جیسے کوئی زمین پر رہ کر زمین دیکھنے کوشش کرتا ہو۔ یہ تو ہمارے رویت ہلال کمیٹی والوں کی انتھک محنت اور قابلیت ہے جو ”سینکڑوں“ شہادتوں کے بعد ہمیں چاند دکھا کر ہمیں ”عید“ سے فیض یاب کرتے ہیں۔ ویسے ہی پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی کا رکن ہونا اور پارلیمنٹ کا رکن ہونا گویا چاروں انگلیاں گھی میں اور سر قومی خزانہ میں ہے۔ یہ وہ ”فریضہ“ جس کے لئے ہر کوئی بے تاب ہے کہ ان کا ”کام“ تو بہت مشکل ہے لیکن مراعات بہت کم۔ ویسے ہمارے قومی خزانہ بھی سیاسی چال بازی کے آرٹیفیشل انٹیلجنس سے لیس ہے کہ جب ”بڑوں“ کی مراعات بڑھانی ہوتی ہیں تو یہ بھر جاتا ہے اور جب عوام کے لئے ریلیف دینی ہو تو یہ خالی ہوجاتا ہے۔
بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ ہم چاند پر رہ رہے ہیں اور خاص کر ہمارے شاعر حضرات تو اس حوالے سے بالکل بھی ”نا خبر“ ہیں کہ ہمیشہ سے اپنے محبوبوں کو چاند پر لے جانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ اپنے محبوبوں کو چاند سے تشبہ دیتے ہیں یعنی جہاں نہ پانی ہے نہ آکسیجن۔ تو گویا ہمارا ملک بھی ایک محبوب ہے جو ”رقیبوں“ کے ہاتھوں یرغمال ہے اور چاند پر لے جانے سے پہلے انہیں زمین سے رگڑ رگڑ کر ان کا برا حال کر دیا ہے۔
پیارا ملک پہلے ہی سے ”حلالی“ جنگ میں نقصان اٹھا چکا ہے لیکن ہر سال جو ”ہلالی“ جنگ لڑی جاتی ہے شاید اب اس کا سلسلہ رک جائے کیونکہ اب ہمارے لئے مزید ہلالی جنگ لڑنا ممکن نہ ہو کہ پھر عوام طعنہ دیں گے کہ ”ہمارا مشرقی پڑوس ہندوستان چاند پر پہنچا اور ہم سے چاند دیکھا نہیں جا رہا“ ۔ یاد رکھیں آج کے بعد یہ چاندنی جنگ ختم ہی سمجھے۔ کیونکہ ہم نہ مذہب پر یقین رکھتے ہیں اور نہ سائنس پر بلکہ اپنی بے وقوفی پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔
اب میاں صاحب کو ہی دیکھ لے ہمیں یقین دلا دلا کر تھک چکے ہیں کہ وہ لندن سے صرف اس ملک کو بچانے آئے ہیں ورنہ جبکہ ہر کوئی اس ملک سے بھاگنے کا سوچ رہا ہے لیکن ہمیں یقین نہیں آ رہا۔ اس ملک سے تو صرف ہمارے سیاستدان ہی محبت کرتے ہیں ہم چاند پر رہ رہے ہیں لیکن وہ اس ملک کے قریب ہی لندن اور دبئی میں اس ملک کی حفاظت کی خاطر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ اپنے پیارے بچوں کو چھوڑ کر وہ ان نامساعد حالات میں اس ملک کی ترقی کے لئے ”شبانہ روز“ ایک کیے ہوئے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ بس صرف ”شبانہ“ کے پیچھے خوار ہو رہے ہیں۔
ہم نہیں جانتے کہ امریکہ اور بھارت چاند کے پیچھے کیوں خوار ہو رہے ہیں۔ امریکہ بہادر زمین کو جہنم بنانے کے بعد چاند کو دوزخ بنانے کا ارادہ کیوں کیے ہوئے ہیں۔ ایک بھائی نے پوچھا کہ پھر ہندوستان کیوں اس دوڑ میں لگ گیا ہے تو میں نے کہا کیونکہ ہندوستان کے پاس لوگوں کو آباد کرنے کی جگہ نہیں۔ لیکن اگر وہ وہاں بھی ایسے دو ضرب دو کے حساب سے بڑھتے رہے تو چاند سالوں کے بعد وہ زمین پر بارش کی شکل میں زمین برستے رہیں گے۔
ہم ہر چیز میں غور و فکر کرتے ہیں لیکن کتنی بدقسمتی ہے کہ ہم یہ نہیں جانتے کہ ہم پاکستان میں رہ رہے ہیں یا چاند پر۔ کیونکہ ہمارے ہاں پانی نہیں ملتا جبکہ پاکستان میں تو پانچ دریا بہتے ہیں، ہمارے ہاں گیس نہیں ملتی جبکہ پاکستان میں تو گیس کے بڑے بڑے ذخائر ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ گاجر مولی کی طرح کٹ رہے۔ ایسی ہی جگہ جہاں آکسیجن نہ ہو، چاند پر بھی آکسیجن نہیں۔ چاند پر انسانی آبادی نہیں ہم بھی تو انسانی رویوں سے نا آشنا ہیں جیسے کبھی انسان دیکھا ہی نہ ہو۔ بس اللہ سے یہی دعا ہے کہ ہمیں واپس زمین پر پہنچا دے جہاں ہم انسانوں کی طرح انسانی معاشروں کا حصہ بن سکے اور وہ تمام سہولیات دستیاب ہو جو زمین والوں کو دستیاب ہیں۔


