نوجوان امریکیوں میں خود سوزی کے واقعات میں اضافہ: ’وہ دو زندگیاں جی رہا تھا، خود کشی کی منصوبہ بندی کے علاوہ منگنی کی انگوٹھی بھی خرید رہا تھا‘


ْبین
انتباہ: اس خبر کے بعض حصے قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔

کیتھرین اور ٹونی سالاس کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کا بیٹا ’بین‘ دو طرح کی زندگیاں جی رہا ہے۔

ٹونی کے مطابق ایک تو یہ کہ وہ خود سوزی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اور دوسری طرف وہ اپنی منگنی کی انگوٹھی کی خریداری کر رہا تھا۔

کیتھرین نے اپنی دکھ بھری ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہا کہ ’کاش وہ ہمیں یہ موقع دیتا کہ ہم اس کی کوئی مدد کر سکتے۔‘

یہ سب سے مشکل پہلو ہے کہ میں اس تمام عرصے میں اس حوالے سے اس سے کوئی بات کرنے کا موقع نہ تلاش کر سکی۔

21 برس کے بین نے گذشتہ برس اپریل میں خود سوزی کر لی تھی۔ وہ ایک ابھرتے ہوئے اولمپک ایتھلیٹ اور نارتھ کیرولینا سٹیٹ یونیورسٹی کے ہونہار طالبعلموں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ بین کے بہت سارے دوست تھے۔ اچھے تعلقات تھے اور بہت پیار کرنے والا خاندان تھا۔

بین گذشتہ برس امریکہ میں 50 ہزار خود سوزی کرنے والوں میں سے ایک تھے۔ یہ اب تک امریکہ میں کسی ایک سال میں خود سوزی کرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔

اس سے قبل امریکہ میں سنہ 2022 میں 49,449 افراد نے خود کشی کی۔

غم سے نڈھال ٹونی اور کیتھرین نے اپنے کمرے کے عین سامنے اپنے بیٹے کی یاد ایک ’یادگار‘ تعمیر کرائی ہے۔

اس دیوار پر بین کا یونیورسٹی کا ڈپلومہ سب سے اوپر لٹکا دیا گیا ہے۔

ٹونی کا کہنا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے بہت اچھی شخصیت کے مالک تھے۔ اب ہماری زندگی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو چکا ہے۔ ہمارے جسم کا ایک حصہ ہم سے جدا ہو گیا ہے۔‘

کیتھرین اور ٹونی

کیتھرین اور ٹونی

اب سوال یہ کہ بین نے خودکشی کیوں کی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب سالاس فیملی تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بین کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے ڈپریشن (ذہنی دباؤ) سے متعلق سنہ 2020 میں مختصر عرصے کے لیے زیر علاج بھی رہے اور پھر بین نے اپنے والدین کو یہ یقین دلایا کہ وہ اب بالکل صحت مند ہیں۔

ٹونی کا کہنا ہے کہ ایسے آثار موجود نہیں تھے جس سے یہ پتا چلتا کہ ایک بچہ ذہنی دباؤ جیسے مسئلے سے دوچار ہے۔ اسے بغیر علاج کے ہسپتال سے نہیں نکالا گیا تھا۔

بین اپنے والدین کے بہت قریب تھا۔ ان سے اکثر ہر موضوع پر بات کرتا تھا۔ ٹونی نے اپنے بیٹے کو اس کی خود سوزی سے پہلے بلا کر ملاقات بھی کی۔

’اس نے کہا کہ ’آئ ایم اوکے‘ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ اور اس کے دو گھنٹے کے بعد وہ ہم سے بچھڑ گیا۔‘

نارتھ کیرولینا سٹیٹ یونیورسٹی میں کئی افراد نے خود کشی کی ہے۔ گذشتہ تعلیمی سال میں بین سمیت سات طالب علموں نے خود سوزی کی۔ اس تعلیمی سال میں اب تک تین خود کشیاں ہو چکی ہیں، جن میں سے ایک جنوری کے آخر میں ہوئی۔

نارتھ کیرولینا سٹیٹ کے وسیع و عریض کیمپس میں مقیم اسسٹنٹ وائس چانسلر جسٹن ہولنگز ہیڈ کا کہنا ہے کہ خودکشیوں کی بڑی تعداد عملے اور طلبہ کے لیے یکساں طور پر بہت پریشان کن ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ امریکہ میں خودکشی ایک ’قومی وبا‘ ہے جو صرف کالج کیمپس تک محدود نہیں ہے۔

’اگر ہمیں وجہ معلوم ہوتی تو ہم اس مسئلے کو حل کر لیتے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے ہم بچنے یا اسے نہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ ان کے مطابق ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی انتباہی علامات نہ ہوں: افراد اپنے خاندان یا دوستوں کو نہیں بتاتے، وہ ایسی صورتحال سے نکلنے کے لیے کسی حل تک نہیں پہنچ پاتے اور پھر وہ ایک انتہائی اقدام اٹھا لیتے ہیں۔ اور ہمیں شاید ہی یہ پتا چلے سکے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔‘

اس ریاست نے کونسلرز اور ڈراپ ان سپیس کی تعداد میں اضافہ کیا ہے، کیو پی آر، کا ایک ایسا نظام متعارف کرایا ہے تا کہ طلبہ ان علامات کو پہچان سکیں کہ ان کے دوست یا کلاس فیلوز ایسی کی حالت سے دوچار ہیں تا کہ پھر وہ ان کی مدد کر سکیں۔

اور کیو پی آر ’سوال، قائل، حوالہ‘ کے نام سے ایک نظام متعارف کرایا ہے تاکہ طلبا ان علامات کو پہچان سکیں کہ ان کے دوست یا ہم جماعت جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

اس نظام کے تحت عملے کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ایسے طالب علموں کی نشاندہی کریں جو عادتاً لیکچر چھوڑ دیتے ہیں یا آخری تاریخ میں توسیع کی درخواست کرتے ہیں- اگر یہ علامات ہیں تو پھر یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔

جسٹن ہولنگز ہیڈ کہتی ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ہم ناقابل تصور حالات میں جو کچھ کر سکتے تھے ہم وہ پوری تندہی کے ساتھ کر رہے ہیں۔‘ گذشہ برس اس نظام کا مقصد کسی نہ کسی طور پر اس مشکل سے بحفاظت نکلنا تھا اور یہ مدد اور امید بہم پہنچانی تھی کہ آپ ایک زندگی کو بچا سکتے ہیں۔‘

نارتھ کیرولینا سٹیٹ

رالی کو ’دی سٹی آف اوکس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور این سی سٹیٹ کی سرخ اینٹوں سے بنی یونیورسٹی کی عمارتیں ان کے درمیان واقع ہیں۔ طلبہ یونین، جسے ’ٹیلی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کیفے، ’سٹڈی ایریاز‘ اور دکانوں کا ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے۔

ایک طالب علم لورلائی کا کہنا ہے کہ ’پہلے والے واقعے سے قبل میں ایک ہاسٹل کے کمرے میں تھا۔ ان کے مطابق ’میرے خیال میں ہماری عمر کے بہت سے بچوں کو دنیا کے بارے میں پریشانی ہوتی ہے۔ ایسی چیزیں جو مستقل بنیادوں پر اب بہتر نہیں ہو رہی ہیں اور زندگی کے اخراجات بھی بہت بڑھ گئے ہیں۔‘

کمپیوٹر سائنس کے ایک طالب علم بروڈی کا کہنا ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جانب سے اکثر بھیجی جانے والی ای میلز سے دستیاب ہونے والی مدد سے آگاہ ہیں۔

ان کے مطابق ’وہ ذہنی صحت کے مسائل پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔‘ دیگر یونیورسٹیاں، بہت سی مختلف ریاستوں میں، اسی طرح کے رجحان کا سامنا کر رہی ہیں۔

امریکہ میں صحت کے تحفظ کے ادارے ’سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول‘ کے مطابق خود کشی اب 35 سال سے کم عمر کے امریکیوں میں موت کی دوسری سب سے بڑی وجہ ہے۔

امریکہ

دماغی بیماری کے بارے میں نیشنل الائنس کی ایک ماہر نفسیات اور ایسوسی ایٹ میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر کرسٹین کرافورڈ کا کہنا ہے کہ کورونا کا وبائی مرض اس میں ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس (وبا) نے ہمارے نوجوانوں پر سماجی میل جول کی صلاحیت اور دیگر ذرائع سے آگاہی حاصل کرنے کے عمل پر اثر ڈالا ہے۔ وہ (اس وبا کے دوران) گھروں پر تھے، وہ اپنے ساتھیوں سے اور ان حالات سے منقطع ہو گئے تھے جو ایک نوجوان کی صحت مند نشوونما کے لیے بہت اہم ثابت ہوتے ہیں۔‘

ڈاکٹر کرافورڈ کے مطابق نوجوان لوگ جو اپنے ’گیجٹس‘پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ اس دوران انھیں جنگ کی تصاویر اور دیگر تناؤ والے پیغامات سے واسطہ پڑتا ہے جو اضطراب اور افسردگی کا باعث بن سکتے ہیں۔

دسمبر 2021 میں امریکی سرجن جنرل نے خودکشی کی کوشش کرنے والے نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں صحت عامہ کی ایک نادر ایڈوائزری جاری کی، جس میں سوشل میڈیا اور وبائی مرض کو الگ الگ کیا گیا، جس نے ’جوانوں کو پہلے سے ہی درپیش بے مثال تناؤ کو بڑھا دیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

امریکا میں 988 پر کال میں (خودکشی سے متعلق قومی ہیلپ لائن ہے، جس کے امریکہ میں 200 سے زیادہ مراکز ہیں) صرف گذشتہ برس ماہانہ 100,000 کالز کا اضافہ ہوا ہے۔

ریاست میری لینڈ کا ایک مرکز اس وقت اپنے 150 آپریٹرز کے عملے کو بڑھا رہا ہے، جو پہلے سے وہاں کام کر رہے ہیں۔

آپریٹر ہاوزے میلنڈز کا کہنا ہے کہ بہت سی کالیں ان نوجوانوں کی طرف سے آتی ہیں، جن کی عمریں 15 سے 35 یا 40 تک ہیں اور وہ یونیورسٹی کے طلبا ہیں۔

ان کے مطابق ’معیشت کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی فیس ادا کرنے کا دباؤ اور کئی عوامل سب کچھ جو ایک شخص کے لیے دباؤ کا باعث ہو سکتا ہے۔‘

بین

بین کی یاد میں گھر میں یادگاری دیوار

اب اگر بات پھر سے سالاس خاندان پر کی جائے تو کیتھرین اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ نوجوان مالی دباؤ سے نبرد آزما ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ایک حفاظتی نظام جو نسلوں سے چلا آ رہا ہے وہ ختم کر رہ گیا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ بہت سے نوجوان اس بارے میں بہت غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا مستقبل کیسا ہو گا۔‘

انھوں نے ایک بیج پہنا ہوا ہے جس پر ان کے بیٹے کی تصویر اور الفاظ ’یو میٹرز‘ درج ہیں۔

آنسوؤں کو سنبھالنے کی کوشش کے ساتھ کیتھرین کہتی ہیں کہ ’میں اسے ہر روز اپنے دل پر پہنتی ہوں، کیونکہ ’بین‘ اس کے اندر رہتے ہیں‘۔

وہ ڈپریشن کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا چاہتے ہیں جس پر ان کے بیٹے کا کنٹرول نہیں تھا۔

وہ دونوں کہتے ہیں کہ امریکہ میں دماغی بیماری کو بدنامی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ٹونی کا کہنا ہے کہ ’زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ ہمارے ساتھ ہو سکتا ہے، تو یہ کسی اور کے ساتھ ہوسکتا ہے۔‘

کیتھرین اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’آئی ایم اوکے‘ سن کر مطمئن نہ ہو جائیں۔ ایک ’اوکے‘ بس ’اوکے‘ کی حد تک ایک لفظ ہو سکتا ہے، لیکن اکثر (حقیقت میں) ایسا نہیں ہوتا ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32853 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments