تعصب، سٹیریوٹائپ اور امتیازی سلوک
پیچیدہ دنیا کو سمجھنے کے لیے انسانی دماغ کا یہی المیہ رہا ہے کہ وہ چیزوں کے درمیان مشابہت تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کوشش کبھی کارگر ثابت ہوتی ہے تو کبھی خونریزی کی شکل اختیار کرتی ہے۔ اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ اسی خوبی کی بدولت ہی انسان نے اپنے کاگنیشن کے مدارج طے کیے ہیں۔
دماغ کے سامنے والے حصے کو prefrontal cortex کہا جاتا ہے۔ اس حصے کا کام بشمول دیگر کاموں کے فیصلہ سازی کرنا، رائے بنانا اور مظاہر/واقعات کے گرد دائرہ کھینچ کر سابقہ مظاہر/واقعات کے ساتھ مشابہت تلاش کرنا ہے۔ یہ چیزوں کی درجہ بندی کرتا ہے اور اپنے محدود علم کی بنیاد پر مستقبل میں آنے والے واقعات سے اسے کنفرم کرتا ہے۔ نفسیات کی اصطلاح میں اسے confirmation bias کہا جاتا ہے۔ ہولے ہولے یہ گروپ بائس کی شکل اختیار کرتا ہے جسے بعد میں جا کر اِن گروپ بائس اور آؤٹ گروپ بائس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
ان گروپ بائس کا مطلب یہ ہے کہ کیسے ہم خود کو اور دوسرے لوگوں کو، پیاز کی پرت در پرت کی طرح، تقسیم کرتے ہیں۔ اپنے گروپ ممبرز کی حمایت اور عزت و احترام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دوسروں کی معمولی کوتاہی یا ذاتی غفلت کی اور اپنی غیر محفوظیت کی بنیاد پر عام تعمیم کرنے لگ جاتے ہیں۔ نسل، جنس، زبان اور علاقائی عصبیت کی یہ شکل بائس سے نکل کر پھر تعصب کی شکل میں سامنے آتا ہے اور اس تعصب کا اظہار پھر امتیازی سلوک کو وجود دے دیتا ہے۔ نتیجتاً بے سکونی اور بدامنی کی فضاء ہر سو پھیل جاتی ہے۔ اردگرد چیزیں پھر ویسی نہیں رہتی جیسی ہونی چاہیے ہوتی ہے۔
1994 میں روانڈا میں ایک عظیم خونریزی کی ابتدا ہوتی ہے جسے تاریخ میں روانڈا کی نسل کشی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ روانڈا کا اکثریتی ہوتو قبیلہ توتسی قبیلے سے خائف تھا کہ وہ ان کا سیاسی اور معاشی غلبے کو ان سے چھین لیں گے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہوتو کے زعماء توتسی قبیلے کے بارے منفی سٹیریوٹائپس پھیلاتے ہیں کہ وہ زیادہ با اختیار ہوتے جا رہے ہیں اور ہوتو قبیلے کا استحصال کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ingroup bias زیادہ گہرے تعصب کا شکل لیتا ہے اور دونوں قبائل کے مابین جنگ چھڑ جاتی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں آٹھ لاکھ توتسی مارے جاتے ہیں اور اس سے کچھ زیادہ ہی کم ہوتو قبیلے کے افراد۔ پاکستان کا وجود بھی اس طرز کے دنگے فسادات سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
اس بحث سے نتیجہ کیا نکلتا ہے؟
تعصب انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ اپنے شعور کے ابتدائی مراحل میں انسان کے لیے لسانی، نسلی، مذہبی، جنسی، علاقائی، نظریاتی اور پیشہ ورانہ تعصبات کو اپنے کنٹرول میں رکھنا مشکل تھا مگر اب چونکہ چیزیں بہترین طور پر نہ سہی بہت بڑے حد تک واضح ہو چکی ہے تو مزید کیوں منفی تعصبات کے گنگا میں نہایا جائے! جاہلیت کے ان بتوں کو خیر باد کہا جانا چاہیے اور معاشرے کی بہتری میں ہر رائے اور ہر نظریے کو خوش آمدید کر کے کھلے فکر و عمل سے اس پر بات اور عملی جامہ پہنانا چاہیے۔ یقین کریں، اجتماعی چیزیں پرسنل نہیں ہوتیں اور پرسنل چیزیں کبھی اجتماعی نہیں ہوتیں۔
آخری جملہ آپ کی توجہ کا کچھ زیادہ ہی احتیاج رکھتا ہے!


