امی نہیں مان رہیں
لڑکوں کا پسندیدہ بہانہ ”امی نہیں مان رہیں“ ریلیشن رکھتے اور آخر میں بہانا بنا کے چھوڑ جاتے۔ جب وہ اپنے ریلیشن سے بھاگنا چاہتے یا اپنی ذمہ داری سے بچنا چاہتے پھر اسے بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے رشتہ ختم کر دیتے۔
پہلے سبز باغ دکھاتے بڑے بڑے وعدے کرتے جب تک سب کچھ اچھا چل رہا ہوتا تب تک لڑکوں کی طرف سے محبت کے نعرے با آواز بلند لگ رہے ہوتے لیکن جیسے ہی لڑکیاں کہتیں کہ اب ذرا محبت کو ازدواجی زندگی کے روپ میں ڈھال لیا جائے تو اکثر یہ نعرے تھم سے جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنی نام نہاد محبت کو جاری رکھنے کے خواہشمند نہیں رہتے اور بہانے تلاش کرنے لگ جاتے اس کو ختم کرنے کے۔ جیسے کہ دعویٰ کرتے امی نے استخارہ کیا اور ٹھیک نہیں نکلا اب ہمارا رشتہ ہونا ناممکن ہے اس طرح کے بہانوں کا استعمال کرتے ہوئے لڑکیوں کو اپنا اور شاید اپنے خاندان کا اصل چہرہ دکھاتے اور ان کی زندگی سے رخصت ہو جاتے بغیر سوچے کہ اس کے بعد کیا بیتے لڑکی پر۔
ایسے ہی میری ایک دوست کی کہانی ہے وہ یونیورسٹی ایڈمشن لیتی۔ اس کی ایک لڑکے سے بات ہوئی دونوں ایک دوسرے کی طرف مائل ہوئے اور ریلیشن شپ شروع دو سال وہ ساتھ رہے پھر دو سال بعد لڑکا ملک سے باہر چلا گیا میری دوست سے یہ وعدہ کر کے کہ واپس لوٹنے پر پہلا کام شادی کرے گا اور اس کو ایسی زندگی دے گا جس کی ہر لڑکی خواہشمند ہوتی ہے۔
ایسے ہی چار سال گزر گئے وہ لڑکا میری دوست سے رابطے میں رہا ساتھ جینے مرنے کے وعدے بھی ہوتے رہے لیکن واپس آنے پر جہاں اس محبت کو میاں بیوی کے رشتے میں بدلنا تھا وہاں لڑکے کی ماں کا کیا ہوا استخارہ اس کی چار سالہ محبت پر بھاری پڑ گیا۔ امی کا استخارہ ٹھیک نہیں آیا ہمارا رشتہ مزید نہیں چل سکتا یہ محض ایک بہانہ تھا جس نے اس لڑکے کی چار سالہ محبت کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا اور وہ لڑکا اُڑ گیا میری دوست کی زندگی سے آوارہ پنچھی کی طرح۔ اب اس لڑکی پر کیا بیتی یہ وہ جانے اس کا خدا جانے اندازہ اس بات سے لگا لیں کے خودکشی کی ناکام کوشش وہ کر چکی ہے۔
ایسے ہی ہمارے معاشرے میں بہت سی کہانیاں ہیں نوجوان لڑکیوں کی جن کو محبت کے بدلے دھوکے ملتے۔ اس وجہ سے وہ اپنی زندگی برباد کر لیتی ان کو اپنا جینا ہی بے معنی اور بے مقصد لگتا اور اپنے آپ کو ڈپریشن جیسے مرض میں مبتلا کر لیتیں۔ تو لڑکیوں سے گزارش کروں گی کہ وہ اپنی زندگی کا کنٹرولر اپنے ہاتھ میں رکھیں کٹھ پتلی نہ بنیں۔ آج کے دور میں کسی ایرے غیرے لڑکے سے محبت میں آ کر یہ توقع رکھنا کہ وہ آپ کو ایک اچھا لائف سٹائل دے گا، آپ کو باہر لے جائے گا اور باہر کی دنیا دکھائے گا۔
جواز ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آپ خود بھی سب کر سکتیں ہیں۔ باہر آپ خود بھی جا سکتیں ہیں اور خود بھی اچھا کما سکتیں ہیں۔ ہمیں اپنے وقت کی قدر کرنی چاہیے جو ایک قیمتی چیز ہے اور اس کو ایسے شخص کے لیے نہ ضائع کریں جو اس کا حقدار نہ ہو۔ اگر کوئی آپ کے ساتھ مخلص ہو گا وہ ضرور کوشش کرے گا آپ کے ساتھ زندگی بنانے کی اگر ایسا نہیں تو آپ اپنے آپ سے پیار کریں اس میں استخارے یا امی نہیں مان رہیں کے نام پر دھوکا نہیں ملے گا۔


