غیر پیشہ ورانہ سیاسی روّیے بمقابلہ پیشہ ورانہ غیر سیاسی روّیے


پیشہ ورانہ روّیے غیر سیاسی ہوں گے اور سیاسی روّیے غیر پیشہ ورانہ ہوں گے، بیک وقت دو کشتیوں میں سواری ممکن نہیں۔ پیشہ ورانہ روّیوں کو سمجھنا مشکل نہیں اور سیاسی روّیوں کو سمجھنا آسان نہیں۔ مجھے بہت وقت لگا۔ سمجھ میں یہ آیا کہ سیاسی نظریہ رکھنا ایک بات ہے اور اس نظریے کی بنیاد پر سیاست کرنا الگ بات ہے۔ یہ بھی سمجھ میں آیا کہ جب سیاسی مفادات وابستہ ہوتے ہیں تو نظریہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے، غائب ہوجاتا ہے، اڑن چھو، اب نظریہ کہیں نظر نہیں آتا۔

ایک دفعہ واقعی بینک میں تنخواہ نہیں آئی۔ سمیسٹر بریک تھا بینک سے صدر ِ شعبہ کو فون کیا، انہوں نے کہا میں شعبے میں موجود ہوں آپ آجائیں۔ شعبے میں پہنچی، صدر ِ شعبہ نے کہا کہ رئیسہ کلیہ فنون کے پاس چلتے ہیں جو ہمارے شعبے کی ہی استاد تھیں۔ میں نے کہا چلیں، دفتر کلیہ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مڑ کر فرمانے لگے کہ آپ کا تو بڑا پروٹو کول ہے، میں نے جواب دیا نہیں نہیں سر میرا کیسا پروٹوکول۔ ان کا یہ کہنا اس امر کی جانب اشارہ تھا کیوں کہ ہم کسی عہدے دار کو سلام کرنے نہیں جاتے، ان کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں بنوانے کا شوق نہیں رکھتے۔

دفتر میں جاکر بیٹھے، وہاں پہلے سے ہمارے شعبے کے ایک اور استاد موجود تھے جو بعد میں جامعہ کراچی چلے گئے تھے۔ اب وہاں صدر ِشعبہ مختلف کہانیاں سنا رہے ہیں۔ میں سن رہی ہوں اور سوچ رہی ہوں کہ اس وقت یہ کیوں سنا رہے ہیں اور میرے وہم و گمان میں بھی نہیں کہ مجھے سنا رہے ہیں، مثلاً فلاں نے تنگ آ کر نوکری چھوڑ دی، فلاں کی اتنے عرصے تنخواہ نہیں آئی، فلاں مر گئی یا مر گیا۔ پھر اچانک صدر ِشعبہ نے مجھ سے کہا کہ آپ یہ نہیں سمجھیے گا کہ یہ ہم آپ کو سنا رہے ہیں، جیسا کہ میں نے ابتدائی سطور میں لکھا کہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، لہٰذا جواب بھی اس کے مطابق نکلا، میں نے کہا ”نہیں نہیں سر! میں بالکل ایسا نہیں سمجھ رہی (اس کے بعد اگلا جملہ میرے منہ سے نکلا وہ یہ کہ) اور میں اگر مروں گی تو ایک آدھ کو مار کر ہی مروں گی (غیر محسوس و غیر ارادی طور پر اس وقت میری نظریں رئیسہ کلیہ فنون پر تھیں ) ۔ اس پر ہمارے شعبے کے پہلے سے موجود اُستاد صاحب نے ہنستے ہوئے کچھ کہا جو یاد نہیں لیکن میرے جواب پر ہی کچھ تھا۔ پھر صدر ِ شعبہ نے رئیسہ سے کہا کہ اکاؤنٹ سیکشن فون کریں، انہوں نے فون صدرِ شعبہ کی جانب بڑھا دیا، مسئلہ حل ہو گیا۔ آج میں اس واقعے پر غور کرتی ہوں تو کوئی سر پیر سمجھ میں نہیں آتا سوائے اس کے کہ وہ تینوں خاتون و حضرات سیاسی مزاج کے حامل تھے اور مجھے سیاسی روّیے اور لوگ ککھ پلّے نہیں پڑتے تھے اور اب جب کہ سیاسی سوچ کے حامل افراد کو پہچاننے لگی ہوں تو ان کے روّیے بھی سمجھ میں آنے لگے ہیں۔

سیاسی ماحول پیشہ ورانہ نظم سے عاری ہوتے ہیں۔ سیاسی ساتھیوں کو جو سہولت مل رہی ہوگی وہ غیر سیاسی کو نہیں ملے گی، مخالف کی تو بات ہی کیا، اس سے شعبے میں اس کے لیے جو ماحول بنتا ہے وہ خاصا اعصاب شکن ہوتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے ایسی ہی ذہنی کیفیت تھی کہ میں یونی سے اپنے گھر کے دروازے پر رکشے سے پہنچی ہی تھی کہ ذہن میں خیال آیا (آج اس جملے پر توبہ کرتی ہوں ) کہ ’بھاڑ میں گئی یہ نوکری، کچھ اور کرلوں گی‘ ۔

مجھے اب تک یاد ہے کہ اس دن بچوں کو کھانا کھلانے کے بعد فارغ ہو کر بستر پر لیٹی تو قرات العین حیدر کا ناولٹ ’سیتا ہرن‘ اٹھایا، یہ پارہ نظروں کے سامنے تھا، ”وہ جو سیاست میں عملی طور پر حصہ لیتے ہیں۔ سیاسی مقاصد کی ضرورت دشمنوں، ساتھیوں اور غیر جانب دار فریقین کی گروہ بندی کا تعین کرتی ہے غیر سیاسی انسانوں کی طرح محض ذاتی پسندیدگی کی بنا پر دوستیاں استوار نہیں کی جاتیں۔ شہزادے! سیاسی مقاصد کی وجہ سے دوست دشمن ہیں اور دشمن دوستوں میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ حکمت ِعملی سارے پرانے بندھنوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتی ہے۔ جس طرح انسان اپنی موجودہ زندگی میں اپورب جنم کی باتیں بھول جاتا ہے ۔ “

اس پیراگراف نے میری رہنمائی کی اور میں نے سوچا میں کیوں میدان چھوڑوں، یہ لوگ تو چاہتے ہی یہ ہیں۔ پھر ایک خاتون سے ملاقات یاد آئی انہوں نے جامعہ کراچی کی نوکری چھوڑ دی تھی، میں نے کہا! آپ نے کیوں نوکری سے استعفیٰ دیا؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ مجھ اکیلی نے نہیں بلکہ ان کے ساتھ دو تین لوگ اور تھے جنہوں نے احتجاجاً صورت حال سے نالاں ہونے کا اس طرح سے اظہار کیا۔

میں نے ابھی پیشہ ورانہ نظم کی بات کی، وہ ابتدا سے نظر نہیں آیا۔ جو پورے پورے سمیسٹر اساتذہ کلاس نہیں لیتے ان کے خلاف طالب علم بھی نہیں جاتے۔ یہ ماحول ایک دوسرے کی کمزوریوں کو نظر میں رکھنے اور بوقت ضرورت اس سے فائدہ حاصل کرنے یا اس پر وار کرنے کا ماحول ہے۔ عبدالحق کیمپس کی تاریخ میں سب سے زیادہ سیاسی اثر و رسوخ کے حامل گروہ کے سرکردہ اساتذہ میں ہمارے صدر ِ شعبہ سے ایک مرتبہ میں نے اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مجموعی صورتِ حال کی جانب توجہ مبذول کرائی تو انہوں نے جواب میں کہا کہ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں لیکن قانون جس کے خلاف حرکت میں آ گیا آ گیا۔

میرے خلاف قانون کو حرکت میں لانے والے کون تھے؟ کس کو اس وقت قانون یاد آتا تھا؟ جب کوئی خود اصولوں کے مطابق چلنا چاہتا ہے اور کہیں کسی وجہ سے کوئی کوتاہی سرزد ہوجاتی ہے، بس وہیں قانون حرکت میں آ جاتا ہے ، کیوں کہ سیاسی لوگ اس پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ خواتین کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، صدر ِ شعبہ واقف رہے ہیں اور خواتین کے حقوق کے بڑے داعی بھی ہیں، لیکن پھر وہی بات کے سیاسی بساط بچھانے اور کھیلنے والوں کے کھیل کے اپنے ہی بنائے ہوئے اُصول ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS