ایک شہر کی کتھا کا قصہ خواں
یہ ستمبر 2010 کا ذکر ہے۔ نیشنل سکول آف پبلک پالیسی لاہور میں آٹھویں سینئر مینجمنٹ کورس ( ایس۔ ایم۔ سی) کا آغاز ہوا۔ اس بار شرکاء کی تعداد سب سے بڑھ کے تھی یعنی 131۔ وفاقی سول سروس، صوبائی سول سروسز اور دوسرے اداروں کے وہ افسران جو گریڈ انیس میں ایک بڑے عرصے تک ملک و قوم کی خدمت کرتے کرتے نڈھال ہو چکے گریڈ بیس کے تازہ چمن میں حیاتِ نو کا سرور پانے کو بے چین تھے۔ اب اتنے سینئر ہو چلے تھے کہ اگلے گریڈ میں ترقی کے حقدار سمجھے جانے لگے تھے اور اسی بناء پہ اوکھے سوکھے یہ کورس کر رہے تھے۔
بظاہر یہ شرکاء۔ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، کا نظارہ پیش کرتے دکھتے تھے لیکن حقیقت بہ الفاظِ فیض کچھ ایسی تھی کہ۔
ع۔ یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے۔
دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ ان شرکاء کو اگر ستارے کہا جائے تو سارے ایسے نہ تھے کہ چمکتے دمکتے پائے جائیں۔ ان میں اپنے جیسے بھی تھے کہ بس ٹمٹماتے سمجھیں اور کچھ رانا عبدالوحید جیسے بھی کہ جن کی مثال قطبی تارے جیسی تھی۔
اس ٹمٹماتے تارے کا قطبی تارے سے ہلکا پھلکا ملاکھڑا ابتدائی دنوں میں ہی ہو گیا۔ انہوں نے گروپ میں ایک دن کسی موضوع پہ بات کرتے ہوئے ایک شعر پڑھا جس میں کچھ جھول تھا۔ میرے اندر دبکے بیٹھے ماہرِ اردو ادب نے بکل اتار کے مجھے چٹکی کاٹی اور ترغیب دی کہ دبدبہ بٹھانے کا اچھا موقع ہے۔ چنانچہ میری ٹمٹماہٹ جگمگاہٹ میں بدلی اور میں نے وزن کا مدا اٹھاتے ہوئے شعر کی تصحیح کر دی۔ رانا صاحب نہیں مانے۔ بولے شعر ایسے ہی درست ہے جیسے میں نے پڑھا ہے، اگر آپ پھر بھی نہیں مانتے تو آئیے تقطیع کر لیتے ہیں۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ بندہ شکل و شباہت اور قد کاٹھ سے بھی با رعب تھا اور اردو تو اردو انگریزی بھی نستعلیق بولتا تھا۔ میں حیران تھا کہ حضرت نام سے تو ”نیاز مندانِ لاہور“ کے میمنہ یا میسرہ کے چابک سوار لگتے ہے لیکن عروض کی مہارت کا دعوی ایسے کر رہے ہیں جیسے گنگا جمنا کے قرب و جوار کے باسی ہوں۔ بہر حال بات کو نہ بڑھانے کا فیصلہ کر کے میں خاموش ہو گیا۔
اس کھٹ مٹھے سے آغاز کے بعد بجائے اس کے کہ ہم ایک دوسرے سے کھنچے کھنچے رہتے ہم میں قربت بڑھنے لگی۔ اس کی بنیادی وجہ دونوں کا ہم نام ہونا نہیں بلکہ ہم ذوق ہونا تھا۔ اس تعلق نے میرے لیے کیمپس کے ماحول کو دلکش بنایا اور ساتھ ساتھ ان کی لاہور میں اچھی ہیلو ہائے ہونے کی وجہ سے اپنی شامیں بھی شگفتہ ہونے لگیں۔ انہوں نے پی ٹی وی لاہور کے جنرل مینیجر فرخ بشیر جی سے تعارف کرایا تو ایک مکمل شام پی ٹی کے بہت سے باذوق اہلکاروں کی موجودگی میں موسیقار وزیر افضل کے ساتھ گزری۔
اسی طرح دسمبر کے آخری عشرے میں میڈم نورجہاں کی برسی کے حوالے سے پی سی میں ایک پروگرام ریکارڈ ہوا تو اس میں بھی شرکت ممکن ہوئی۔ میڈم کے بارے میں جب بھی سوچو تو یہ خیال آتا ہے کہ کیا بھاگ تھے ان کے کہ جن کی بدولت ایسے ایسے لوگ شہرت پا گئے جو کوئی خاص پہچان نہ رکھتے تھے۔ سول سرونٹ خالد حسن کی مثال ہی لے لیں۔ اگر انہوں نے میڈم کا مشہورِ زمانہ انٹرویو نہ لیا ہوتا تو بہت سے دوسرے سول سرونٹس کی طرح ان کی زندگی کا معاملہ بھی بقول اکبر الہ آبادی کچھ ایسا ہی ہوتا۔
کیا کہوں احباب کیا کارِ نمایاں کر گئے
بی اے کیا نوکر ہوئے پنشن ملی اور مر گئے۔
لیکن اس ایک انٹرویو نے انہیں دفتر، کاغذ اور قلم کی دنیا کی بجائے طوطیوں، قمریوں اور عندلیبوں کا ہم نشیں ہونے کی شناخت دے دی۔
جنوری 2011 میں ہمارے کورس کے اختتام کے بعد اسلام آباد میں ہماری ایک ادھ ملاقات ہی ہو پائی کہ پہلے میں پولیس کالج ہنگو میں کمانڈنٹ تعینات ہوا اور اس کے بعد بلوچستان تبادلہ ہو گیا۔ میں 2017 اپریل میں پنشن یاب ہوا۔ اس دوران رانا صاحب بھی اپنی نوکری کی دکان بڑھا چلے تھے۔
پھر چند سالوں بعد ان کی کتاب ”ایک شہر کی کتھا“ کی اقساط کی شکل میں فیس بک پہ رونمائی شروع ہوئی۔
نظم ہو یا نثر نیا اندازِ بیاں ایجاد کرنا اور پھر اسے نبھانے میں بھی کامیاب ہو جانا ایسا کارِ آساں نہیں۔ کہتے ہیں فلم ”خاموشی“ کے لیے گلزار کا یہ مقبول گیت جب سامنے آیا۔
ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو ہاتھ سے چھو کے اسے رشتوں کا الزام نہ دو۔
تو بہت سے ہم عصر گیت نگاروں نے اس پہ ناک بھوں چڑھائے۔ کچھ نے تو یہاں تک بھی کہا کہ یہ گیت کم اور چٹکلا زیادہ ہے۔
عبدالوحید رانا جو کتھا سناتے ہیں اس میں ایسے دلپذیر جملے پڑھنے کو ملتے ہیں کہ سریرِ خامہ کو نوائے سروش کہے بغیر چارہ نہیں۔
زیادہ حوالوں کی ضرورت نہیں۔ حال ہی میں شائع ہونے والی دو اقساط سے منتخب کردہ شیریں بیانی ملاحظہ ہو۔
” میں اور میرا دوست روزے رکھتے۔ سارا دن بھوکے رہتے۔ دوپہر کو ظہر کی نما از سے آغاز کرتے اور تراویح تک مسجد کے برآمدوں کے چکر لگاتے رہتے۔ مسجد جائے سکون تھی، جائے نجات نہیں۔ نجات ہمیں درکار کب تھی۔ ہم تو جینے آئے تھے۔ زندگی سے بھاگنے کے خیال نے ابھی تک جنم نہیں لیا تھا۔“
”ابا جی ٹرین کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ انہیں سٹیشن کی چائے بہت پسند تھی۔ چکلالہ سے راولپنڈی تک کا سفر چند منٹوں کا تھا مگر وہ اس کا آغاز چائے پی کر کرتے اور یہی عمل واپسی پر بھی دہراتے۔ یہ ایک ایسے شخص کا معصوم رومان تھا جو زندگی سے بہت کم کا طلب گار تھا۔ اسے خوش ہونے کے لیے کسی سٹیشن پر قائم چھوٹے سے کھوکھے کی چائے کا صرف ایک کپ درکار تھا“ ۔
اگر ہم گلزار کے ناقدین کی پیروی کریں تو رانا عبدالوحید جی کی تحریر کے یہ ٹکڑے نثر کم اور چٹکلے زیادہ ہیں لیکن اگر خدا لگتی کہی جائے تو یہ مہکتے میٹھے مستانے زمانوں کی یادوں کا بیان اور ایک پر لطف زندگی کا نوحہ ہے جو ہماری بے ہنگم تیز گامی کے سبب کہیں کھو کے رہ گئی۔


