افسانہ
جون کی کہر مچاتی گرمی کا زور آخرکار اس برس کی وقت سے پہلے آ جانے والی مونسون کی پہلی بارش نے توڑ ڈالا تھا۔ بادلوں کے بیچوں بیچ راہداری بناتی بجلی نے کڑک کڑک کے ان بادلوں کے جھرمٹ سے بھاگ نکلنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ رات کالی تھی اور میرے ذہن کے کورے کاغذ پہ بجلی نے کوئی نئی حکایت رقم کرنا شروع کر دی تھی۔
ہوسٹل کے کمرے میں بیٹھی خالی ذہن سے کتاب کے اوراق چھانتے ہوئے جب مٹی سے اٹا ہوا کا جھونکا کھُلی کھڑکی سے اندر آیا تھا تو مجھے موسم میں بدلاؤ کا احساس ہوا۔ کرسی سے اٹھ کر میں فروا کے بیڈ کی دوسری جانب کھُلی کھڑکی کے کواڑ کو گھسیٹ کے بند کرنے ہی لگی تھی کہ بارش سے بھیگی ہوئی مٹی کی خوشبو نے مجھے آندھی کے گزر جانے کا پیام دے کر چُکنا کیا اور کہا کہ ”کھڑکی بند کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں اب نہیں اُڑ سکتی۔ بارش کی بوندوں نے میرے پَر بھاری کر دیے ہیں“ اور تبھی بجلی نے کڑک کے بادلوں کی سلاخیں توڑ کر وہاں سے بھاگ نکلنا چاہا۔
میں فوراً لپک کے دروازے کی جانب بڑھی تاکہ ہاسٹل کی ساتویں منزل پہ جا کر کھُلے آسمان تلے بجلی اور بادل کا یہ تماشا دیکھ سکوں۔ مگر بجلی بند تھی جس وجہ سے لفٹ بھی بند تھی اور میں نے اپنی سُستی کا ساتھ دیتے ہوئے اوپر جاتی سیڑھیوں کو مایوسی سے دیکھا اور واپس کمرے کی جانب مُڑ گئی۔
کھُلی کھڑکی کی مسکراہٹ نے اور وہاں سے جھانکتی مسکراتی ہوا نے مجھے اس جانب کھینچ لیا اور میں کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔
ہاسٹل کے ساتھ ہسپتال کی عمارت بھی بارش سے بھیگ چکی تھی۔ ہسپتال کی چھت پہ چند لڑکے بارش کا مزا لے رہے تھے۔ ان کے کالے سائے اور اس اندھیرے میں بجلی چمکنے سے بننے والی ہولناک شکلیں بھی ان کی خوشی کو چھُپا نہ سکی تھیں۔
انھیں دیکھ کر یک دم میرا جی چاہا کہ رات کے اس پہر مال روڈ کی چلتی ٹریفک تھم جائے اور میں بارش سے دُھلی اس سڑک پہ ننگے پَیر چل سکوں۔ ہر گاڑی میں بیٹھے شخص اور خاندان کو کھڑکی سے جھانک جھانک کر مون سون کی پہلی بارش کی مبارک دے سکوں۔ میرا جی چاہا کہ میں اُس سڑک پہ بھاگتی بھاگتی اس کے کنارے کھُلی ہوئی ہر دُکان، ہر آئس کریم پالر میں جا کر گھروں سے نکلے لوگوں کے چہروں پہ خوشی کی وہ پھانک دے سکوں جو صرف پہلی بارش مہیا کر سکتی ہے۔ میرا جی چاہا کہ میں کسی دُکان سے جا کر چھتری خریدوں کیونکہ لاہور کی بارش کا کیا بھروسا۔
مگر ہاسٹل کا گیٹ دس بجے کے بعد بند ہو جایا کرتا ہے۔ لڑکیاں باہر نہیں نکل سکتیں۔
اور میں نے ذہن کی اس بھول بھلیوں سے نکل کر جب کھڑکی کی سلاخوں سے باہر جھانکا تو مجھے اپنا آپ بادلوں میں دبکی ہوئی بجلی کی مانند لگا جو بادلوں کی گرج سے خوف کھا کر چمکنا بھی بھول چکی ہے کہ جس میں اب کوئی آگ کوئی چنگاری نہیں بچی ہے۔
یک دم بجلی آئی اور ہسپتال کے پیچھے کے بلب نے جل کر میرے اندھیرے میں غرق، چھپے ہوئے وجود کو ہلکا سا روشن کر دیا۔
ہسپتال کی چھت پہ کھڑے بارش میں بھیگے لڑکوں کو شاید میرا سایا دکھ گیا تھا جبھی وہ مِل جُل کر ایسی حرکتیں کر رہے تھے کہ میں ان کی طرف متوجہ ہو جاؤں۔
حالانکہ میں تو پہلے سے ان کی طرف ہی متوجہ تھی۔ مگر شاید وہ اور قسم کی توجہ چاہتے تھے۔ وہی توجہ جس کے لیے وہ سارا رمضان سحری کے انتظار میں ایمرجنسی لائٹس لے کر ان کی طرف کھلنے والی لڑکیوں کے کمروں کی کھڑکیوں میں روشنی مارتے تھے۔
لڑکیاں کھڑکیاں بند اور پردے آگے کر دیا کرتی تھیں۔ مگر آج اندھیرے کی آڑ لیتے اور ایمرجنسی لائٹ کے نہ ہونے کے باعث شیر ہوتے ہوئے میں اپنی جگہ پہ ڈٹی رہی۔
کیونکہ وہ بارش کی بوندوں کا مزا لے رہے تھے تو میں کیوں ہوا کی روانیوں سے محروم ہوتی۔ میں کیوں کھڑکی بند کرتی۔
ہوا کا زور بڑھتا گیا اور میرے بال ہوا اور گرد کے جمنے کے باعث اکڑ گئے۔ ہر چند ساعتوں بعد بجلی کی کوئی باغی بیٹی کڑکتی مگر چُپ کروا دی جاتی۔
اور میری نظریں ہسپتال کی نچلی چھت پہ کھڑے پانی اور اس میں گرتی بوندوں پہ جم گئیں۔ اور میرے ذہن کے کورے کاغذ پہ بجلی نے ایک اور حکایت رقم کرنا شروع کی جس کی داستان کچھ یوں تھی۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لاہور شہر سے چند میل دور ایک ڈیرہ آباد تھا۔ وہ ڈیرہ کوئی دس یا بارہ گھروں، ایک مسجد اور بہت وسیع و عریض زرعی زمینوں پہ مشتمل تھا۔
راوی تب لاہور کے بیچوں بیچ گزرتا تھا۔ اور اس کے اردگرد جنگلوں کا غلاف تھا۔ اب جہاں کہیں جنگل ہو وہاں جنگلی جانور تو لازماً ہوا کرتے ہیں۔ اور اکثر اوقات جہاں جنگلی جانور آ جائیں وہ آبادیاں بھی جنگل بن کر رہ جایا کرتی ہیں۔
اس ڈیرے پہ زندگی آسان تھی۔ زمینوں پہ کام کرنے والے چند کسان اور ان کے گھرانے۔ ہر کوئی دن گزارنے کے نِت نئے ذریعے تلاش کرتا اور اسے کافی آسانی سے مل بھی جاتے۔ لہذا ہر کوئی مصروف تھا۔
مگر ایک دن وہاں کی آسان اور توے کے پھولے ہوئے پھُلکے جیسی ہلکی سی زندگی نے ایک سخت موڑ لیا۔
ایک کسان کی بیٹی کھیتوں کے پار اپنے باپ کو کھانا دینے جا رہی تھی کہ ایک بھیڑیے نے اس پر حملہ کیا۔ اسے چیر پھاڑ کر کھا گیا اور خون کے سرخ دھبے گندم کی سنہری ڈالیوں پہ نشانی کے طور پہ چھوڑ گیا۔ یہ خبر ایسے پھیلی جیسے جنگل کی آگ۔ لوگ خون کے وہ دھبے باری باری دیکھنے آتے اور یہاں تک کہ دو سے تین دن میں پورا ڈیرہ وہ دھبے دیکھ چکا تھا۔
چند روز خوف و ہِراس کی گِروی میں گزرے اور لوگ پھر بے فکر ہو گئے جب تک کہ اس بھیڑیے نے ایک اور شکار کیا۔
دن گزر رہے تھے اور بے بس لاچار لوگوں میں خوف و ہِراس بڑھ رہا تھا۔ بھیڑیے نے جب ڈیرے کی پانچویں لڑکی کا شکار کیا تو لوگوں نے گھروں کے دروازوں کے تالے مضبوط کر لیے اور شام گئے ہی ہر گھر میں کواڑ چڑھ جانے لگے۔ ماں باپ اپنی عزتوں کی زندگی بچانے کے خاطر اپنی بیٹیوں کو گھر میں قید رکھنے لگے۔ اور آہستہ آہستہ یہ رواج بڑھتا گیا مگر ساتھ ہی ساتھ بھیڑیے کی بھوک بھی۔ اب شکار لڑکے بنے اور یہاں تک کہ سارا ڈیرہ گھروں میں قید ہو کر رہ گیا۔
چند ہفتوں بعد کسی مسافر کا گزر جب اس گاؤں سے ہوا تو ایک عجیب بدبو نے اس کے حواس باختہ کر دیے۔ اس نے دیکھا کہ تمام فصلیں سوکھ چکی تھیں اور ہر جگہ خشکی تھی۔ وہ تجسس کا مارا ڈیرے کے رہائشی علاقے کی طرف بڑھا تو وہاں موت کا سا سناٹا تھا۔ گھروں کے دروازے بند اور ہوا میں خوف چھایا ہوا تھا۔ اُس نے جس بھی گھر کے دروازے پہ دستک دی وہ اندر سے بند تھا۔ آخرکار اس نے ایک دروازہ کھُلا پایا اور اس گھر میں دیکھا کہ وہاں لاشیں پڑی تھیں۔ بستروں پہ ایسے دراز تھیں جیسے انھیں بھی ابھی تک اپنی موت کی خبر نہ ملی ہو کہ وہ مر چکی ہیں۔
وہ چیختا چِلاتا خوف سے ہراساں اس ڈیرے سے دوڑ گیا۔
اس ڈیرے کے تمام رہائشی شاید یہ سوچتے ہوئے مرے ہوں گے کہ ان کی موت اس بھیڑیے کو بھوکا رکھ رکھ کے آخرکار مار دے گی مگر انھیں خبر نہیں تھی کہ اس کا شکار اب اگلا ڈیرہ ہو گا۔
میرے ذہن نے کروٹ لی اور ڈیرے کے ایک بستر سے جیسے میری لاش نیچے گری اور حقیقت میں آ پہنچی۔ میری نظریں اپنے سامنے تالہ لگی کھڑکی کی سلاخوں پہ جم گئی۔ اور میں سمجھ گئی کہ میرے ذہن اور روح کی موت بھی اسی کسی ڈیرے میں خوف کے مارے ہو گئی تھی۔ اور میں اس کمرے کے اندر ہاسٹل سے باہر جانے والے تمام دروازوں کے بند ہو جانے کے بعد تحفظ کے جھوٹے دلاسوں میں نیم زندگی کی حالت میں معلق ہوں۔
لیکن ہم یہ نہیں سمجھ پاتے کہ باہر جانے والے دروازے بند کر بھی دیں تو بھیڑیے گھر کے اندر پیدا ہونے لگتے ہیں۔ بھیڑیے کو باندھ کر دیکھیں؟ شاید سو شکاروں کو باندھ دینے سے بہتر اور آسان ایک بھیڑیے کو باندھ دینا ہو۔
ہسپتال کی چھت خالی ہو چکی ہے۔
شاید بھیڑیے کسی اور ڈیرے پہ شکار کرنے نکل پڑے ہیں۔


