خیراتی ہجومیہ، فتاویہ، پلاٹستان

پاکستان اور اسرائیل نظریات کی بنیاد پر بنے۔ اسرائیل نے زوال سے ترقی کا سفر طے کیا جبکہ ہم نے زوال آمادہ قوم کی حیثیت سے شروعات کیں اور زوال پذیری کی حد کو عبور کرنے کے بعد بڑی کامیابی سے زوال یافتہ قوم کے اعزاز کا گولڈن بٹن بھی پا لیا۔ ادھر انڈیا نے آزادی لی تو ہم نے محض پاکستان حاصل کیا جبکہ انگریز بھی ہماری مزید ذمہ داری اٹھانے سے آزاد ہوا۔ ایک طرف ہم نے خودی کو بلند کیا تو دوسری طرف بے لگام آبادی میں اندھا دھند اور بلا ضرورت اضافہ کرتے رہے۔
مذہب اور سیاست میں اپنے اپنے سچ کو پروان چڑھایا تو نظریہ، مذہب، مساوات، اخوت اور ترقی نو دو گیارہ ہوئیں۔ محض ریوڑ بچا تو ڈنڈا برداروں نے ہانکا اور ریوڑ کے مالک بن بیٹھے۔ سو اب یہاں خیرات، گداگری، بے مہار ہجوم، فتویٰ ساز فیکٹریوں اور پلا ٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں بچا۔ مذہب اور ریاست کے نام پر خوف بِکا۔ اللہ اور اللہ والوں کے گھروں کی تعمیر کا فریضہ عوام کے ناتواں کندھوں پر پڑا جس پر جہلاء نے دینی و قومی فرض سمجھ کر لبیک کہا۔
ملاؤں کی تو چاندی ہوئی ادھر لبرل قائدین نے بھی اسلامی ٹچ سے اس ریوڑ کو رام کیا۔ حکومتوں نے عوامی حمایت کے پیش نظر حمیت و وقار کو خیر باد کہا اور عوام کو آٹا کی قطاروں، لنگر خانوں، انکم سکیموں، ہیلتھ کارڈوں میں الجھا کر قومی خزانے کی بربادی، قومی غیرت کی رسوائی اور دین کی توہین میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس ذہن سازی کی ابتدا جاہل لوگ مذہب سے ہی کرتے آئے ہیں۔ برصغیر کے مذہبی کلچر میں بچپن سے ہی ہر شخص خود کو انبیاء کرام، اولیائے کرام اور دیوی دیوتا کے در کا منگتا سمجھ کر فخر کرتا ہے۔
سبھی کسی نہ کسی در کے منگتے بن کر کسی در کے ٹکڑوں پر پَل رہے ہوتے ہیں۔ مگر الحمدللہ ہمارے نبی ﷺ نے کبھی گداگری کو پسند نہ فرمایا بلکہ مانگنے والوں کو کلہاڑا تھما کر محنت کی تلقین کی۔ افسوس کہ اس نبی کے عاشقوں نے مذہب کی آڑ میں گداگری، خیرات اور نذرانوں کو مذہبی صنعت بنا کر امت کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا ہے۔ بنگلہ دیش میں گداگری کے قلع قمع کے ساتھ مذہبی جنونیوں کو بھی نکیل پڑی تو بنگالیوں کو جہالت کی نحوست سے مُکتی ملی۔
انڈیا میں بھی انتہا پسندوں نے سائنس اور ترقی سے ٹکر کا سوچا مگر حکومت اور اداروں نے انھیں گھاس نہ ڈالی۔ عیسائی کلیسا نے سائنس اور جدیدیت پر ظُلم روا رکھنے کے جرم کی پوری دنیا کے سامنے معافی مانگی۔ مگر ہمارے قائدین اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مقاصد کے لیے مذہبی جنونیت اور اسلامی ٹچ کی باقاعدہ سر پرستی کی۔ تقدیر کے فلسفے سے لوگوں کو یکسر بے عمل اور عقل سے عاری بنایا گیا۔ لوگ غربت اور ابتری کو مشیت سمجھتے ہیں۔
بچوں کی پیدائش کو نیکی خیال کر کے نئی نسل کی زندگیوں سے کھلواڑ کرتے ہیں۔ جس کند ذہن کا اپنا مکان تک نہیں، درجن بچوں کو پیدا کر بیٹھتا ہے جنھیں وہ خوراک، لباس، تعلیم اور مستقبل دے ہی نہیں سکتا۔ کوئی سمجھائے تو اللہ کے رازق ہونے کی بات کر کے ڈانٹ دیتے ہیں مگر سارے سماج میں ہاتھ پھیلائے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اولادیں خصوصاً بچیاں نہایت قابل رحم ہوتیں ہیں۔ یہی خیراتی ہجوم بازاروں میں دین کے تحفظ کے لئے بھی سر گرم رہتا ہے۔
انہیں کبھی غیر محرم عورتوں کے لباس پر عربی نظر آجاتی ہے تو کبھی دین کی توہین کے کسی پہلو کا الہام ہو جاتا ہے۔ پھر کہیں مردان، کہیں سیالکوٹ تو کہیں اچھرہ میں دین کی فتح کے جھنڈے گڑتے ہیں۔ عوام اور مومنین کا اپنا عالم یہ کہ بازار سے بھلے باپردہ عمر رسیدہ خاتون گزرے تو کوئی پیر و جوان اپنے اینگل سے دیکھے بنا رہ نہ پائے۔ مگر وہی خاتون نیم لباسی میں یورپ گھومے تو کسی مرد کو ٹھرک کی نہ سوجھے، پھلے خاتون احساس کمتری کا شکار ہی ہو جائے۔
یہاں دانشوروں، علماء عاملین۔ اور مفتیوں کے انبار لگے ہیں۔ کوئی شعور کی بات کہے تو قادیانی، یہودی اور ملحد کا فتویٰ ضرور لگے۔ جس قدر یہاں سارے ہی سب کی تکفیر کرتے ہیں، لگتا ہے ایک بھی مسلمان نہیں رہا۔ اب نجانے ستر حوروں والی جنت کا کیا ہو گا جس میں ایک سو تیس فٹ کی خوبصورت حوریں وحشی ملاؤں کو ملنے والی تھیں۔ بقول یوسفی، واقعی ہم مسلمان ہو کر باؤلے ہی ہو چلے ہیں۔ ادھر فتویٰ ساز فیکٹریوں کی تاریخ بھی پرانی ہے۔
بائیسکل اور ہوائی جہاز کی سواری کو نہ صرف غیر شرعی کہا گیا بلکہ سواروں کے نکاح فاسق ہونے کے فتوے گھڑے گئے۔ لاؤڈ سپیکر پر تو جنگیں ہوتی رہیں اور لوگوں کو باور کرایا گیا کہ اس میں شیطان بولتا ہے۔ خیر، اب اس میں مولوی بولتا ہے۔ حد تو یہ ہوئی کہ شاہ عبدالقادر نے دو صدیاں قبل قرآن کا ترجمہ کیا تو اسے توہین قرآن کہہ کر احتجاج کرائے گئے۔ کیا کہنے اس قوم کے جو اپنی مقدس کتاب کو بارہ سو سال تک بغیر سمجھے محض ثواب کی خاطر پڑھتی رہی۔
اپنے گناہوں کا موجب ابلیس کو کہتے رہے۔ رمضان میں شیطان کی قید کا ڈھونگ خوب رچتا ہے حالانکہ اس سال شیطان بیچارا قید سے نجات پاتے ہی مومنین کے ہاتھوں کی جانے والی مہنگائی کم کرنے میں لگا ہے۔ عالَم انگشت بدنداں ہے کہ مسلمان پورے سال میں ایک ماہ انسان بننے کا ناٹک کیسے کر لیتے ہیں۔ جاپان میں خاموشی سے ہر کام انجام پا رہا ہوتا ہے۔ کوئی تشہیر نہ ریا کاری۔ ان کے گھروں میں ملازم نہیں ہوتے اور جامعات میں بھی صفائی اساتذہ و طلباء خود کرتے ہیں۔ جنرل صفائی کے لیے بھاری تنخواہوں پر خاکروب بھی ہیں۔ اپنے ہاں نصف ایمان تو ویسے ہی ناپید اور بقیہ نصف دیگر حرکات کے موجب رفو چکر ہے۔ پھر بھی جنت اسی خیراتی و تکفیری قوم کا اثاثہ ہوگی، حیرت ہے۔ مسلمانوں میں خیرات، بھیک، قرض، امداد کے تصور کثرت سے پھیلنے کی وجوہات پرانی ہیں۔ عقائد و معمولات میں مسلمان کو تقدیر کا پابند اور منگتا قرار دیا گیا۔ مسلم بادشاہتوں میں بادشاہ، ظلِ الٰہی اور ان داتا تھا اور اس کی مرضی سے لوگ زندہ رہتے تھے۔
پھر اللہ کے ولی، درویش، عامل، اپنے اپنے حصوں کی شرط پر جہلاء کو رزق بخشتے رہے۔ بعد ازاں وڈیرا کلچر میں بدھو عوام وڈیروں کو مائی باپ کا درجہ دے کر اپنا استحصال کرواتے رہے۔ اس لیے اس جہالت و رذالت کو مسلمانوں نے اپنی گمشدہ میراث جانا اور جہاں پایا، نہ صرف حاصل کیا بلکہ دیانت داری سے آئندگان تک پہنچا کر دم لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان یہودیوں کا شکار بنے ہیں اور اور یہودی مسلمانوں کی اجتماعی بد دعاؤں کی شدید زد میں ہیں۔
ہمارا مُلا، دانشور اور نوجوان پیپسی، شیزان اور پیزا کا بائیکاٹ تو کرتا ہے مگر انٹر نیٹ، بجلی، موبائل فونز، لاؤڈ سپیکرز، ساؤنڈ سسٹم، ائر کنڈیشنر، گاڑیوں اور یو ٹیوب کے گولڈن بٹن کو لات ہرگز نہیں مارتا۔ آج اگر مسلمانوں کے گھروں، مساجد، آستانوں اور مقامات مقدسہ سے یہود و نصاریٰ کی ایجادات و سہولیات نکال دی جائیں تو مومنین و مجاہدین اور زاہدین پر کیا بیتے گی۔ ایک دن بجلی یا انٹر نیٹ کی بندش قیامت صغریٰ ہوگی اور سب سے زیادہ احتجاج ہم ہی کریں گے اور کرتے ہیں۔
باغات و فصلات کو اجاڑ کر، پلاٹستان، بناتے ہیں اور قومی قائدین ایک دوجے کی ماں بہن ایک کئیے رکھتے ہیں۔ پھر دانشور یوٹیومرز کا شکار ہو کر جاہل ہجوم سے پیسے بٹورتے ہیں۔ جذباتی اور لکیر کے فقیر عوام مولویوں، مرشدوں، مزاروں، عاملوں، یوٹیوبروں اور دیگر فضول رسوماتِ شادی و مرگ پر وہ قیمتی پیسہ ضائع کرتے ہیں جس سے قوم کو شعور دیا جاسکتا تھا، کچھ سیکھا اور سکھایا جاسکتا تھا۔ اب ہمارے پاس فیض احمد فیض کی اس رائے سے اتفاق کیے بنا چارہ نہیں، مجھے یہ خدشہ ہے کہ یہ ملک ایسے ہی چلتا رہے گا۔

