صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 2 : آب زمزم سے بپتِسمہ


۔ تو یوحنّا نے اُن سے جواب میں کہا، ”میں تو تمہیں پانی سے بپتِسمہ دیتا ہوں مگر جو مجھ سے زورآور ہے وہ آنے والا ہے۔ میں اُس کی جوتی کا تسمہ کھولنے کے لائق نہیں۔ وہ تمہیں روح القدس اور آگ سے بپتِسمہ دے گا۔“ لُوقا 3 : 16

یہ اُس دور کی کہانی ہے جب پاکستان کو بنے ہوئے چودہ پندرہ برس ہی ہوئے تھے۔ زندگی بڑی سادہ تھی۔ کلومیٹر کی جگہ مِیل اور فرلانگ ہوتے تھے، کلوگرام کی جگہ سیر اور چھٹانک ہوتے تھے، اور دوست صرف دوست ہوتے تھے۔ سندھی، پنجابی، شیعہ اور قادیانی نہیں ہوتے تھے۔ اسی زمانے میں میری دوستی ریورنڈ پال منتظر سے ہو گئی جو کنٹونمنٹ کے چرچ میں امامت کرتے تھے اور جہاں میں کبھی کبھار دانی ایل کے ساتھ جاتا تھا۔ میں انہیں پادری پال کہتا تھا۔

جوانی میں اچھے خاصے جاذب نظر رہے ہوں گے مگر بڑھاپے میں قدم رکھتے ہی ڈھلنا شروع ہو گئے تھے۔ سر کے بالوں کی سیاہی برائے نام رہ گئی تھی اور درمیان سے چندیا صاف ہو گئی تھی۔ مسکراتے وقت رخساروں کی سلوٹیں مزید گہری ہو جاتیں اور ہونٹ ہلکے سے وا ہو جاتے جن سے سامنے کے نچلے دانتوں کے درمیان دراڑ نظر آتی تھی۔ آگے کے چار دانت اکھڑوا دیے تھے کیوں کہ ان کے نیچے کا مسوڑھا بالکل ختم ہو چکا تھا۔

پادری پال کو جلدی پڑی تھی کہ میں بپتسمہ لے کر مسیحیت قبول کرلوں، اور میں ان کی بے صبری سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ مجھ کو انہیں چھیڑنے میں مزا آتا تھا۔ وہ اکثر میرے مذاق کو سنجیدگی سے سنتے تھے اور جب انہیں اندازہ ہوجاتا کہ میں صرف مذاق کر رہا ہوں تو مسکرا کر کہتے، ”اچھا، اب میں سمجھا۔ تم مجھے گِھس رہے ہو۔“ چھیڑ چھاڑ اپنی جگہ مگر میں پادری پال کی بے حد عزت کرتا تھا اور انہیں اپنا بزرگ سمجھتا تھا۔ کبھی میں نے انہیں غصّے میں نہیں دیکھا حالاں کہ میں اکثر ان کے عقائد کو چیلنج کیا کرتا تھا۔ اگرچہ وہ عمر میں میرے والد کے برابر تھے مگر میرے ساتھ ہمیشہ برابری کا سلوک کرتے تھے۔

بپتِسمہ کی رسم نو مولود یا غیر مسیحیوں کو مسیحیت میں داخل کرنے کے لیے ادا کی جاتی ہے۔ ہر فرقے میں اس کی رسومات مختلف ہوتی ہیں۔ کسی چرچ میں صرف پیشانی پر پانی بہایا جاتا ہے، کہیں پانی چھڑکنے پر اکتفا کیا جاتا ہے، اور کچھ فرقوں میں بپتِسمہ کے لیے پانی کے حوض یا آب رواں میں ڈبکی دی جاتی ہے۔

انجیل کے مطابق حضرت عیسیٰ کو حضرت یحییٰ نے دریائے اردن میں بپتِسمہ دیا تھا۔ حضرت یحییٰ لوگوں کو تاکید کرتے تھے کہ خود کو جسمانی اور روحانی طور پر شفاف رکھنے کے لیے بپتِسمہ لیتے رہا کریں۔ اسی لیے انجیل مقدس میں انہیں یُوحَنّا اِصطباغی (جان دی بیپٹسٹ) کا نام دیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ پانی میں شفا بخش خصوصیات ہوتی ہیں۔ ہمارے یہاں وضو بھی غالباً بپتِسمہ کی ایک شکل ہے جو پرانے نبیوں کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ نماز سے پہلے تو خیر وضو کیا ہی جاتا ہے مگر کہا جاتا ہے کہ جب کوئی شدید غم یا غصے میں مبتلا ہو یا کسی اور جذباتی تناؤ کا شکار ہو تو وضو کرنے سے سکون ملتا ہے۔

حضرت یحییٰ کے اُمّتی جو خود کو مندائی کہتے ہیں، اب بھی عراق میں دریائے فرات کے کنارے بستے ہیں۔ ابتدا میں انہیں مسیحیوں کا ہی ایک فرقہ سمجھا جاتا تھا مگر ان کے اپنے عقائد ہیں۔ قرآن میں انہیں صائبین کہا گیا ہے اور اسلام میں انہیں اہل کتاب کا درجہ حاصل ہے۔ وہ دریائے فرات میں ہر اتوار کو ڈبکی لگا کر بپتِسمہ لیتے ہیں اور یہ ان کی عبادت کا حصّہ ہوتا ہے۔ کربلا کا واقعہ بھی دریائے فرات کے کنارے پر پیش آیا تھا لہٰذا بعض شیعہ روایات کے مطابق فرات ایک مقدس اور با فضیلت دریا ہے جس میں بہشت کا پانی گرتا ہے۔ 2003 میں عراق پر امریکی حملے سے پہلے مندائی برادری جو ساٹھ سے ستر ہزار افراد پر مشتمل تھی، شدید متاثر ہوئی۔ دریائے فرات کے خشک ہو جانے اور بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کی بنا پر انہیں وہاں سے نکلنا پڑا۔

پادری پال کے پاس ایک بوتل میں دریائے اردن کا مقدس پانی تھا۔ جب وہ بچوں کو بپتِسمہ دینے کے لیے ایک طشت میں پانی ڈالتے تو اس میں تھوڑی سی مقدار اس پانی کی بھی ڈال دیتے تھے۔ میں نے ان کی توجہ اس بوتل کی طرف دلائی جس میں بہت تھوڑی مقدار میں پانی رہ گیا تھا۔

”پادری پال، آپ جب اس بوتل سے پانی نکالا کریں تو اتنا ہی پانی اور ڈال دیا کریں۔ اس طرح بوتل بھری رہے گی۔“

”نہیں بھئی یہ مقدس پانی ہے،“ انہوں نے جواب دیا۔

”ہمارے یہاں تو یہی کرتے ہیں۔ حج سے آبِ زمزم لے کر آتے ہیں اور برکت کے لیے جتنا پیتے ہیں اتنا ہی پانی اس میں ڈال دیتے ہیں۔ اس طرح بوتل ہمیشہ بھری رہتی ہے۔“

”مگر اس طرح وہ پانی مقدس تو نہیں رہے گا،“ انہوں نے پیشانی سکیڑ کر سوچتے ہوئے کہا۔

”نہیں، اس کے تقدس میں کوئی فرق نہیں پڑے گا،“ میں نے سمجھانے کی کوشش کی، ”یوں سمجھیں کہ پانی کے ایک مولیکیول یا سالمے میں دو ایٹم ہائیڈروجن کے اور ایک ایٹم آکسیجن کا ہوتا ہے۔ جب مقدس سالمے غیر مقدس سالموں سے ملتے ہیں تو وہ غیر مقدس سالموں کو اپنے تقدس میں شریک کر لیتے ہیں لہٰذا سارا پانی مقدس ہوجاتا ہے،“ وہ بڑے غور سے میری بات سنتے رہے۔

”تم مجھے گِھس تو نہیں رہے؟“ انہوں نے انگلی اٹھا کر بڑی معصومیت سے پوچھا۔

”ارے توبہ کریں پادری پال،“ میں نے جواب دیا، ”اچھا ایسا کریں کہ میں آپ کو آبِ زمزم کی ایک بوتل لا دوں گا۔ اسی سے بپتسمہ کرا دیا کریں اور جب پانی کم ہونے لگے تو اس میں مزید پانی ڈال دیا کریں۔“ آخر انہیں اندازہ ہو گیا کہ بقول ان کے میں انہیں گھس رہا تھا۔

”دیکھو پرویز میاں، میں نے تم سے کہیں زیادہ مہ و سال صحرا نوردی میں گزارے ہیں۔ یہ معدودے چند بال جو تم میرے سر پر دیکھ رہے ہو، ان کی سفیدی کا سبب یہ نہیں ہے کہ مجھے سایہ میسر نہیں تھا،“ انہوں نے اپنے کچھ بالوں کو چُٹکی میں دبا کر کہا۔

میں صرف مسکرا کر رہ گیا مگر کوئی جواب بن نہیں پڑا۔ اگرچہ پادری پال کی مادری زبان پنجابی تھی مگر بڑی نفیس اردو بولتے تھے۔ ان ہی کے انداز میں گفتگو کرنے کے لیے الفاظ تلاش کرنے پڑتے تھے۔

”اچھا آپ کسی ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے پوچھ لیں۔ وہ آپ کو بتائے گا کہ دوا میں جیسے جیسے پانی ڈالتے جائیں، اس کی طاقت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے،“ میں نے کہا۔

”میں خوب سمجھتا ہوں کہ تم کب سنجیدہ ہو اور کب مجھے بے وقوف بنا رہے ہو۔“

”توبہ توبہ، آپ میرے بزرگ ہیں۔ میں آپ کو بے وقوف بنانے کی جرات بھی کروں تو جو سزا چور کی وہ میری،“ میں نے اپنے دونوں کان پکڑ کر کہا۔

”میں خوب سمجھتا ہوں،“ انہوں نے حسب معمول اپنا ہاتھ جھٹکا جیسے مکھی اڑا دی ہو۔ پھر آگے جھک کر میرے کان میں بولے، ”میاں، اب تم بھی بپتِسمہ لے ہی لو تاکہ نجات پاؤ۔“

”پادری پال، نجات پانے کے لیے بپتِسمہ لینا ضروری تو نہیں۔ آپ دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں تو بپتِسمہ کے بغیر ہی آپ کی نجات ہو جائے گی،“ میں نے ہنس کر جواب دیا۔ وہ مسکرائے اور میرے بازو پر ہلکے سے ایک تھپڑ مار دیا۔

Facebook Comments HS