افسانہ: آٹھوں گانٹھ کمیت


یوں نہیں ہے کہ میری بیوی میرا دھیان نہیں رکھتی بل کہ واقعہ تو یہ ہے کہ اس کم بخت کا دھیان میری ہی طرف رہتا ہے۔ اَجی یہ کم بخت جو میری جیبھ سے پھسل پڑا ہے تو اس سے یہ تخمینے مت لگا بیٹھنا کہ خدانخواستہ ہم دونوں میں محبت نہیں ہے۔ میں اس خُوشبو بھرے جذبے سے دست کش ہو سکتا ہوں، نہ میری بیوی، کہ یہ سالی محبت ہی تو ہے جس کی آڑ میں کئی جھلاہٹوں کو جھاڑنے کا موقع مل جاتا ہے اور زندگی گوارا ہو جاتی ہے۔

یہ جو میں نے محبت کو سالی کہا ہے تو خاطر جمع رکھو کہ سالی کی محبت میں نہیں کہا بل کہ سالی کی بہن کی محبت میں کہا ہے، جو اِتفاق سے میری جورو بھی ہے۔ یہ غریب کی جورو کی طرح نہیں کہ ہر ایک کی بھابی ہو جائے، ساری محبت مجھ پر لٹاتی ہے اور مجھے دھیان میں رکھتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ سارے، جو شادی سے پہلے اس کے اپنے تھے، فاصلوں پر بیٹھے ہیں اور ہم دونوں کے بیچ کوئی فصل نہیں ہے۔ مگر مجھ پر یہ افتاد آ پڑی ہے کہ میں اس کے بہت زیادہ دھیان سے بہت زیادہ اُلجھنے لگا ہوں۔

میں کئی کام اپنی مرضی اور اپنی سہولت سے کرنا چاہتا ہوں، مزے لے لے کر ، اور ہونے والے کام کے ایک ایک مرحلے سے لطف اُٹھا کر ۔ وہ ہر بار میری اِس عادت کو سُست روی سے تعبیر کرتے ہوئے طعنہ زَن ہو جاتی ہے کہ میں کچھوا ہو گیا ہوں۔ اِسی طرح میں کئی ایسے امور کو ، جنہیں وہ اَہم سمجھتی ہے، جیسے تیسے نمٹا کر ایک طرف ہو جانا چاہتا ہوں۔ وہ اڑنگا لگا کر مجھے عین بیچ میں گرا لیتی ہے، کہتی ہے :

”یہ چھلانگیں لگا کر کہاں نکلے جاتے ہیں آپ؟“
ایسے میں، میں سمجھتا ہوں کہ میرا اُلجھنا بنتا ہے۔

اُسے مجھ سے اُلجھتے رہنے میں لطف آتا ہے۔ کبھی کبھی تو اس اُلجھا اُلجھی میں وہ ایسے لذّت لیتے محسوس ہوتی ہے جیسے میں اپنی چھاتی کے بالوں میں اُس کی اُنگلیاں اُلجھنے پر لیا کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ یہ سب کچھ خلوص نیت اور میری محبت میں کر رہی ہوتی ہے۔ محبت میں جو کچھ وہ کر سکتی ہے، کرتی ہے۔ او۔ ر۔ ر۔ میں ٹھس آدمی نہیں ہوں، مجھ سے بھی جو بن پڑتا ہے کرتا ہوں مگر یوں ہے کہ میں اِظہار نہیں کرتا۔ جب اُس سے محبت کرتا ہوں، تو اُسے خود جان لینا چاہیے کہ محبت کرتا ہوں۔

کہنا تو جتانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ بدلے میں ویسے ہی جذبوں کے مطالبے کے ساتھ۔ کتنا چھچھورا پن ہے یہ؟ مگر وہ اِس معاملے میں حد درجہ چھچھوری ہے۔ چھچھوری بھی اور لالچی بھی۔ جتنا کہتی اور کرتی ہے اس سے کئی گنا زیادہ کا مطالبہ سامنے رکھ دیتی ہے۔ وہ مجھے محبت کے سلسلے میں گھُنا کہتی ہے۔ میں نہیں جانتا اس سے اُس کی مراد کیا ہوتی ہے تاہم جب وہ ایسا کہتی ہے تو میں آدھا مطمئن اور آدھا مضطرب ہو جاتا ہوں۔ یہ جو آدھا آدھا تقسیم ہونا ہے، یہ مجھے حد درجہ لطف اَندوز کرتا ہے۔

مگر ۔ ۔ ۔ اور یہ مگر میں نے اِس لیے کہا ہے کہ اَب میں اِس مزے کے غارت ہونے کی بات دہرانے لگا ہوں۔ میں نے کہا نا، یہ سارا مزہ تب غارت ہو تا ہے جب اُس کا دھیان مسلسل میری ہی طرف رہنے لگتا ہے۔ اور سنو، میں ایسے میں مشتعل ہو جایا کرتا ہوں۔ مشتعل بھی اور اَندر سے باغی بھی۔ اس کھدر وجود سے باغی جو وہ اپنے نہ ٹوٹنے والے دھیان دھاگے سے بُنتی رہتی ہے۔

بس یوں جان لو کہ میں گھر میں وہ نہیں ہوں، جو باہر ہوتا ہوں۔ گھر میں بس وہ ہی وہ ہوتی ہے۔ یا اس کی محبت میں ڈھلا ڈھلایا میر اوہ وجود جس سے میں بغاوت کر چکا ہوں۔

”آج آپ بتائیں نا کیا پکاؤں؟“
”زین، نومی کیا کرتے ہو ڈیڈی کو سب آوازیں جا رہی ہیں۔“
”اے بہن کیسے وقت آ گئی ہو، وہ گھر پر ہیں، ابھی اُن کے لیے مجھے شاہی ٹکڑے بنانے ہیں۔“
”واش روم اچھی طرح صاف کرنا نگوڑی، زین کے ڈیڈی صبح شیو کرتے ہوئے بُو سے بچنے کو ناک سکیڑ رہے تھے۔“
”اِدھر کچن ہی میں آ جائیں نا، اُدھر اکیلے میں پڑے کیا چھت کو گھُورے جاتے ہیں۔“
”بہن میں یہی سوٹ سلواؤں گی، زین کے ڈیڈی کو یہ رنگ تو بہت پسند ہے۔“
”اوہ آپ اِدھر کہاں گھسے آتے ہیں، پیاز کاٹ رہی ہوں، آنکھوں میں چبھن ہو گی۔“

”کیا کہا قورمہ بنا لوں، ۔ بنا تو لوں۔ مگر آپ کھانے کو بیٹھتے ہیں تو ہاتھ کھینچتے ہی نہیں۔ پہلے ہی ڈھڈی نکل آئی ہے۔“

”اے ہے، دودھ لاتے ہو کہ نل کے نیچے سے ڈبا اُچک لاتے ہو۔ زین کے ڈیڈی کو اِس دودھ کی چائے ذرا نہیں بھاتی۔“

غرض بات بات میں وہ مجھے ڈال لیتی ہے کہیں چٹکی میں لے کر ۔ یوں، جیسے آٹے میں نمک ڈالتے ہیں، کہیں قلاوہ بھر کر ۔ کچھ اِس وَالہانہ پن سے کہ اُسے کوئی اور نظر ہی نہیں آتا۔ نہ بچوں کے اَندر، نہ اُس خاتون میں جو اُسے ملنے آئی ہوتی ہے۔ کام کاج میں ہاتھ بٹانے والی، سائیکل کے کیرئیر پر میلے کپڑوں کی گٹھڑی لے جانے والا دھوبی، گیٹ کھٹکھٹا کر کچرا وصول کرنے والا، دُودھ والا، اخبار والا، باہر سے گھنٹیاں بجا بجا کر بھیک طلب کرنے والا، گلی گلی پھر کر ”سپارے، قاعدے، نور نامے، جنتریاں“ کی آوازیں لگانے والا، گھر کے اَندر گھُس آنے والی نوجوان سیلز گرل جو اِمپورٹڈ پیڈز، اَنڈر گارمنٹس، میک اَپ کا سامان اور نہ جانے کیا کچھ بیچتی پھرتی ہے۔ سب کے اَندر سے میں نکل آتا ہوں۔

”یہ اخبار اُنہیں پسند نہیں بدل دو ، وہ کہتے ہیں کوئی خبر ہی نہیں ہوتی اس میں۔“
”ذرا دیکھنا بھائی، کچرے میں ان کا کوئی ضروری کاغذ نہ چلا جائے۔“
”ذرا دم بھی لیا کرو با با زین کے ڈیڈی آرام کر رہے ہیں اور تم گھنٹی پر گھنٹی بجائے جاتے ہو۔“
”میں یہ جنتریاں لے کر کیا کروں گی ان کی اپنی کتابیں سنبھالے نہیں سنبھلتیں۔“
”رہنے دے یہ ساوی گچار، اُنہیں تو بلیک اَنڈر گارمنٹس ہی اَچھے لگتے ہیں۔“
”اے ہے اس کی تو ہُک ہی نہیں کھلتی، وُہ اِسی میں اُلجھے رہیں گے۔“

باتیں کرتے کرتے وہ ہنستی ہے، کبھی تو بے اِرادہ، جیسے بند ٹوٹنے پر سارا پانی ایک ہی ہلے میں بہہ نکلے۔ اور کبھی طے کر کے، ہنسی کو روک روک کر چھوڑتے ہوئے، یوں جیسے پائپ ٹونٹی پر چڑھا ہو اور سرے پر انگوٹھا دھرا ہو۔ جب چاہا دبا لیا، جب چاہا چُس چُس کر کے گرتے پانی کی تیز دھار بنا لی۔ اُس کی ہنسی میں ایک خمار ہے۔ اور ایک چٹکی بھی۔ یہ خمار وہ خود رکھ لیتی ہے اور چٹکی میری سمت اُچھال دیتی ہے۔ میں اسٹڈی میں ہوں یا بیڈ روم میں، لاونج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا ہوں یا ٹیرس پر دھُوپ سینکوں، مجھے اُس کی آوازیں مسلسل آتی رہتی ہیں اور پتہ چلتا رہتا ہے کہ کب اُس نے آنکھیں شرارت سے نچائی ہیں، کب سر کو میری سمت جنبش دی ہے اور کب فقط ایک جملہ اَدا کرتے ہوئے پورے بدن کو یوں جھول جانے دیا گیا ہے جیسے رنگ دی ہوئی چنری کو جھلارا دیتے ہیں۔

اتوار چوں کہ چھٹی کا روز ہوتا ہے لہٰذا میں دیر سے اٹھتا ہوں۔
میں بھی اور وہ بھی۔

بل کہ سچ تو یہ ہے کہ وہ جب تک لیٹنا چاہتی ہے، مجھے اُٹھنے ہی نہیں دیتی۔ میں جانتا ہوں کہ جب وہ سچ مچ سوئی ہوتی ہے تو اس کی سانسوں کے آہنگ اور بدن کی خُوشبو میں عجب سا الہڑ پنا اُتر آتا ہے۔ اور جب وہ جاگنے کے بعد بھی مکر مار کر پڑی رہتی ہے، خود کو سوتا ظاہر کرنے کے لیے، تو سانسیں ہموار ہو جاتی ہیں اور مہک میں رخنے پڑنے لگتے ہیں۔

تو وہ اتوار کی صبح تھی۔ اُس کی سانسیں ہموار ہوئے آدھ گھنٹے سے بھی زیادہ کا وقت گزر چکا تھا۔

اور وہ لمحہ آ گیا تھا کہ جب میں نے سوچا تھا کہ سارا دن میں وہ بن کر نہ رہوں گا جو اس نے مجھے بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کہیں نکل بھاگوں گا۔ کہیں بھی۔ مفرور لمحوں کا ساتھ دینے کے لیے۔ جی، یہ میں نے پہلے سے سوچ رکھا تھا۔

اس کا بازو میرے اُوپر تھا، پھول سا بازو۔ مگر جب میں نے فیصلہ کر لیا تو اس کا بازو، وزن میں پہاڑ سا لگ رہا تھا اور اس کے تلے میری چھاتی دبنے لگی تھی۔

میں نے سوچا اگر میں تھوڑا سا دائیں کو کھسکتا ہوں اور دائیں ہی کو پہلو بدلتا ہوں تو وہ اپنے بازو سمیت پوری کی پوری وہیں پڑی رہ جائے گی اور میں بہ سہولت نکل جاؤں گا۔ میں نے کھسکنے سے پہلے اُس کے چہرے کو دیکھا، ہونٹوں پر تھوڑا سا دباؤ تھا۔ ننھّی مُنّی ناک کے نتھنوں کے دونوں طرف گال قدرے پھول رہے تھے۔ بند آنکھوں کے تلے خفیف سے لرزے کا شائبہ سا ہوتا تھا۔

نظریں چہرے سے پھسلتی نیچی آئیں۔ شفاف گردن میں دونوں طرف کی رگوں میں کچھ کھچاؤ تھا۔ نرخرہ سوتے وقت جہاں پڑا ہونا چاہیے، وہاں نہیں تھا، ذرا اوپر کو تیر رہا تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ سچ مچ سو نہیں رہی تھی، سونے کا ڈرامہ کر رہی تھی۔ میں مزید محتاط ہو گیا اور سارے بدن کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔ مگر یہ اِحتیاط اُلٹی پڑی کہ ایک تناؤ سا خلیے خلیے میں تیر گیا تھا۔

اس کا بدن ایسا کائیاں ہے کہ اِدھر کی معمولی سی لرزش کو بھی فوراً گرفت میں لے لیتا ہے۔ میں ایسا نہیں چاہتا تھا مگر ایسا ہو گیا تھا تاہم مجھے ہمت تو کرنا ہی تھی۔ ہمت کی بھی۔ مگر اس سے پہلے کہ کھسک کر پہلو بدلتا اور اٹھ جاتا، اس کے بازو میں تناؤ آ گیا۔ وزن بڑھتا گیا۔ اتنا زیادہ کہ میری چھاتی چٹخ گئی۔

لو، مزے کی بات سنو۔ اِس چٹخی ہوئی چھاتی کو سہلانے میں اُس لڑکی کو بہت مزا آتا ہے جس سے میں محبت نہیں کر سکتا۔ تم ہی کہو بھلا ایک شوہر ایک محبت کرنے والی بیوی کے ہوتے ہوئے ایک ایسی لڑکی سے کیسے محبت کر سکتا ہے جس کا بازو کسی بھی اَچھی لگنے والی لڑکی کے لیے بہ سہولت جھٹکا جا سکتا ہو۔

(یہ کہانی پہلے پنجابی میں لکھی گئی تھی)
نوٹ:

1۔ ”کُمیت“ وہ گھوڑا ہے جس کی ایال اور دم کے بال سیاہ ہوتے ہیں جب کہ باقی بدن سرخ ہوتا ہے۔ مکمل سرخ گھوڑے کو ”اشفر“ کہتے ہیں۔ وہ گھوڑا جس کا باقی بدن تو سیاہ ہو مگراس کی پیشانی اور دم سفید ہو تو بھی اسے کمیت کہہ لیا جاتا ہے۔ ان علامات کے گھوڑوں کو بہترین گھوڑے مانا جاتا ہے۔

2۔ ”آٹھوں گانٹھ کمیت“ محاورے سے مراد وہ کمیت گھوڑا جس کے آٹھوں جوڑ (چاروں گھٹنے اور چاروں ٹخنے ) بہت مضبوط ہوں۔ یہی محاورہ شریر، چالاک، عیار اور خوب صحت مند مرد کے لیے بھی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments