یورپ کے وہ ممالک جہاں نوجوان زیادہ خوش رہتے ہیں، ان کی خوشی کی وجوہات کیا ہیں؟


رواں سال کی ’ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ‘ میں جمہوریہ چیک، لتھوینیا اور رومانیہ کو ایسے ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں 30 سال سے کم عمرلوگ زیادہ خوش رہتے ہیں۔

مارچ 2024 میں جاری کی گئی اس رپورٹ میں فن لینڈ، ڈنمارک، آئس لینڈ اور سویڈن جیسے سکینڈینیوین ممالک کا سرفہرست ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں تھی، لیکن ایک حیران کُن رجحان یہ نظر آیا کہ چند نئے ممالک بھی اس فہرست میں اوپر آ گئے ہیں۔

سروے کے مطابق گذشتہ تین سالوں کے دوران وسطی اور مشرقی یورپی ممالک نے اس معاملے میں اپنے کچھ مغربی یورپی ہمسایوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اس فہرست میں پہلی بار جمہوریہ چیک اور لتھوینیا نے ٹاپ 20 ممالک میں جگہ بنائی ہے اور وہ بالترتیب 18ویں اور 19ویں نمبر پر ہیں۔ سلووینیا 21ویں نمبر پر ان سے تھوڑا ہی پیچھے ہے۔ اسی رپورٹ میں برطانیہ 20ویں، جرمنی، 24ویں، سپین 36ویں جبکہ اٹلی 41ویں نمبر پر ہے۔

اس علاقے کے رہائشی اور ان علاقوں کا متعدد بار دورہ کرنے والے مسافر اس بات پر حیران نہیں ہیں۔ ’دی ورلڈ چیپسٹ ڈیسٹینیشنز’ کے مصنف ٹم لیفل اس حوالے سے کہتے ہیں کہ: ’یہاں زیادہ اچھی ملازمتیں ہیں، اس لیے نوجوان لوگ کام کرنے کے لیے یورپ کے دوسرے ملکوں میں کہیں اور نہیں جا رہے ہیں۔ ایک دہائی قبل پہلی بار جب میں رومانیہ اور بلغاریہ گیا تھا، تو کچھ گاؤں میں صرف بوڑھے لوگ تھے۔ اب آپ دیکھتے ہیں کہ زیادہ نوجوان لوگ ارد گرد موجود ہیں، تو اس سے ہر کسی کو مستقبل کے بارے میں اچھی امید ملتی ہے۔‘

سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل سے فی کس جی ڈی پی کے تیزی سے بڑھنے کے ساتھ بہت سے وسطی اور مشرقی یورپ کے باشندے اب یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ ان کے پاس خوشی کے مساوی مواقع ہیں اور یہ چیز اعلیٰ زندگی کا ایک اہم مجموعی اشاریہ ہے۔

اقتصادی ترقی کے علاوہ یہ ممالک انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، ثقافتی مناظر کو فروغ دے رہے ہیں اور اپنی شاندار قدرتی خوبصورتی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

’ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ‘ کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہم نے ان ممالک کے شہریوں اور حال ہی میں وہاں کا دورہ کرنے والے سیاحوں سے بات کی ہے۔

لتھوینیا

لیتھوینیا ’ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ‘ میں مجموعی طور پر 19ویں نمبر پر ہے جبکہ ان ممالک کی فہرست میں سرِفہرست ہے جہاں 30 سال سے کم عمر لوگ سب سے زیادہ خوش رہتے ہیں۔ رہائشیوں کے مطابق لتھوینیا میں حالیہ دہائیوں میں معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

لتھوینیا کے ٹریول بلاگ ’فل سوٹ کیس‘ کی بانی اور سی ای او جورگا روبینوائٹ نے کہا کہ: ‘لتھوینیا میں زیادہ تر لوگ خاص طور پر نوجوان نسل، واقعی خوش و خرم رہتے ہیں۔ یوکرین میں جنگ اور بالٹک ریاستوں میں جنگ کے بڑھتے ہوئے امکانات کے بارے میں خبروں پر مسلسل بات کرنے کے باوجود، لوگ پہلے سے کہیں زیادہ زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اسے سراہتے نظر آتے ہیں۔’

ان کا کہنا ہے کہ 1990 میں سویت یونین سے آزادی کے بعد لتھوینیا کے لوگ تعلیم حاصل کرنے، ملازمتیں کرنے اور دںیا میں ہر جگہ سفر کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

روبینوائٹ نے کہا کہ ان کی والدہ اکثر کہتی ہیں کہ ‘میری زندگی اتنی اچھی کبھی نہیں رہی جتنی اب ہے۔ نوجوان نسل کو معلوم ہی نہیں کہ لتھوینیا کی آزادی سے پہلے یہاں زندگی کیسی تھی۔ لیکن ان سب نے ہی اپنے والدین اور دادا، دادی کی کہانیاں سُن رکھی ہیں۔ میرے خیال میں یہی ایک وجہ ہے کہ لوگ اب زیادہ خوش ہیں کیونکہ وہ اس آزادی کی قدر کرتے ہیں جو ان کے پاس پہلے سے زیادہ ہے۔’

وہ اس حوالے سے ملک کی میٹرنیٹی/پیٹرنٹی پالیسیوں کو بھی کریڈٹ دیتی ہے۔ لتھوینیا میں بچوں کی پیدائش پر ماؤں کو 126 دن جبکہ باپ کو 30 دن کی چھٹیاں دی جاتی ہیں اور اس دوران انھیں پوری تنخواہیں بھی دی جاتی ہیں۔

لتھوینیا کی رہائشی رمنتا لیلیتے اسبلبی کے لیے دارالحکومت ولنیئس کا زندگی سے بھرپور ثقافتی منظرنامہ خوشی کا باعث ہے۔ وہ فطرت سے اس کی قربت، اس کی جامع اجتماعی روح، تخلیقی اظہار اور ذاتی ترقی کے مواقع کو پسند کرتی ہیں۔

وہ رواں سال جون اور جولائی میں لتھوینین سانگ فیسٹیول کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی تقریب جیسے اہم ثقافتی پروگراموں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ سیکڑوں کوئرز اور ہزاروں لوگوں کے ایک بڑے اوپن ایئر سٹیج پر ایک ساتھ گاتے ہوئے ایک بڑے کنسرٹ کا مشاہدہ کرنے کا چار سال میں ایک بار ملنے والا موقع ہے۔ سوویت قبضے کے دوران لیتھوینیا کی قومی شناخت کو بچانے میں اس کے کردار کی وجہ سے یہ تہوار ہم سب کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اسی لیے اسے ‘گانے کے انقلاب’ کے تعبیر کیا جاتا ہے۔’

ملک کی فطرت سے قربت اور کام اور زندگی کے درمیان بہتر توازن بھی یہاں کے لیے خوشی کا آسان راستہ پیش کرتی ہے۔ روبینوائٹ کے مطابق ‘لتھوانیا کے لوگ گھر سے باہر کے ماحول کو پسند کرتے ہیں۔ وہ شہر سے نکل کر جنگلوں، جھیلوں اور خوبصورت سمندر کے کنارے لطف اندوز ہونے کے ہر مواقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔’

سبالبی لتھوینیا آنے والوں کو درالحکومت ولنیئس کے قریب سٹریوا گرین ٹریل جیسے ہائیکنگ ٹریلز کو دیکھنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ انھوں نے کہا: ‘اس کی چشموں والی پہاڑیاں جو سردیوں میں بھی نہیں جمتیں اور اس میں ایک چھوٹی پہاڑی پر لتھوینیائی آرکڈز کا پودا لگا ہوا ہے۔’ وہ کرمازینائی نیچر ٹریل کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں جو مشرکانہ رسومات اور قدیم تدفین کی ایک دلچسپ جگہ ہے۔

رومانیہ

رومانیہ اگرچہ خوشی کے مجموعی اشاریے میں 32 ویں نمبر پر ہے لیکن یہ گذشتہ دہائی کے دوران خوشی کی فہرست میں سب سے بڑی چھلانگ لگانے میں کامیاب ہوا ہے کیونکہ اس سے قبل رومانیہ سنہ 2013 کی ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ میں 90 ویں نمبر پر تھا۔

اس کے درجے میں اضافے کا بنیادی سبب نوجوانوں کی خوشی میں ا‌ضافہ ہے اور یہ 30 سال سے کم عمر کے جواب دہندگان کے معاملے میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

کچھ ماہرین اس کی وجہ بڑھتی ہوئی آزادی اور مواقع کو قرار دیتے ہیں۔ مارچ 2024 میں بلغاریہ اور رومانیہ یورپی یونین کے شینگن علاقے میں شامل ہونے والے نئے رکن ممالک تھے، جو شہریوں اور زائرین کے لیے بغیر سرحدی روک ٹوک کے مفت نقل و حرکت کی ضمانت دیتے ہیں۔ رومانیہ نے بنیادی ڈھانچے میں بھی بڑی سرمایہ کاری کی ہے جو رہائشیوں اور سیاحوں کے لیے معیار زندگی کو یکساں طور پر بہتر بنا رہی ہے۔

ٹریول انسائٹر ویب سائٹ کے بانی ڈینیئل ہرزبرگ نے کہا: ’بڑی شاہراہیں اور ہر شہر جہاں آپ جاتے ہیں، یہاں تک کہ تارگو میورس جیسی چھوٹی جگہیں بھی زیر تعمیر دکھائی دیتی ہیں۔‘

سنہ 2021 سے 2027 کے لیے 17 ارب یورو کے منظور شدہ بنیادی ڈھانچے کے بجٹ کے ساتھ، رومانیہ اصلاحات کو منظم طریقے سے نافذ کر رہا ہے جس میں 1,700 کلومیٹر موٹروے کی تعمیر بھی شامل ہے، یہ سب کچھ اصل میں توقع سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے ہو رہا ہے۔

لیکن جدید ترقیوں کے درمیان روایات اب بھی مقامی لوگوں اور سیاحوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ وہاں کی موجودہ رہائشی الیگزینڈرا نیما نے کہا کہ ‘رومانیہ کے لوگ سیکسن اور شیکلر (اور دیگر ہنگریائی) اقلیتوں سے لے کر رومانی اور رومانیہ کی ثقافتوں تک ہر چیز پر فخر کرتے ہیں۔ اگر آپ سستے، پُرسکون، خوبصورت نظاروں اور فن سے بھرے ہوئے ماحول میں جانا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے ٹرانس سلوانیا خاص طور پر اہم ہے۔’

ہرسزبرگ کو اس سے تفاق ہے۔ ان کے حساب سے بھی خطے کا بہترین منظر دیکھنے کے لیے ٹرانس سلوانیا سے سفر اہم ہے۔ اس کے قرون وسطی کے قلعے دیکھنے کے لیے کلج ناپوکا (ملک کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر) کے بونٹیڈیا بینفی کیسل سے شروع کر یں جسے کہ ورسیلی آف ٹرانس سلوانیا کہلتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد 270 کلومیٹر جنوب کی طرف براسوف کے چھوٹے قصبے کی طرف جائیں، جو کارپیتھین پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے، جہاں آپ اس کی قرون وسطیٰ کے دور کی دیواروں اور کیفے کی ثقافت کو دیکھ سکتے ہیں۔

جمہوریہ چیک

چیک رپبلک یا جمہوریہ چیک مجموعی طور پر خوشی کے اشاریے میں 18 ویں اور 30 سال سے کم عمر افراد کی فہرست میں 10 ویں نمبر پر ہے۔ جمہوریہ چیک نے حالیہ برسوں میں سماجی اور ثقافتی ترقی دیکھی ہے جس کی وجہ سے خوشی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹریول سائٹ ’دی ورلڈ واز ہیئر‘ کے بانی مائیکل روزن بلٹ نے کہا: ’یہاں اپارٹمنٹس اور رہائشی مقامات چھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے یہاں کے لوگ پارکوں، پبوں اور کیفے جانے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ وہ دارالحکومت پراگ میں دو سال سے مقیم ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’دن کا کام ختم ہونے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ خاندان کے لوگ، جوڑے اور دوستوں کے گروپ شہر کی سرسبز جگہوں پر ایسے جا بیٹھتے ہیں جیسے یہ ان کا اجتماعی عقبی باغ ہو۔ ان کے مطابق یہاں تک کہ سرد موسم میں بھی یہاں ایک خوش کن پب اور کیفے کا منظر اور ماحول ہوتا ہے جو چیک ثقافت کا امتیاز ہے۔

اس ملک کی خوشی میں اضافے کے اسباب میں کام اور زندگی کے توازن کی حکومتی پالیسیاں شامل ہیں۔ ان میں گارنٹیڈ چھٹیوں کے دن، جامع صحت کی دیکھ بھال اور زچگی اور والد کی چھٹیاں وغیرہ شامل ہیں۔ ماریکو امیکوڈومو کھانا بنانے کا کاروبار ’ماریکو پریزنٹ’ چلانے والی امریکی شہری ہیں جو اب پراگ میں رہتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر ملازمین کے فائدے کے پروگراموں میں کھیلوں تک رسائی، جسمانی سرگرمیاں اور یہاں تک کہ مساج اور تندرستی جیسی مراعات شامل ہیں۔ یہاں لوگ بہت خوش ہیں کیونکہ یہاں بہترین معیار زندگی پیش کیا جاتا ہے۔‘

امیکوڈومو اور لیفل دنوں کا کہنا ہے کہ ثقافت اور لینڈ سکیپ کا صحیح احساس حاصل کرنے کے لیے پراگ سے باہر جانا ضروری ہے۔ امیکوڈومو نے کہا کہ ’شہر سے باہر 30 منٹ کی ٹرین کی سواری بھی آپ کو خوبصورت قلعوں، انسانی ہڈیوں سے بنی اچھوتی خانقاہ تک لے جا سکتی ہے۔ شہر کے مرکز سے 15 منٹ کی پیدل مسافت پر آپ مقامی لوگوں کے زیادہ آرام دہ ماحول میں پہنچ سکتے ہیں۔‘

لیفل نے حال ہی میں جمہوریہ چیک کے پِلزین اور سپا ٹرائینگل کے علاقوں کی دریافت کی ہے وہ سیاحوں کو اولوموک، برنو اور پلزین جیسے چھوٹے شہروں کا دورہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جو کہ ’چیک طرزِ زندگی کے بارے میں ایک مختلف بصیرت پیش کرتے ہیں۔‘

ان کے مطابق خاص طور پر بیئر کے شوقینوں کے لیے پلینز کی شراب کشید کرنے والی کمپنی پلسنر ارکوئل کشش کا باعث ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ کسی شراب کے شوقین کے لیے بورڈو کی زیارت کی طرح ہے یا پھر کافی کے شوقین کے لیے ایتھوپیا کے سفر کی طرح ہے۔‘

ملک کے قدیم بیئر ورثے کو حال ہی میں بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ زاٹیک شہر کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32786 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments