(شاعر کی جادو نگاریاں) قدیم ہندوستان کے شاندار دور کی خوبصورت تصویر کشی
سرور جہان آبادی کی نظم ”لکشمی جی“ کا ایک جائزہ لینا اس مضمون سے مقصود ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان جس سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تہذیبی و ثقافتی بحران کا شکار ہوا اس کے اثرات آج بھی اس خطے کو اپنی زد میں لیے ہوئے ہیں۔ لوگوں کو ذہنی طور پر ٹارچر کیا گیا، ان کا قتل عام کیا گیا، ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا گیا، لوگوں سے ان کی شناخت کو چھینا گیا۔ ایسی صورت حال میں انسان کبھی مذہب کی آغوش میں اور کبھی ماضی کے سنہری دور کی یاد میں عافیت محسوس کرتا ہے۔
جب انسان چاروں طرف سے اندھیروں میں گھر جاتا ہے اور کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا ایسے میں انسان خدا کے قدموں یا بھگوان کے چرنوں میں پناہ تلاش کرتا ہے اور جبکہ ماضی میں اس پر کرم نوازیاں کی گئیں ہوں تو وہ شدت سے اپنے رب کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے تاکہ وہ اسے اس مشکل گھڑی سے نجات دے۔ شاعر چونکہ حساس ہوتا ہے اور گھٹن زدہ حالات سے زیادہ متاثر ہوتا ہے لہذا اس دور کا تقریباً ہر شاعر ہمیں ماضی کا راگ الاپتے ہوئے یا مذہب میں پناہ ڈھونڈتا ہوا نظر آتا ہے۔
مولانا حالی کی نظم ”مدو جذر اسلام“ اور علامہ اقبال کی نظم ”شکوہ“ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ درگا سہائے سرور جہاں آبادی کی نظم ”لکشمی جی“ بھی ماضی کے خوبصورت اور سنہرے دور کی یاد تازہ کرتی ہے جب قدرت اس خطے پر مہربان تھی اور اس خطے کی شادابی اور دولت ساری دنیا کو مسحور کیے ہوئے تھی۔ ”لکشمی“ ہندوستانی اساطیر میں دولت، دھن، کھیتی، خوشحالی اور خوش قسمتی کی دیوی مانی جاتی ہے جو ہر مشکل وقت پر ظاہر ہوتی ہے اور بڑی سہولت اور نرمی سے مشکلات کا خاتمہ کر دیتی ہے۔
نظم کا آغاز ماضی کے اس شاندار اور سنہرے دور سے ہوتا ہے جب لکشمی اس خطے کو نواز رہی تھی ہر گھر میں خوشیوں کا سماں تھا، ہر روز روز عید اور ہر شب شب برات تھی، زمین و آسمان سرمست اور نہال تھے، ہر کلی آباد اور ہر پھول شاداب تھا۔ نظم میں اس دور کو مبارک کہا گیا ہے۔ نظم کے دوسرے حصے میں دیوی لکشمی کا سراپا بیان کیا گیا ہے۔ دیوی لکشمی کو عموماً کنول کے پھول پر براجمان خوبصورت اور شفاف نیلے پانیوں پر تیرتا ہوا دکھایا جاتا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ برسات کے بعد تازہ پانی سے ندیاں بھر جاتی ہیں اور کسانوں کے لیے کھیتی باڑی کے دن نزدیک آ جاتے ہیں اور خوشحالی کا دور قریب تر ہو جاتا ہے۔
برسات کے باعث زندگی میں جو جمود اور ٹھہراؤ آ جاتا ہے اب وہ ٹوٹ جاتا ہے۔ فضا صاف ہو جاتی ہے اور سورج خوب چمکتا ہے اور اس کی چمک سے دیوی لکشمی کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے اور دنیا منور ہو جاتی ہے۔ نظم کے دوسرے حصے میں دیوی لکشمی کے دو اوتاروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اساطیری کتھاؤں کے مطابق بھگوان کبھی بھی اپنے اصل روپ میں ظاہر نہیں ہوتے بلکہ کسی اوتار کا سہارا لے کر بھگتوں کی کشتی پار لگاتے ہیں لکشمی کا پہلا اوتار ”دیوی سیتا“ کے روپ میں زمین پہ اترا۔
سیتا کو دھرتی، اناج، کھیتی اور فصل کی دیوی مانا جاتا ہے۔ لکشمی کے اس اوتار کا ذکر ہندوستان کی قدیم کتاب ”رامائن“ میں ملتا ہے۔ لکشمی کا اوتار ہمیشہ ظالموں کے خاتمے کا سبب بنتا ہے اسی طرح سیتا بھی اپنے عہد کے سب سے بڑے ظالم (راون) کے خاتمے کا سبب بنی۔ بیسویں صدی میں چونکہ ہندوستان کی سر زمین پر کئی ایک راون قابض تھے لہٰذا ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے دیوی سیتا کو یاد کیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ ظالموں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے انتقام کی دیوی ”درگا“ یا غیظ و عضب کی دیوی ”مہاکالی“ کا تذکرہ کیوں نہیں کیا گیا، اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ہر طرف قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا، معصوموں کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی لہذا ان حالات سے سہما ہوا انسان مزید خون خرابے سے بچنا چاہتا ہے اور لکشمی ہی کو پکارتا ہے جو محبت اور شفقت کا ہاتھ بھگتوں کے سر پر رکھ کر انھیں دلاسا دیتی ہے، دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بھوک و افلاس اور غربت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے اور کھیت کھلیان پر غیر قابض تھا ایسی صورتحال میں اسی دیوی کو یاد کیا گیا جو دولت، دھن اور خوراک کا اختیار رکھتی ہے۔
نظم میں ”ساون کی جھڑی“ اور ”بھادوں کی بھرن“ کو لکشمی کا حسن کہا گیا ہے یہاں بھی اشارہ ”خوراک“ کی طرف ہے۔ ایک زرعی ملک میں کھیتی باڑی کا انحصار زیادہ تر بارش پر ہوتا ہے اور بارش یعنی لکشمی کا ”نور ازل“ ہی کسانوں کے لیے غذا، دولت و ثروت اور خوشحالی کے پیغامات لاتا ہے۔ نظم کے آخری حصے دیوی لکشمی کے دوسرے اوتار کا ذکر ملتا ہے جو ”رادھا“ یا ”رادھیکا“ کے نام سے جا نا جاتا ہے ۔ رادھا پریم، پریت، محبت، رونق، عشق و وفا، دوستی، رنگینی و رعنائی کی دیوی کہلاتی ہے۔
رادھا اپنی شرارتوں اور اٹکھیلیوں سے کرشن کو لبھایا کرتی تھی۔ رادھا کو موسیقی اور رقص کی دیوی بھی مانا جاتا ہے۔ ”رادھا“ فصل کی کٹائی کے بعد کسانوں کی خوشیوں اور سرشاری کی طرف اشارہ ہے۔ باغوں میں جھولے جھولنا، گانا گانا اور رقص کرنا بے فکری اور خوشحالی کی علامت ہے۔ نظم میں دیوی لکشمی کے اوتاروں کے ذریعے ہندوستان کی تہذیب و معاشرت کی بھرپور تصویر کشی کی گئی ہے۔ سیتا خاموشی، ذمہ داری، فرض شناسی، سنجیدگی اور فکرمندی کا استعارہ ہے جو فصل کی تیاری کے لیے نہایت ضروری ہے اور رادھا فصل کی کٹائی کے بعد رونقوں، رنگینیوں، سرمستیوں اور خوشیوں کو ظاہر کرتی ہے۔
نظم میں دیوی یعنی عورت کا ذکر کیا گیا ہے۔ عورت زرخیزی، خوبصورتی، شادابی اور حسن و جمال کی علامت ہے۔ عورت کا وجود ہی تصویر کائنات میں رنگ بھرتا ہے۔ عورت ہی گھر کو سنوارتی سجاتی ہے۔ بیسویں صدی کا ہندوستان چونکہ تہذیبی بنجر پن کا شکار ہو چکا تھا ایسے میں دیوی ہی اسے زرخیز، شاداب اور مالامال کر سکتی تھی۔ نظم میں دیوی کا تذکرہ ہندوستانی باشندوں کا اپنی زمین کے ساتھ تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ جس میں ان کا محنت کرنا، ہل چلانا، گانا گانا، جھومنا اور رقص کرنا اپنی دھرتی کے لیے تھا۔
افراد کا مل کر کام کرنا، آپس میں خوشیاں بانٹنا، پریم اور پریت کے گیت گانا ایک مکمل تہذیبی اور ثقافتی دور کی عمدہ تصویر کشی ہے۔ نظم کے آغاز میں شاعر نے اس دور کو مبارک، بابرکت اور شبھ کہا ہے۔ اس دور کو خوبصورت اور شبھ کہنے سے یہی مراد ہے کہ مادیت پرستی اور ہوس پسندی کا یہ دور انتہائی منحوس ہے جس میں انسان تہذیبی اور ثقافتی سطح پر بنجر ہو چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں شاعر لکشمی کی کرم نوازی کا منتظر نظر آتا ہے کہ وہ اس دھرتی کے باسیوں کی زندگی کو پھر سے دولت، خوشحالی، محبت، رنگینی اور موسیقیت بھر دے اور بھوک و احتیاج کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے۔ لالچ اور ہوس کی جگہ ایثار و قربانی کا جذبہ پروان چڑھے اور سارا خطہ پھر سے سرسبز و شاداب ہو جائے۔


