اسرائیلی ناکامیاں


اس سال عید الفطر ایک غمزدہ ماحول میں منائی گئی۔ فلسطینیوں کا خون ارزاں عید کے بابرکت موقع پہ بھی بہتا رہا، بچے و خواتین گاجر مولی کی طرح کٹتے رہے، مگر عسکری طور پہ یا عالمی تعلقات کے تناظر میں ہم آج جائزہ لیتے ہیں کہ اسرائیلی ناکامیوں کی وجوہات کیا تھیں کہ سات ماہ کے بے رحمانہ آپریشن کے باوجود کوئی بامقصد کامیابی کیوں حاصل نہ ہو سکی بلکہ یہ اس کی عالمی تنہائی اور سفارتی سبکی کا باعث بھی بن چکی ہے۔ اسرائیل کی ناکامی کے اسباب کیا تھے۔

برس ہا برس سے اسرائیلی مظالم بڑھتے رہے امریکہ، برطانیہ، یورپ اور کئی دیگر ممالک اس کا ہاتھ روکنے یا ٹوکنے کے بجائے اس کی ہلہ شیری کرتے آئے جس کے ردعمل میں یہاں کے نوجوان مزاحمت کرنے پہ مجبور کر دیے گئے جس کا حتمی نتیجہ 7 اکتوبر کو نظر آیا جس کا بروقت اندازہ اسرائیلی انٹیلی جنس نہ لگا سکی، دوئم اسی انٹلیجنس کا یہ تجزیہ بھی غلط ثابت ہوا جس میں انہوں نے غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا احمقانہ مشورہ دیا تاکہ مزاحمت ختم ہو سکے گی مگر یہ بھی ممکن نہ ہوا اور سات ماہ میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے، پھر مغوی یہودیوں کی باحفاظت واپسی بھی ممکن نہ ہو سکی۔ بہادر فلسطینیوں نے بھوک ننگ اور غریب الوطنی کے باوجود اپنے حوصلے نہ ہارے اور جذبۂ ایمانی سے سرشار ہیں وہ ہر قسم کی خونریزی کے باوجود ہجرت کر کے ایک مرتبہ پھر 1948 والی غلطی کرنا نہیں چاہتے کیونکہ جب اس وقت لوگ ہجرت پہ مجبور کر دیے گئے تھے تو ان فلسطینیوں کی پھر وطن واپسی آج تک ممکن نہ ہوئی۔

اسرائیل کو بڑا ناز تھا کہ اس کے پاس دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور مضبوط فوج ہے جو عربوں کو 1967 میں شکست دے کر ایک علاقائی قوت بن چکی ہے مگر حماس نے سارا نشہ ہرن کر دیا ہے۔ اب کشیدگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ علاقائی امن و سکون غارت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ پس پردہ حماس اور اسرائیلی حکام کے درمیان بالواسطہ روابط قائم ہیں جہاں جنگ بندی کی کوشش جاری ہے مگر اسمعیل ہانیہ کے تین بیٹوں اور تین پوتے پوتیوں کی شہادت کے بعد کسی فوری امن کی واپسی کا خواب ادھورا ہی لگتا ہے۔

یہ ساری مارا ماری سب کچھ اگرچہ تکلیف دہ ہے مگر سب سے زیادہ تکلیف میں مبتلا مغوی خود ہیں یا ان کے لواحقین ہیں۔ یہ ایک تاریخی امر ہے کہ جو مظلوم ہوتا ہے وہی زیادہ تکلیف بھی برداشت کرتا ہے یہی تاریخ کا جبر ہے۔ نہ جانے حماس کے ذہن میں اصل پلان یا مقصد کیا تھا کہ سات اکتوبر والا عمل کر کے اپنی قوم کی زندگیاں برباد کروا دیں۔ اس کا جواب جس طرح وحشیانہ اور ظالمانہ طریقے سے دیا گیا ہے وہ بھی عالمی سطح اور اندرونی معیار پہ پورا نہیں اترتا۔

اسے انتقامی کارروائی ہی کہا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ایک ناکام اور ناپسندیدہ ترین شخص بن چکا تھا۔ اس حملے کے بعد اسے اور اس کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی حکومت کو پسندیدہ بننے کے جنگی ماحول ہی نعمت بن سکتا تھا اگرچہ یہ ایک مشکل عمل تھا جس کا خمیازہ بھگتنا اتنا آسان نہیں ہو گا مگر کیا کیا جائے جب حالات گردش میں ہوں تو عقل پہ پردہ پڑ جاتا ہے اور یوں جو بائیڈن کو بھی ٹوپی پہنائی گئی کہ یہ چند روزہ جنگ ہوگی اور جب اسرائیلی فوج نہتے غزہ والوں پہ چڑھ دوڑے گی تو غزہ والے بھاگ کر کسی محفوظ پناہ گاہوں کی جانب چلے جائیں گے اور حماس والے ہتھیار ڈال کر معافیاں مانگیں گے مگر عملاً ایسا ممکن ہوا نہیں۔

یاہو کا منصوبہ تو تھا کہ غزہ کے شہر کو برباد کر کے فلسطینیوں کو ہجرت پہ مجبور کردے گا اور یوں غزہ کا ساحل اس کے ہاتھ لگے گا تب بھارت سے تجارت کا راستہ بن جائیگا اور یوں جی۔ 20 کا خواب پورا ہو سکے گا۔ شدت پسندانہ نظریات سے لیس اسرائیل خود گویا دام اپنے صیاد میں آ گیا وہ سمجھتا تھا کہ وہ سب کچھ تباہ و برباد کر کے حماس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا اور عالمی اور ملکی سطح پہ واہ واہ ہوگی مگر کچھ ایسا ہو نہ سکا۔

عالمی عدالت انصاف میں تو باقاعدہ جنگی جرائم کا مرتکب دینے کی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے دیگر کئی دوست ممالک اس کی اندھی تائید و نصرت کرنے سے اب پیچھے ہٹنے لگے ہیں۔ کچھ ممالک اسلحہ کی فروخت بند کرچکے ہیں۔ اندرون ملک بھی سیاسی مخالفت بڑھ چکی ہے قوم کی وحدت و عظمت کا پارہ بکھر چکا ہے۔ اس وقت جو طاقت خطے میں مضبوط مقبول ہو رہی ہے وہ ایران ہے۔

اب کسی طور یہ جنگ رک بھی جاتی ہے جس کے فی الحال کوئی امکانات نہیں تب بھی اس کے مابعد اثرات سے سیاسی، معاشی اور اخلاقی طور پہ نکلتے نکلتے برسوں کی ریاضت درکار ہوگی۔ اب ایک ہی حل سمجھ آتا ہے کہ کوئی نوجوان متبادل قیادت سنبھالے جو اس گرداب سے نکلنے کی کوئی سبیل کرے۔ پرانے بابے اپنی اناؤں کے اسیر ہوچکے۔ طاقت و نخوت سے لبریز پرانی سوچ کے حامل قیادت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ آج کا نوجوان وہ نہیں جیسا کہ آپ اپنے وقتوں میں تھے کیونکہ وہ جدید ترین دور کا نئی ٹیکنالوجی سے لیس نوجوان ہے جو اپنے عقل و فہم اور فراست میں ہم سے کہیں آگے ہیں۔

غزہ میں ظلم و ستم چھپانے کے لئے انٹرنیٹ کو بند کر دیا گیا اور عالمی صحافیوں کے داخلے پہ پابندی لگائی گئی، مقامی فلسطینی صحافیوں کو چن چن کر مارا گیا ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا گیا مگر ہوا کیا۔ نوجوانوں نے پوری دنیا کو غزہ کی مشکلات سے باخوبی آگاہ رکھا ہوا ہے۔ جو بھی میڈیا کے خلاف اپنی سوچ کے مطابق پابندیاں لگانا چاہتا ہے اسے ناکام و نامراد کردینے کی صلاحیت با اتم اس نوجوان کے پاس ہے لہذا پرانی سوچ کو ترک کرنا لازم ہے۔

اب نوجوانوں نے تہیہ کر لیا ہے کہ چاہے باد آباد وہ ہرگز اپنا دیار وطن چھوڑ کر کسی محفوظ پناہ گاہ نہیں جائیں گے، وہ کسی کے رعب و دبدبہ میں نہیں آئیں گے۔ اب عقل و خرد کا تقاضا تو ہے کہ کسی فوری جنگ بندی کی غیر مشروط اعلان کیا جائے، باہمی مذاکرات کا امکان تلاش کیا جائے اور اس خونریزی کو مزید بڑھنے اور علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے بچنے کی تدابیر کی جائیں شاید وقت کم اور مقابلہ سخت ہے اور یہ انمول موقع پھر نہ ملے جب کچھ بھی سلامت نہ رہے گا تو پھر کیسا جھگڑا اور کیسی سلامتی۔

Facebook Comments HS