دوارکا: ہندوؤں کاایک متبرک مقام


دوارکا ، شمال مغربی بھارت  میں گجرات کا ایک صدیوں پرانا شہر ہے۔ یہ شہر دریائے گومتی کے دائیں کنارے پر اوکھمنڈل جزیرے کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔آبادی کے لحاظ سے یہ ایک چھوٹا شہر ہے۔ ہندوؤں کے مذہبی نقطۂ نظر سے یہ شہر ایک اہم مقام  رکھتاہے۔ دوارکا کا  ایک تعارف قدیم دور میں  لارڈ کرشنا کی وجہ سے بھی ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق اسے  گجرات کا پہلا دارالحکومت مانا جاتا ہے۔اس شہر کے نام کا لفظی مطلب گیٹ وے ہے۔ تاریخ میں  اس کے کئی نام ملتے ہیں۔ اس کا تذکرہ مہابھارت کی قدیم زمانوں کی کہانیوں میں  بھی ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے  کہ  لارڈ کرشنا   ماتھورہ سے دوارکاآئے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لارڈ کرشنا نے دوارکا بنانے کے لیے سمندر سے ایک بڑا علاقہ حاصل کیا تھا۔ اس شہر کو بنانے کا سہرا لارڈ کرشنا کے سر جاتاہے۔ پندرہویں صدی میں گجرات کے ایک مسلمان حکمران محمود بیگڑا نے بھی دوارکا  پر حملہ کیا ۔ اس کے بعد سولہویں صدی میں اسے  دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ اس وقت  دوارکا  ہندوؤں کا ایک اہم یاترا مرکز مانا جاتا ہے۔ہندوؤں کی کتابوں میں  دوارکا  شہر سے متعلق بے شمار داستانیں موجود ہیں جو دلچسپ بھی ہیں اورحیرت انگیز بھی۔

اس شہر کے متعلق شکاریپور رنگانتھ را ؤ کی کتاب  The Lost City of Dvārakā جو 1999 ء  میں  شائع ہوئی میں  تفصیل سے اس شہر کے بارے میں  لکھا ہوا ہے۔ میں  نے جو کچھ اس بارے میں  جانا ا س کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

دوارکا بھارت میں بارہ تاریخی اور قدیم  شہروں میں سے ایک ہے۔ دوارکا میں  واقع ڈیسہ مندر جسے جگت مندر بھی کہا جاتا ہے بھارت کا ایک اہم مندر مانا جاتا ہے۔ اسے راجہ جگت سنگھ راٹھور نے تعمیر  کروایا تھااسی لیے اسے جگت مندر کہا جاتا ہے۔ یہ مندر سطح سمندر سے  چالیس فٹ بلندی پر بنایا گیا ہے۔ یہ پانچ منزلہ عمارت پر مشتمل ہے جو  بہتر ستونوں پر تعمیر  کی گئیں ہے۔ اس مندر  پر سورج اور چاند کی نشانیوں  والا ایک بہت بڑا جھنڈا لہرایا جاتا ہے۔ دوارکا میں  ایک لائٹ ہاؤس بھی واقع ہے جو اس شہر کی ایک پہچان ہے۔ ایک مینار کی شکل کا یہ لائٹ ہاؤ س   سطح سمندر سے ستر فٹ  بلندی پر واقع ہے۔ اس کی روشنی سولہ کلومیٹر کے فاصلے سے بھی دکھائی دیتی ہے۔

اس علاقے کا سب سے مشہور تہوار لارڈ کرشنا کی پیدائش کی یاد میں  منایا جاتا ہے۔ ہندوؤں کے نزدیک یہ علاقہ بھگوان کرشن کی رہائش تھا۔ یہ تہوار کئی دنوں پر مشتمل ہو تا ہے۔  اس موقع پر  مقامی لڑکے ایک بڑا ٹیلہ  تیار کرتے ہیں اور کرشنا کے لباس میں ایک چھوٹا لڑکا اس  ٹیلے  پر چڑھتا ہے۔ اس سارے عمل کو “دھی ہانڈی” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

ایک مرتبہ محمد شاہ نے بھی دوارکا پر حملہ کیا اور مندر کو نقصان پہنچایا۔ اس جنگ کے دوران ، پانچ براہمنوں جن کے نام کچھ یوں تھے؛ وراجی ٹھاکر ، ناتھو ٹھاکر ، کرسن ٹھاکر ، والجی ٹھاکر ، اور دیوسی ٹھاکر۔ انھوں نے مل کر محمد شاہ کا مقابلہ کیا لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ اور وہ سارے کے سارے  مارے گئے۔ اس علاقے کے ہندوؤں کے نزدیک وہ ان کے ہیرو تھے۔ان کی یاد میں  مندر کے پاس ہی ایک عمارت بھی تعمیر کی گئی جسے “پنچ پیر” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پیر اصل میں  مسلمان صوفیہ کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن اس علاقے میں ہندو جنگجو اسےبہادر لوگوں کے لیے استعمال  کرتے ہیں۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب گجرات کے سلطان محمود بیگڑا نے اس شہر  پر حملہ کر کے مندر کوتباہ کر دیا۔ اس جنگ کے دوران ولبھا آچاریہ نے اس مندر سے ایک نہایت ہی مقدس بت نکال کر اسے ایک گمنام گاؤں میں منتقل کر دیا لیکن یہاں بھی  ایک ترک جرنیل نے اس پر حملہ کر دیا اور یوں ہندوؤں کیلیےاپنا بت بچانا مشکل ہو گیا۔

Facebook Comments HS