شیطان کا احترام کریں


کسی سے سوال پوچھیں کہ شیطان سے کیا مراد ہے؟ تو مختلف جوابات ملیں گے۔ مثلاً مذہبی ذہن والے کہیں گے کہ وہ قومِ جنّات سے ہے۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ اُس کے سر پہ سینگ ہوتے ہیں۔ روحانی علوم سے شغف رکھنے والے کہیں گے وہ آپ کا ہمزاد ہے۔ بچے کہیں گے اُس کی شکل بہت خوفناک ہوتی ہے۔ الغرض ہزاروں افراد کے ہزاروں مختلف جوابات ہوں گے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں شیطان کا احترام کرنا چاہیے تو سب لوگ یک زبان ہو کر بولیں گے نہیں اس کو جوتے مارے جائیں پتھر مارے جائیں۔ عرض ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے ننانوے فیصد عوام عملاً اس کا احترام ہی کرتے ہیں۔شیطان اصل میں ہے کیا؟ اور یہ کہ وہ کس طرح کے روپ دھار کر آپ سے ملتا ہے۔ جذباتی لوگ کہیں گے کہ شیطان سے مراد امریکہ ہے یا یہ کہ وہ یور پ میں رہتا ہے۔ عرض ہے کہ شیطان کو امریکہ اور یورپ کے لوگ بالکل پسند نہیں۔ رازدارانِ روحانیت کا کہنا کہ گذشتہ چند صدیوں سے شیطان نے اپنا ہیڈ کوارٹرز انڈیا اور پاکستان والے خطّہ میں منتقل کر رکھا ہے اور وہ یہاں سے ہی بیٹھ کر باقی دنیا کا امن وسکون بھی ڈسٹرب کرتا رہتا ہے۔ خیر۔
چودہ اپریل 2024کو فیس بک کھولی تو کالم نگار روف کلاسرا کی تحریر سامنے آئی۔ لکھا تھا کہ ان کے تعلق والی ایک فیملی عید پہ اسلام آباد آئی اور سینتورس مال گئی جہاں نزدیکی شہروں اور علاقوں سے آئے نوجوان ہلڑ بازی اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی کر رہے تھے۔ ایک بلاگر اقبال خورشید نے لکھا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ عید والے دن ساحلِ سمندر سی ویو جانا چاہتے تھے لیکن ہلڑ بازی کرنے والے نوجوانوں کا رش دیکھ کر واپس آ گئے۔ (اپنے بہاول پور اور لاہور میں تو چودہ اگست والے دن نوجوان پٹاخے کاروں کی کھلی کھڑکیوں سے خواتین کے اوپر پھینک رہے ہوتے ہیں اور پشاور میں گزرنے والوں پہ شیونگ فوم سپرے کی جاتی ہے)۔ کالم نگار محمد عامر ہاشم خاکوانی کی پوسٹ تھی کہ اسلام آباد جانے کے لیے بذریعہ موٹر وے سفر کرو تو راستہ میں پانی کی بوتل یا کوئی چیز خریدنے کے لیے ہزار روپے کا نوٹ دو تو باقی رقم واپس کرتے ہوئے دکاندار آپ کے سامنے پورے نوٹ گنتے ہیں لیکن تکنیک سے ایک نوٹ نیچے گرا دیتے ہیں اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا۔خیر۔
احباب! ان باتوں کو بعد میں دیکھیں گے آپ سنائیں آپ کا رمضان المبارک کیسا گزرا؟ ہمارے بہاول پور میں تو رات کو تین بجے سائرن بج اُٹھتا تھا۔ مساجد کے لاؤڈ اسپیکر بھی آن ہو جاتے تھے۔ سحری کھا کر نماز پڑھ کر سونے کی بہت کوشش کرتے تھے۔ نمازِ فجر کے بعد مساجدکے لاؤڈ اسپیکرز سے کئی گھنٹوں تک فلمی گانوں کی طرز پہ نعتیں پڑھی جاتی ہیں اور چندہ مانگا جاتا ہے۔ فجر، ظہر، عصر اور عشاء کی اذانیں تو لاؤڈاسپیکرز پہ مسلل ڈیڑھ دو گھنٹے تک ہوتی رہتی ہیں لیکن مغرب کی اذانوں کا بھی پونے گھنٹے تک ہوتے رہنا سمجھ نہیں آیا۔خیر۔
کچھ دیر بعد ٹھیلوں ریڑھیوں پہ سبزی، فروٹ، پلاسٹک کے برتن، گول گپے اور دھی بھلے بیچنے والے اور کنگھی سے ٹوٹے بال اور کباڑ خریدنے والے آ جاتے ہیں۔انھوں نے چائنا لاؤڈ اسپیکرز لگائے ہوتے ہیں جن پہ ریکارڈ شدہ ریل بہت ہی بلند آواز سے سارا دن چلتی رہتی ہے۔قریب ہی لوہے کے گیٹ اور کھڑکیاں بنانے والوں اور ویلڈنگ کا کام کرنے والوں نے رہائشی علاقوں میں ہی لوگوں کے مکانات کرایہ پہ لے کر وہاں لوہا کاٹنے والی بجلی سے چلنے والی مشینیں لگائی ہوتی ہیں جن کی بلند آواز پورے علاقہ میں گونج رہی ہوتی ہے۔
ماؤں نے بچوں کی تربیت ایسی کر رکھی ہے کہ وہ انجوائے منٹ کے لیے محلّہ کے گھروں کی ڈوربیل بجا کر بھاگ جاتے ہیں۔ رات کو گلی سے گزرنے والے موٹر سائیکلز بغیر کسی وجہ کے ہارن کی آواز سناتے جاتے ہیں۔ رات گئے اردگرد کے گھروں کے لوگ اپنے گھر کا گیٹ موبائل فون کال سے کھلوانے کی بجائے بار بار ہارن بجا کر کھلواتے ہیں۔ آپ کے گھر میں کوئی بیمار ہے آپ نے صبح اپنے کام پہ جانا ہے ان سے شکوہ کریں تو لڑنے مرنے پہ اتر آتے ہیں۔
شہر میں چھوٹے چھوٹے بچے گاڑیاں اور موٹر سائیکلز تیز رفتاری سے دوڑا رہے ہوتے ہیں۔ ون وے کی خلاف ورزی اور سڑک پہ تجاوزات قائم کرنے کو لوگ قانون کی خلاف ورزی ہی نہیں سمجھتے۔دفتروں میں آپ کا جائز کام ہوتا ہے لیکن جب تک فائل کو پہیے نہ لگائے جائیں کوئی نہ کوئی رکاوٹ ڈال دی جاتی ہے۔
تاجر بھائی قسمیں کھا کھا کر ملاوٹی سامان بھی حد سے زیادہ منافع پہ بیچ رہے ہوتے ہیں۔ آن لائن ای کامرس سے کوئی چیز منگوا لیں تو قیمت ادا کر کے پیکٹ گھر پہ کھولتے ہیں، آرڈر برانڈ کا دیا ہوتا ہے نکلتا لنڈا ہے۔پارک واک کرنے جاؤ تو خواتین گھر کا فرش دھو کر پوری گلی اور سڑک کو تالاب بنا چکی ہوتی ہیں آپ گزر ہی نہیں سکتے۔ دکاندار واٹر پائپ سے سامنے گزرتی سڑک کو تالاب بنائے کھڑے ہوتے ہیں۔
ریسٹورنٹس والے اور قصائی حضرات برکت کے لیے گوشت کے چھیچھڑے فضا میں اچھا ل کر سڑک پہ ہی پھینک رہے ہوتے ہیں۔ چیلیں انھیں جھپٹنے کے لیے موٹرسائیکل سواروں کے سروں سے ٹکرارہی ہوتی ہیں۔ تفریح کے لے پتنگ بازی میں شیشہ لگی ڈور کا استعمال کرتے ہیں۔ اب کہا جائے کہ جس گھر سے بچے پتنگ اڑا رہے ہیں اس کے بڑوں کو گرفتار کیا جائے اور محلہ والوں نے دیکھا بھی کہ بچے گھر کی چھت سے پتنگ اڑا رہے ہیں لیکن ون فائیو پہ پولیس کا اطلاع نہیں دی لہذا محلّہ کے مردوں کو بھی گرفتار کیا جائے تو ایک ہنگامہ کھڑا ہو جائے گا کہ کیا  “شیطانی تجویز” دی جارہی ہے۔ خیر۔
ایک شخص ساٹھ سال کی عمر میں نوکری سے ریٹائر ہوا۔ بڑھاپا کی وجہ سے اس کا جسم روزی روٹی کمانے کے لیے اب محنت مشقت والا کوئی کام نہیں کر سکتا۔ حکومت نے اسے تھوڑی سی رقم دے دی۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اس رقم کو کسی سرکاری بینک کی ماہانہ منافع اسکیم میں رکھ دے تاکہ ہر ماہ جو تھوڑی سا منافع ملے اس سے وہ ڈبل روٹی انڈے، دودھ اور اپنی دوائیاں خرید سکے لیکن مولوی صاحب کہتا ہے کہ یہ سود ہے اور اگر اس نے اپنی جمع پونجی بینک میں رکھی تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔
مولوی صاحب اپنی ولولہ انگیز تقریوں سے اسے ترغیب دیتا ہے کہ اپنی جمع پونجی کا کچھ حصہ مولوی صاحب کے زیرِ انتظام چلنے والے مسجد مدرسہ کو دے کر اپنی آخرت سنوار لے اور جنّت میں اپنا گھر بنا لے گویا مولوی صاحب نے اسے بینک میں انویسٹمنٹ کرنے سے روک کر اس بوڑھے کو نہ صرف شیطانی کام سے روک لیا بلکہ اسے جہنم کی آگ سے بھی بچا لیا۔
وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مولوی اور پیر فقیر بنے لوگ تو محنت مشقت کر کے اپنی روزی کماتے ہی نہیں بلکہ مذہب کی آڑ میں عام آدمی کی خون پسینے کی کمائی سے اپنا حصّہ وصول کر لیتے ہیں تو یاد رہے کہ اس طرح کی باتیں کر کے مولوی صاحب اور پیر صاحب کی مخالفت کر نے والے دراصل شیطان کے پیروکار ہی ہوتے ہیں۔ مولوی نہ ہوتا تو آپ کا نکاح اور جنازہ کون پڑھاتا؟خیر۔
اکبر شیخ اکبر کا خیال ہے کہ شیطان کے کئی روپ ہوتے ہیں۔ وہ میں بھی ہوسکتا ہوں آپ بھی ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس نے وردی پہنی ہو یا وہ بغیر وردی والا ہو۔ ہو سکتا ہے وہ مذہبی روپ میں ہو یا پھر لبرل ہو۔ اس نے کسی تاجر کا روپ دھارا ہویا ہڈ حرام بھکاری بنا ہوا ہو۔ وہ کوئی بہت بڑا سیاسی لیڈر بنا ہوا ہو یا اس لیڈر کاپیروکار اور چاہنے والا ہو۔ وہ بڑا افسر بھی ہو سکتا ہے اور ماتحت بھی۔وہ جج بھی ہوسکتا ہے اور انصاف کا چاہنے والا بھی۔ وہ ساس کا روپ بھی دھار سکتا ہے اور بہو کا بھی۔ مختصر یہ کہ شیطان کے کچھ ایسے روپ بھی ہوتے ہیں جن کا بظاہر آپ احترام کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔خیر،چھوڑیں۔ پالک والے پکوڑوں کے ساتھ چائے نوش کریں اور زندگی کو مثبت طریقے سے انجوائے کریں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments