عزم و ہمت و مقاومت کا نشان
تہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جینوا
شاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!
علامہ محمد اقبال
علامہ محمد اقبال نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ اگر عالم مشرق کے فیصلے تہران میں ہونے لگ جائیں تو شاید اس مفلوک الحال عالم مشرق کی تقدیر غلامی کی بجائے آزادی سے تعبیر ہو۔ علامہ صاحب کی اس امید کے پیچھے ایک تاریخی پس منظر ہے۔ زمانہ قدیم سے فارس کے لوگ، جو کہ اب موجودہ ایران ہے، کامیاب ترین سفارتکار مانے جاتے ہیں اور علامہ صاحب کو یہ امید تھی کہ فارس اگر عالم مشرق کی سربراہی کرے گا تو یہ لوگ اپنی جادوئی سفارتکاری کے زریعے سے دنیا میں عالم مشرق کو ایک ممتاز مقام دلوا سکتے ہیں۔ کامیاب ترین سفارتکاری کی حالیہ مثال ایران اور امریکا کے مابین ہونے والا معاہدہ ہے جو کہ سن دو ہزار سولہ میں ہوا اور اس میں ایرانی سفارتکاروں نے امریکی سخت موقف کے باوجود اپنی اکثر شرائط منوا لیں۔ اس امر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعد میں آنیوالے امریکی صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
ایران نے ١٩٧٩ کے اسلامی انقلاب کے بعد سے لیکر آج تک اصولی موقف اپناتے ہوئے امریکا کی عالمی بادشاہت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ ایران نے قومی غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے امریکا کی کالونی بننے سے صاف انکار کیا ہوا ہے اور اپنی آزاد پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے سے لیکر عراق، شام، افغانستان اور دیگر ممالک میں امریکی مداخلت کی بھی بھرپور مخالفت کی ہے۔ داعش کو شکست دینے سے لیکر حزبُ الله اور حماس جیسی مزاحمتی تنظیموں کی بھرپور حمایت کی ہے۔ دنیا کے تمام مظلوموں کی ایران نے ہمیشہ حمایت اور ظالموں کی مخالفت کی ہے۔ ایران آج کی دنیا میں وہ واحد ملک ہے جو امریکی عالمی بادشاہت کے سامنے عزم و ہمت اور حوصلہ کے ساتھ کھڑا دیکھائی دیتا ہے۔ ایران نے دیگر ممالک کو بھی یہ ہمت دی ہے کہ وہ اپنے فیصلے آزادی اور امریکی دباؤ کے بغیر کر سکیں۔
اس ہمت اور بہادری کی قیمت بھی ایران نے بہت زیادہ چکائی ہے۔ ایران قدرتی طور پر تیل اور گیس کی دولت سے مالامال ہے لیکن امریکا کی مخالفت کی وجہ سے اس پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ موجودہ عالمی نظام امریکا کا تخلیق کردہ ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ کا کھلونا بن چکا ہے۔ تمام عالمی ادارے امریکی اشاروں پر ناچتے ہیں اور ہر اس ملک پر پابندیاں لگانے میں جلدی کرتے ہیں جو امریکی مفادات کے خلاف جاتا ہے۔ اس جدید امپیریل ازم کی وجہ سے ایران پر بے شمار عالمی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جنکی وجہ سے ایران کی ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ امپورٹ کرنے میں بھی ایران کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس سب کے باوجود ایران کے باشندوں نے اپنے محدود وسائل میں جینا سیکھ لیا ہے۔ ضروریات زندگی کی تقریباً تمام اشیاء میں ایران خود کفیل ہو چکا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء سے لیکر دفاعی ہتھیاروں تک، ایران میں ہی تیار ہوتے ہیں۔ باقی دنیا سے تقریباً کٹ آف ہونے کے باوجود ایران کا ١٩٧٩ سے لیکر آج تک سروایو کرنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ اس سے اس قوم کے عزم و ہمت و حوصلے کی پہچان ہوتی ہے۔ اس سے ایرانی قوم کی غیرت کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے امریکی عالمی بادشاہت قبول کرنے کی بجائے اپنی مشکلات کو ترجیح دی۔ انہوں نے اپنی قومی غیرت کو امریکا کو بیچنے کی بجائے امریکی مخالفت کا مشکل ترین راستہ اختیار کیا کہ جس میں انکو عالمی پابندیوں کا سامنا ہے۔ ایران کے پاس امریکی غلامی کا آسان راستہ موجود تھا جو کہ ١٩٧٩ کے اسلامی انقلاب سے پہلے شاہ ایران نے اختیار کیا ہوا تھا اور ساری عالمی سہولیات اسے میسر تھیں لیکن اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے امریکی غلامی نامنظور کا نعرہ لگایا جس کے اثرات وہ آج تک بھگت رہا ہے۔ لیکن ایران نے مشکلات کو اپنانے میں اپنی فتح سمجھی اور امریکی کالونی بننے میں اپنی قومی رسوائی سمجھی۔
چند دن پہلے اسرائیل پر جوابی حملہ بھی ایران کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ ستاون اسلامی ممالک میں سے صرف ایک ایران ہی ہے کہ جس نے کھل عام اسرائیل کی فلسطین میں ظلم و بربریت کو للکارا ہے۔ اور یہ صرف ایران ہی ہے جو اسرائیل اور اسکے مالک امریکا کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ ایران کے حالیہ حملے نے اسرائیل کے تمام بلند و بانگ دعووں کو کھوکھلا ثابت کر دیا ہے اور امت مسلمہ کو بھی ایک پیغام دیا ہے کہ اگر ایک اکیلا ایران یہ اقدام کر سکتا ہے تو پھر ستاون اسلامی ممالک ملکر اپنے مسلمان مظلوم فلسطینی بھائیوں کو اسرائیلی ناجائز تسلط سے کیوں نہیں چھڑوا سکتے؟ لیکن پھر سوال تو یہ ہوگا کہ کیا مسلم ممالک امریکی عالمی تسلط سے بغاوت کریں گے؟ کیا مسلم ممالک ایران کی طرح قومی غیرت کو ترجیح دیں گے یا پھر نام نہاد ملکی مفادات کی خاطر مسلم امہ کے مفادات کو قربان کر دیں گے؟ ایران کی طرح امریکی عالمی بادشاہت کو للکارنے سے ہی مسلم امہ کے مسائل حل ہونگے۔ آزاد اور خود مختار اسلامی بلاک ہی میں مسلم امہ کے مسائل کا حل پوشیدہ ہے۔
Facebook Comments HS


