دمہ اور بلغمی امراض سے بچاؤ
مصنف: باسط حلیم علامہ (ہربل فزیشن)
کچھ بیماریاں ایسی ہیں جو ختم نہیں ہوتیں مگر اچھے طرز زندگی سے دبائی جا سکتی ہیں، اچھی خوراک کے استعمال، ناقص غذا سے پرہیز، بہتر ماحول اور معمولی دوا کی بدولت بیماریاں ایسے دب جاتی ہیں جیسے وجود ہی نہ رکھتی ہوں۔
ایسی بیماریوں میں ایک بیماری دمہ ہے۔ دمہ اور نظام تنفس کی بیماریاں ان چار بڑی بیماریوں میں سے ایک ہے جو سب سے زیادہ موت کی وجہ بنتی ہیں۔
دمہ کے اور بھی نام ہیں جیسے استھمہ، تنگی تنفس۔ دمہ اور دیگر بلغمی نزلہ، کیرا، ناک کی ہڈی بڑھ جانا، چھینکیں، پھیپھڑا کی کمزوری، سل دق (ٹی بی ) کا علاج ممکن ہے۔ ذیل میں صرف دمہ سے مستقل نجات کے لیے طرز زندگی تجویز کیا گیا ہے مگر یہ طرز زندگی بلغمی امراض، امراض دل و دماغ، امراض معدہ و جگر، بواسیر سمیت بیسیوں امراض پر قابو پانے میں بھی مفید ہے۔
(نوٹ: درج ذیل تجاویز پر عمل کرنے سے ناک کی غدود کا مسئلہ بھی مستقل حل ہوجاتا ہے )
آپ کا مزاج بلغمی ہے، اس کا اظہار تو بلغمی امراض سے ہوجاتا ہے مگر بعض افراد کو پھیپھڑا کی کمزوری و بیماری کے باوجود بلغم پیدا نہیں ہوتی۔ ایسے افراد کو دو علامات کا جائزہ لینا چاہیے، اگر ان کا آواز کم ہو رہا ہے، جب بولتے ہیں توپھیپھڑا کا زور لگا کر بولتے ہیں یا ان کا سینہ جسمانی طور پر سکڑ رہا ہے، تنگ ہو رہا ہے تو جان لیں آپ بھی از قسم سل دق بیماریوں کی آماجگاہ بننے والے ہیں۔ عموماًسینہ کا سکڑنا اصل میں پھیپھڑا سُکڑنے ہی کی وجہ ہوتا ہے۔
یہ سمجھنا جاننا ضروری ہے کہ آپ کو اوائل عمری سے یا لمبے عرصہ سے بلغمی امراض کا سامنا رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر طے شدہ بات ہے کہ مستقبل اور بڑھاپے میں اسی قبیل (کلاس) کی بیماریاں آپ کے لیے خطرناک اور مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔
کیرا آنا
مستقل نزلہ، زکام، چھینکیں
تنگی تنفس، دمہ
کھانسی
گلا کی خراش
سینہ کا سکڑاؤ
مشقت سے نزلہ زکام لگ جانا
اس قسم کی بیماریوں سے سے بچنے کے لیے چارنکاتی اصول اپنائیں۔
اچھی اور موزوں غذا استعمال کریں تاکہ قوتِ مدافعت برقرار رہے۔
ناقص اور بیماری کو پروان چڑھانے والی غذا سے پرہیز کریں۔
موزوں طرزِ زندگی اپنائیں
حفظ ماتقدم ضروری دوائیں استعمال کریں۔
مفید غذائیں
اس قسم کی بیماریوں میں درج ذیل غذائیں استعمال کی جا سکتی ہیں :۔
تازہ پانی، دودھ پتی
چکن، دیسی مرغ، خرگوش، پرندوں کا گوشت
خشک روٹی
کھجور، انجیر، شہد، میوہ، پستہ، شہتوت
انڈا (زردی کے بغیر) ۔
آم، آڑو، آلوبخارا، پپیتہ، انگور، خرمانی، خربوزہ
کدو، ٹینڈے، مولی، شلغم، پیٹھا، توری
ناقص غذائیں
درج ذیل غذائیں ہمیشہ کے لیے ترک کردیں۔
بیف، اوجری، کلیجی، سری، پائے، مغز، زبان، پھیپھڑا وغیرہ
اچار، تمام کھٹی چیزیں، کچاپیاز، لیموں
تمام مشروبات (سوائے پانی، دودھ پتی، قہوے )
میدہ سے بنی تمام چیزیں جیسے بیکرز پروڈکٹس، نان وغیرہ
مٹھائیاں، فاسٹ فوڈ، کیچپ، بازاری چٹنیاں، نوڈلز، پاستے
کیلا، ترش پھل
پراٹھا، تلی ہوئی چیزیں
بناسپتی گھی، دیسی گھی، مکھن
انڈے کی زردی ( بیس سال سے کم عمر افرادزردی بھی کھاسکتے ہیں )
گوبھی، بھنڈی، آلو، اروی، پھلیاں، ساگ
دال ماش، چاول، تربوز
اخروٹ، بادام، مونگ پھلی، کاجو
وہ غذائیں جو کم استعمال کی جا سکتی ہیں۔
چاول
دال مونگی، دال چنا، چنے، پالک، میتھی، مٹن
دیگر ہدایات
نیند پوری رکھیں۔
موسم کے مطابق خوراک استعمال کریں۔
پولوشن سے بچیں۔
حبس والی جگہ پر نہ رہیں۔
بدپرہیزی ہو تو اس کو کاؤنٹر کرنے کے لیے دودھ پتی لیں، ضرورت ہو تو احتیاطً اپنی دوا بھی لیں۔
شام کے کھانے کے ایک گھنٹہ بعد واک کریں۔
قوت مدافعت برقرار رکھنے کے لیے وائٹ گوشت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں خواہ ایک بوٹی روز کھائیں۔
گرمی میں بھی بہت ٹھنڈا پانی استعمال نہ کریں۔
اگر آپ بدپرہیزی کرتے ہیں تو اس کا سدباب کریں مثلاً چاول کھائے ہیں تو اس کے بعد بوتل پینے کی بجائے دودھ پتی یا قہوہ لیں۔ اگر کبھی لسی پی لی ہے تو اس دن دودھ پتی بھی لیں۔ گرمی سردی ہر موسم میں دودھ پتی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
وہ دائیں جو بلاخوف و خطر ہمیشہ استعمال کی جا سکتی ہیں۔
1۔ خمیرہ گاؤزبان
ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچ ڈال کر قہوہ لیں
2۔ لعوق سپستان
گرم پانی میں استعمال کریں
3۔ شہد
گرم پانی میں استعمال کریں
4۔ زعفران
گرم دودھ میں سونف اور زعفران ڈال کر استعمال کر سکتے ہیں۔
5۔ شربت بنفشہ ( کسی بھی سرٹیفائیڈ کمپنی کا لے لیں )
دودھ پتی اور تازہ پانی میں استعمال کر سکتے ہیں۔
6۔ لال شربت قرشی
سختی والی کھانسی میں بلغم باہر نکالنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
7۔ پتی اور دارچینی کا قہوہ لے سکتے ہیں۔


