ناول: چینی جو میٹھی نہ تھی
”چینی جو میٹھی نہ تھی“ نو آبادیاتی پس منظر میں تحریر کیا گیا ناول ہے۔ پہلی بار یہ 2013 میں ولندیزی زُبان میں شائع ہوا اور اس کا اردو ترجمہ 2016 میں پاکستان سے چھپا۔ اس کا ایک اردو ایڈیشن حال ہی میں بھارت سے بھی شائع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2016 میں صفدر زیدی کا ناول بھاگ بھری شائع ہوا جو پاک بھارت جوہری ٹکراؤ پر تحریر کیا گیا تھا اور 2022 میں ان کا ناول بنتِ داہر بھی منظر عام پر آیا جو راجہ داہر کی محمد بن قاسم کے ہاتھوں شکست پر تحریر کیا گیا ہے۔
ہمارے ہاتھوں میں اس ناول کا پہلا ایڈیشن ہے، اس کے 252 صفحات ہیں اور اس کے 4 حصے ہیں۔ پہلا حصہ جو 21 ابواب پر مشتمل ہے جس میں موجودہ دور کے ڈچ شہر دی ہیگ کے رہائشی راج اور لکشمی کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ راج ڈچ وزارت خارجہ میں افسر ہے جو کچھ عرصہ سے نفسیاتی الجھاؤ کا شکار ہے اور خوابوں میں اُسے جسمانی تشدد سہنا پڑ رہا ہے۔
دوسرا حصہ برٹش انڈیا دور کے متعلق ہے جسے مشرقی اُتر پردیش میں گنگا کنارے ایک گاؤں کے پسِ منظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس حصے کے مرکزی کردار بھی راج اور لکشمی ہی ہیں۔ اس میں ایسے غریب کسانوں کی کہانی بیان کی گئی ہے جو بھاری قرض تلے دبے ہوئے ہیں اور وہ جو کچھ کماتے ہیں وہ سود کی مد میں سیٹھ لے جاتا ہے۔
ناول کے تیسرے حصہ میں برطانوی بھارت میں کسمپرسی کی سی حالت میں زندگی گزارتے غریب کسانوں کے ولندیزی کالونی سورینام کی جانب بحری سفر کی داستان قلم بند کی گئی ہے۔ اسی حصہ میں ہی کم اجرت اور اوزاروں کی قلت کے باوجود ان کی سورینام کے کھیتوں کو زرخیز بنانے اور گنے کی فصل کو ترقی دینے کی روداد بیان کی گئی ہے۔
چوتھا حصہ جو کہ بالکل مختصر ہے میں مصنف کہانی کو ماضی کے جھروکوں سے نکال کر پھر سے حال میں لے آتا ہے اور راج جس کا دماغ ماضی میں پھنسا ہوا ہے ایک لمبے خواب سے جاگتا ہے تو اُس پر عیاں ہو جاتا ہے کہ وہ وہی راج ہے جس نے اپنے پچھلے جنم میں ہندوستان سے سری نام کی طرف ہجرت کی تھی۔
یہ سامراجی جبر کی داستان ہے۔ اس کا پلاٹ نو آبادیاتی دور میں غربت کی چکی میں پستے ان محنت کشوں کے متعلق ہے جو شدید معاشی، سماجی اور نفسیاتی دباؤ کی گرفت میں تھے۔ اس کی کہانی جفاکشوں کی ہندوستان سے سورینام نقل مکانی کے گرد گھومتی ہے۔ سورینام (لاطینی امریکا) کا ایک ملک ہے جو ماضی میں ولندیزی کالونی رہا ہے۔ انیسویں صدی میں جب اقوام عالم نے غلاموں کی خرید و فروخت اور اُن سے بالجبر کام لینے پر پابندی عائد کر دی تو مزدوروں کی قلت پیدا ہونے کی وجہ سے سامراجی نظام میں دراڑیں پیدا ہونے لگیں۔ اس بحران سے نکلنے کے لیے کرتا دھرتاؤں نے سر جوڑے اور آپسی تعاون سے ایسا حل نکالا کہ مزدوروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دیگر نو آبادیوں سے محنت کشوں کو ان جگہوں پر بھیجنے کا فیصلہ کیا جہاں کمی واقع ہو گئی تھی۔
ناول کے دونوں ادوار میں مردوں کے مقابلے میں صنفی کردار زیادہ مضبوط ہیں۔ مرکزی کردار لکشمی اور دیگر خواتین میں جہاں معاملات کو سلجھانے کی قابلیت موجود ہے وہیں ان میں استقامت اور برداشت بھی زیادہ ہے۔ لکشمی کو پہلے حصے میں بھی خوش اخلاق، پُر اعتماد اور اعانت کار کے روپ میں دکھایا دکھایا گیا ہے، اور دوسرے حصے میں بھی وہ اپنے خاوند کا ہر معاملے میں ساتھ دیتی ہوئی دکھائی گئی ہے اور فیصلہ سازی میں بھی اُس کا کردار اہم ہے۔ پہلے حصے میں راج کا کردار نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے اور وہ گومَگو کی سی کیفیت میں ہے جس کی وجہ سے غلط فیصلے کر بیٹھتا ہے۔ دوسرے حصے میں وہ جذباتی و انقلابی شخصیت کا مالک ہے اور بزورِ بازو اپنے حقوق حاصل کرنے کی دُھن سوار ہے۔
”چینی جو میٹھی نہ تھی“ کے مطالعہ کے بعد ہم نے چند ایک اہم نکات اخذ کیے ہیں جن کی مدد سے اس ناول کے مقاصد کا احاطہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے ذریعے نو آبادیاتی نظام میں سامراجی قوتوں کے ہاتھوں پستے مجبور اور بے کس انسانوں کی زندگیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ وہ ظلم اور بربریت برداشت کرتے ہوئے سامراجیوں کے عزائم پورا کرنے کی خاطر اپنی جانیں تک گنوا بیٹھتے ہیں۔
اس کے بعد ہم یہ سیکھتے ہیں کہ کس طرح روحانی کمزوری اور نفسیاتی الجھاؤ انسان کی ذاتی زندگی کو تہس نہس کرتا ہے اور ساتھ ہی اُس کے سماجی تشخص پر بھی وار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں اس میں صوفی ازم کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ مصنف نے خوش اسلوبی سے یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ انسان بیمار تب ہوتا ہے جب اس کی روح کمزور پڑتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دوا سے زخم بھر جاتے ہیں اور بیماری کا علاج بھی ممکن ہے لیکن اگر روح بیمار ہے تو وہ یقیناً نفسیاتی مسائل کا شکار ہے جس کے لیے روحانی علاج درکار ہے۔
چوں کہ کہانی کا دوسرا حصہ برطانوی ہندوستان کے پسِ منظر میں تحریر کیا گیا ہے اور صدیوں سے اس خطہ میں بین المذاہب اقوام آباد رہی ہیں جو اپنے مختلف مذہبی عقائد اور عدم برداشت کی وجہ سے ایک دوسرے پر رسا کشی میں مصروف رہی ہیں جس کی وجہ سے یہاں گاہے بگاہے فسادات جنم لیتے رہے ہیں۔ لیکن اس کہانی کے ذریعے مصنف نے ایک ایسا خواب بُنا ہے کہ ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جس میں اتحاد بین المذاہب کو فروغ دیا جا سکے۔ وہ لوگ جو بھارت میں ایک دوسرے کے مخالف نظر آتے ہیں جب بحری جہاز پر سوار ہو کر سورینام کی طرف گامزن ہوتے ہیں تو تفرقہ اور عقائد کو بھلا کر ایک دوسرے کے قریب ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی ہر لحاظ سے مدد کرتے ہیں حتی کہ پنڈت بھی اس میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ اور سورینام پہنچ کر جب مسلمانوں کے مذہبی تہوار آتے ہیں تو ہندو ان کے مددگار بن کر ہر سہولت فراہم کرتے ہیں۔
صفدر زیدی کے دوسرے ناولوں کی طرح اس کا اسلوب بھی سادہ ہے اور اس میں آسان فہم زبان استعمال کی گئی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ تحریر بھی ارتقائی میں رہتی ہے اس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود ہے۔ بہت ہی اہم موضوع ہے حسِ جمالیات اور منظر نگاری کے فن سے ناول کو مزید نکھارا جا سکتا تھا۔ پہلا حصہ زیادہ طویل ہے جب کہ دوسرے اور تیسرے حصے میں جہاں دل چسپی کا سامان موجود ہے وہیں اس میں وسعت کی گنجائش ابھی بھی باقی ہے۔ پہلے ابواب میں اِملا کی اغلاط موجود ہیں اور میرا خیال ہے یہ عجلت کی وجہ سے ہوا ہے۔


