نقل مافیا اور وزیر تعلیم کا امتحان


کسی بھی معاشرے اور سماج کی تباہی میں سب سے زیادہ کردار تعلیم کی ناقص پالیسیاں اور کارکردگی ہے۔ قوم کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کسی میزائل یا ٹینک کی مدد لینے کی بجائے تعلیمی نظام میں ناقص پالیسی کا نافذ العمل ہونا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جس کے تعلیمی نظام میں بے شمار خامیاں ایسی ہے۔ جس سے یہ نظام روز بروز تباہی و بربادی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے، ان خامیوں میں نقل سر فہرست ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں نقل کے حوالے سے وزیر اعلی پنجاب اور وزیر تعلیم آج کل بہت سرگرم ہیں۔

وزیر اعلی پنجاب اور وزیر تعلیم حلف برداری کے فوراً بعد نقل مافیا کے خلاف متحرک نظر آتے ہیں۔ رانا سکندر حیات کی خوش قسمتی سمجھ لیں کہ وہ میٹرک امتحانات میں جس امتحانی مرکز میں گئے وہاں نقل کے واضح ثبوت نظر آئے۔ جس میں اکثر طلباء نے اساتذہ پر رشوت کے ذریعے نقل کروانے کا الزام لگایا۔ وزیر تعلیم کسی مخبری پر گئے یا کسی سازش کا حصے بنے، یہ بحث ضروری نہیں ہے کیونکہ اساتذہ تنظیمیں اس الزام سے انکاری ہیں۔

ان اساتذہ میں اکثریتی تعداد پرائیویٹ اساتذہ کی تھی۔ جس پر پنجاب بورڈز نے فوراً سرکاری اساتذہ کو تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے۔ وزیر تعلیم کو نقل کے واضح ثبوت ملنے پر خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے اور نہ کسی کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع ہو سکی، صرف لاہور بورڈ کے چیئرمین اور کنٹرولر کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ پنجاب بورڈ ہر امتحان سے پہلے نقل کی روک تھام کے حوالے سے واضح احکامات جاری کرتا ہے۔ اس حوالے سے معروضی سوالات کی نقل پر کسی حد تک قابو بھی پا لیا گیا۔

معروضی سوالات کو امتحان سے پندرہ سے بیس منٹ پہلے کھول کر بذریعہ واٹس ایپ نقل مافیا کو بھیجا جاتا تھا۔ جس پر وہ اس معروضی سوالات کو حل کر کے طلباء کو جوابات بتا دیتے تھے، تو طلباء امتحان میں وقت سے پانچ منٹ پہلے پہنچ بھی جاتے تھے۔ چند سال یہ سلسلہ جاری رہا بورڈز نے مختلف شکایات کے بعد نقل کے اس طریقے پر تقریباً قابو پا لیا ہے۔ امتحانی مراکز میں نگران عملہ کے موبائل پر پابندی لگانے سے نقل مافیا کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔

امتحان میں نقل مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے۔ جس میں اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں طلباء کے پیپر سے دیکھ کر لکھنا، یہ نقل سب سے زیادہ ہے۔ جس پر آج تک بورڈز اور نگران عملہ قابو پانے میں ناکام ہے، اگر طالب علم بہت زیادہ نکما اور نالائق ہو تو اس طالب علم کی جگہ نقل مافیا اور نگران عملے کے تعاون سے دوسرا طالب علم پیپر دیتا ہے۔ جس میں نقل مافیا نے ایسے طلباء کو باقاعدہ تربیت دے رکھی ہے۔ ان مراحل میں نقل مافیا ناکام ہو تو اس سے آگے جہاں اور بھی ہے۔

یہ عملہ بنک عملے سے مل کر رات کی تاریکی میں پیپر بنڈل کھول کر پیپر کو حل کرتا ہے۔ جس سے نقل مافیا اپنا اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس سے آگے سکریسی برانچ میں بھی سکریسی علمہ اور بورڈ کا عملہ مل کر مطلوبہ پیپر باہر لے جاتے ہیں اور نقل مافیا سے رقم بٹورتے ہیں۔ اس کے ساتھ نقل مافیا کو پیپرز چیکنگ کے مراکز کا پتہ دیتے ہیں جس پر نقل مافیا اپنے پیپرز کے چیک ہونے سے پہلے چیکنگ مرکز میں پہنچ جاتے ہیں۔

بورڈ میں امتحان کے نتائج مرتب کرنے والا کمپیوٹر سیکشن کا عملہ بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ نتائج میں ردو بدل کا مکمل معاوضہ حاصل کرتا ہے۔ بچوں کو پانچ سے دس نمبرز تک پاس کرنے کا مکمل اختیار رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نقل مافیا امتحان کے شروع ہونے، نگران عملہ تعینات کروانے سے نتائج کے رد و بدل تک مکمل دسترس رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کو بھی نقل کے لیے استعمال کیا ہے۔ جس میں سمارٹ واچ ( گھڑی) کو استعمال کرتے ہوئے گوگل یا تصاویر سے نقل کی جاتی ہے۔

بلیو ٹوتھ اور کال کے ذریعے طالب علم بیرونی ربط سے مطلوبہ مواد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ وزیر تعلیم کو تمام مراحل پر نظر رکھنی ہوگی۔ ایک در بند ہونے سے نقل مافیا دوسرے در سے اپنا کام کروانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کے لیے اب یہ امتحان ہے کہ وہ انیس ( 19 ) اپریل سے شروع ہونے والے انٹرمیڈیٹ امتحانات میں اس نقل کو روکنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں؟ اساتذہ میں چھپی کالی بھیڑیں کیا اس بار بھی امتحان میں سرگرم نظر آئے گی؟

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بار نقل مافیا اپنی منفی حرکتوں سے باز رہے گا اور محتاط ہو جائے گا؟ اس کا جواب تو وقت آنے پر ملے گا۔ نقل مافیا اور بورڈ کے اکثر ملازمین اس معاملے میں ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ ایک دوسرے کی ضروریات کو سمجھاتے ہوئے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کنڈکٹ برانچ میں نگران عملہ تعینات کروانے اور سکریسی برانچ سے نتائج کے رد و بدل میں بورڈ کا عملہ مکمل ذمہ دار ہے۔ حال ہی میں کنڈکٹ برانچ کے عملے کا طویل مدت کے بعد تبادلہ کیا گیا ہے جو خوش آئند ہے۔

اس فیصلے کو اساتذہ تنظیموں نے سراہا ہے۔ نقل کے لیے اساتذہ کو ذمہ دار ٹھہرانے پر اساتذہ تنظیموں میں غم و غصّے کی فضا پیدا ہوئی تھی۔ اساتذہ تنظیمیں نقل کے حوالے کسی بھی قسم کا الزام اساتذہ پر لینے کو تیار نہیں ہے۔ اس معاملے میں وہ اپنی استاد کمیونٹی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ اس حوالے سے اساتذہ تنظیموں کو چاہیے کہ اساتذہ کی صف میں چھپے لالچی اور نقل مافیا کے کارندوں کو سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کو چاہیے کہ نقل مافیا پر قابو پانے کے لیے محکمہ تعلیم کے اساتذہ کو سال میں ایک ڈیوٹی کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ چار امتحانات میں ایک ہی عملے کے تعینات ہونے سے رشوت اور نقل کے واضح امکانات ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے اساتذہ تنظیموں کو چاہیے کہ اساتذہ میں آگاہی مہم چلائیں اور ہر استاد کو ایک ڈیوٹی ہی کرنے پر رضا مند کیا جائے۔ تصاویر کے ساتھ طلباء کی حاضری اور جواب نامہ پیپر (Answer Sheet) پر انگوٹھے کے نشانات فرضی ہی لگائے جاتے ہیں۔

ان انگوٹھے کے نشانات کا طالب علم کے داخلہ فارم میں نشانات سے موازنہ کیا جائے تاکہ متبادل طالب علم کے ذریعے نقل پر قابو پایا جا سکے۔ موبائل انسپکٹر کو کم از کم پانچ طلباء کا معائنہ کرنا چاہیے۔ وہ صرف سپریٹنڈنٹ سے دستخط کروا کر رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ آئی آر کو امتحان کے آس پاس مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ طلباء میں نقل کی روک تھام کے لیے اخلاقی اقدار پر مبنی لیکچرز کی اشد ضرورت ہے۔ طلباء میں نقل جیسے ناسور کے لیے شعور پیدا کر کے نقل مافیا کو ناکوں چنے چبوائے جا سکتے ہیں۔

اس حوالے سے موٹیویشنل سپیکرز کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہے۔ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر اس حوالے سے کالم اور تحریریں شائع کی جا سکتی ہے۔ محکمہ تعلیم میں ہشتم تک پاس اور فیل کا تصور ختم ہونے سے نالائق بچے بورڈز امتحان تک پہنچ جاتے ہیں اور پھر وہ نقل کا سہارا لیتے ہیں۔ ہماری قوم کے طلباء بہت سہل پرست ہو گئے ہیں اور وہ ہر امتحان میں کامیابی بغیر محنت سے حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے جائز و ناجائز ذرائع کو استعمال کرنے پر رضا مند ہو جاتے ہیں۔

وزیر تعلیم رانا سکندر حیات آپ سے درخواست ہے کہ اگر آپ نے نقل مافیا پر ہاتھ ڈال دیا ہے تو اب اس کو گھر تک چھوڑ کر آنا ہے۔ اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ مجھے قوی امید ہے کہ اساتذہ تنظیمیں اور اساتذہ اس معاملے میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ انٹرمیڈیٹ کا یہ امتحان آپ کے لیے ایک کڑا امتحان ہے اس کو قبول کرتے ہوئے نقل مافیا کو اس کی اوقات یاد دلائیں۔ انشاء اللہ آپ کو کامیابی ضرور دے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ اگر نقل مافیا پر قابو پا لیا تو پنجاب سمیت پاکستان کی ترقی کی طرف یہ ہمارا پہلا قدم ہو گا جو ہم نے کسی ناسور کو ختم کر کے اٹھایا ہو گا۔

 

Facebook Comments HS