کل داخلہ، پرسوں آپریشن!
فائل پہ کچھ لکھتے ہوئے سر اٹھائے بغیر ڈاکٹر نے اپنی کرخت آواز میں کہا۔ کل داخل ہو جانا، پرسوں سیزیرین کریں گے۔
چلیں جی اگلا مریض۔ اور سامنے بیٹھی جواں سال لڑکی پوچھ ہی نہ سکی کہ کیوں؟ ایسا بھی نہیں تھا کہ لڑکی ان پڑھ جاہل تھی۔ لارنس کالج میں پڑھانے والی کو ڈاکٹر نے موقع ہی نہیں دیا کہ وہ سوال کرتی۔
یہ ہماری آپا تھیں۔
ہم ایف ایس سی کے بعد سکول میں پڑھا رہے تھے۔ میڈیکل کالج میں داخلے کا پروانہ بھی مل چکا تھا بس انتظار تھا اس خط کا کہ کلاسز کب شروع ہونی ہیں۔
گھر میں ویسے ہی خوشی کا سماں تھا کہ شادی کے تین برس بعد آپا پہلی بار ماں بننے والی تھیں اور امی ابا نانی نانا۔
امی کی تیاری مکمل تھی، چھوٹے چھوٹے فراک، لنگوٹ، بچھونیاں، چھوٹا سا بستر، تولیے، بنیانیں۔ آپا ملٹری ہسپتال میں چیک اپ کروا رہی تھیں۔
وہ غالباً مارچ کی پانچ یا چھ تاریخ تھی جب آپا ہسپتال سے چیک اپ کے بعد آئیں تو منہ کافی لٹکا ہوا تھا۔ امی نے پریشان ہو کر پوچھا تو آپا نے بتایا کہ آپریشن ہو گا۔
کیا وجہ؟ امی نے پوچھا
کوئی وجہ نہیں بتائی۔
بھئی کوئی نہ کوئی وجہ تو ہو گی نا۔ امی بولیں
آپا چپ رہیں۔
امی کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اس پریشانی میں خالہ ثریا کو بلا بھیجا۔ امی اور خالہ ثریا زمانوں سے ایک دوسرے کی دوست تھیں۔
خالہ ثریا نے ساری بات سنی تو انہیں بھی کچھ سمجھ نہیں آیا۔ ان کے چار بچے۔ اور امی کے سات بچے سب کے سب ویجائنل ڈیلیوری سے۔
یہ آپریشن کا کیوں کہہ دیا ڈاکٹر نے؟
وجہ پریشانی آپریشن نہیں تھا، بلکہ وہ سوال تھا کس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔
ابا، امی، بہنوئی، ہمسائیاں۔ سب کی معلومات زچگی کے معاملے میں صفر۔
ماضی کے آنگن میں چالیس برس پہلے کی یہ تصویریں نظر آتی ہیں تو ہم حیرت زدہ رہ جاتے ہیں کہ عورتیں کیسے زندگی گزارتی تھیں؟
وہ زندگی گزارتی تھیں یا زندگی انہیں گزارتی تھی؟
امی اور خالہ ثریا جب یہ پہیلی بوجھنے میں ناکام رہیں تب خالہ ثریا نے تجویز پیش کی کہ کسی پرائیویٹ ڈاکٹر کو دکھا لیں۔
امی کو تو کبھی کسی گائنی مشکل کا سامنا ہوا نہیں تھا سو انہی سے کہُنے لگیں تم بتاؤ؟
زہرہ نرسنگ ہوم چلتے ہیں۔ لال کڑتی میں یا شاید لالہ زار۔
ہم گھر میں چلتے پھرتے یہ گفتگو سن رہے تھے۔ لقمہ دینے کی عادت تو بہت تھی مگر بدقسمتی سے اٹھارہ برس کی عمر میں زچگی کی الف بے سے بھی ناواقف تھے۔ امی اپنی زچگیاں ہمارے بچپن میں نمٹا چکی تھیں۔
زہرہ نرسنگ ہوم سے واپسی ہوئی تو ہم نے بے چینی سے پوچھا، کیا کیا ڈاکٹر نے؟
کچھ خاص نہیں۔ کہنے لگی کہ آپریشن کی ضرورت تو نہیں۔ نارمل ہو جائے گی۔
کب؟ ہم نے بے چینی سے پوچھا۔
کہہ رہی تھی کہ اگر دو چار دن میں درد شروع نہ ہوئے تو مصنوعی درد لگا دے گی۔ آپا نے بتایا۔
ایک مختصر دورانیے کی پریشانی کے بعد گھر بھر میں سکون تھا کہ ڈاکٹر نے کہہ دیا ہے۔ ستے خیراں۔
دو ہی دن کے بعد ہم سو کر اٹھے تو دیکھا امی آپا کی چیزیں اکٹھی کر رہی ہیں، آپا کے چہرے پہ تکلیف کے آثار ہیں اور بہنوئی ٹیکسی لینے جا چکے ہیں۔ یہ تو ہونا ہی ہے۔ کہتے ہوئے ہم سکول کی طرف چل دیے جہاں بچے ہماری راہ تک رہے تھے۔
اس دن سکول میں کوئی فنکشن تھا سو ہماری واپسی کچھ دیر سے ہوئی۔
دل میں کھد بھد تو بہت تھی لیکن کس سے پوچھیں؟ کیسے پوچھیں؟ ابھی ہر کسی کی ہتھیلی نے فون کا ذائقہ نہیں چکھا تھا اور نہ ہی پل پل کی خبر ادھر سے ادھر ہوتی تھی۔
خیر جناب، گھر واپس آئے تو ہمارے خالہ بننے کی خبر زبان زد عام تھی۔ ساڑھے آٹھ پونڈ کی صحت مند بچی بہت سے لوگوں کو ایک نئے رشتے میں باندھ چکی تھی۔
اگلے دن آپا گھر واپس آ گئیں اور امی نے مٹھائیاں بانٹنی شروع کیں۔
ویجائنا میں ایپی ( چھوٹا آپریشن ) دی گئی تھی سو آپا کو اٹھنے بیٹھنے میں بہت تکلیف تھی۔ ڈاکٹر نے گرم پانی میں بیٹھنے کے بعد ٹانکوں میں دوائی لگانے کو کہا تھا۔ آپا پریشان کہ دوائی کیسے لگائیں، امی ان سے زیادہ پریشان کہ کسی بچے کی ذرا سی تکلیف ان کے ہاتھ پاؤں پھلا دیتی تھی۔ یہ دیکھ کر ہم نے اپنی خدمات پیش کیں کہ چونکہ ہم مستقبل کے ڈاکٹر ہیں سو یہ خدمت ہم انجام دیں گے۔ آپا کچھ دیر شرمائیں، ہچکچائیں مگر ہم نے انہیں راضی کر ہی لیا۔
پہلے دن ہم دوائی لگانے بیٹھے تو کچھ عجیب سا احساس ہوا۔ ڈھیروں ڈھیر ٹانکے تھے جو ویجائنا سے شروع ہو کر پاخانے والی جگہ تک جا رہے تھے۔ خیر تب ہم کون سا اناٹومی سے واقف تھے۔ سوچا ایسے ہی ہوتا ہو گا۔
دن بھر مہمانوں کی چہل پہل رہتی۔ چائے اور مٹھائی ہر وقت حاضر۔ سب خوش۔ بلکہ بہت خوش۔ مہمان چلے جاتے تو سب بہن بھائی آپا کے کمرے میں جمع ہو جاتے۔ چھوٹی سی گڑیا کو الٹ پلٹ کر دیکھتے اور ہنستے۔ کس پہ گئی ہے؟ جیسا سوال ہوتا اور ہر کسی کی کوشش کہ کچھ نہ کچھ مشابہت کی ٹرافی اس کی جھولی میں ضرور گرے۔
ڈلیوری کو تیسرا یا چوتھا دن تھا، رات کے آٹھ بج چکے تھے جب آپا آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کمرے سکے ملحقہ باتھ روم میں گئیں۔
ہم حسب معمول کمرے میں موجود، بھانجی میں اپنی شکل ڈھونڈتے ہوئے۔
اتنی دیر میں ایک چیخ نما دل خراش آواز آئی۔ امی۔ امی۔
امی کچن میں تھیں مگر آواز اس قدر بلند تھی کہ گھر میں جو جہاں تھا، وہیں سے کمرے کی طرف بھاگا۔
باتھ روم پہنچنے والے سب سے پہلے ہم تھے اور اندر کا منظر انتہائی خوفناک اور دل چیر دینے والا۔
آپا ٹیڑھی میڑھی حالت میں باتھ روم کے فرش پر پڑی تھیں اور ان کے اردگرد خون کا ایک چھوٹا سا تالاب۔ اب چیخیں مارنے کی ہماری باری تھی۔
بہنوئی، امی، بھائی، چھوٹی بہن۔ سب باتھ روم کے باہر موجود اور خوفزدہ چہروں کے ساتھ یہ جاننے کی کوشش میں مصروف کہ ہوا کیا؟
چیخیں مارتے مارتے ہم نے بہنوئی اور بھائی کو اندر بلایا کہ کسی طرح آپا کو فرش سے اٹھائیں۔ امی تو آپا کی حالت دیکھ کر ہی ڈھے گئیں۔
آپا کے کپڑے خون میں لت پت اور خون ٹانگوں کے بیچ سے ایسے بہتا ہوا جیسے کوئی پرنالہ۔
وقت بہت کم تھا اور فوری فیصلہ کرنا تھا کہ کیا کیا جائے۔ ہمارا منجھلا بھائی بہت ایکٹو تھا۔ کہنے لگا، ٹیکسی لانے میں تو بہت وقت لگے گا۔ کیا کریں؟
بہنوئی کے پاس ویسپا سکوٹر تھا سو فیصلہ ہوا کہ آپا کو کھیس وغیرہ میں لپیٹ کر ویسپا پہ لاد کر کسی نہ کسی طرح ہسپتال پہنچایا جائے ورنہ بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
بھائی نے ویسپا نکالا، بہنوئی کسی بچے کی طرح آپا کو لے کر پیچھے بیٹھے اور بھائی نے سکوٹر آندھی طوفان کی طرح دوڑا دیا۔
پیچھے رہ گئے گھر میں ہم، امی، چھوٹی بہن، بھائی اور ابا۔ امی اور چھوٹی بہن دھاڑیں مار کر رونے میں مصروف اور ہم انہیں تسلی دینے میں۔ ابا کو کچھ نہ سوجھا تو مصلے پر بیٹھ گئے۔
وہ رات قیامت کی رات تھی۔ آپا ساری رات آپریشن تھیٹر میں رہیں، پندرہ بوتلیں خون کی چڑھائی گئیں جو زیادہ تر بھائیوں کے دوستوں کی دی ہوئی تھیں۔ ان بوتلوں نے آپا کی جان تو بچا لی مگر آپا کو ہپاٹائٹس سی کا تحفہ دے گئیں۔
کیا ہوا تھا؟ ڈاکٹر نے کیا کیا تھا؟ آپا کو کتنے آپریشنز سے گزرنا پڑا؟ ہمارا خاندان کن مشکلات کا شکار ہوا؟
باقی آئندہ۔

