تاریخ کا دوسرا صفحہ


ڈیورنڈ لائن : جسے آج تک افغانستان نے تسلیم نہیں کیا جو قیامِ پاکستان کی وجہ بھی بنی

ڈیورنڈ لائن بارے بہت سی کتابیں اور مقالے لکھے گئے ہیں۔ ان میں ایک
European Foundation for South Asian Studies (EFSAS) , Amsterdam
نے بھی شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے ؛
The Durand Line – A razor ’s edge between Afghanistan & Pakistan
اس کے علاوہ ایک مقالہ جسے ارکا بسواس نے
Durand Line: History, Legality & Future

کے عنوان سے لکھا ہے، بھی پڑھنے کو ملا۔ اس مقالے میں بہت تفصیل کے ساتھ اس بارے لکھا گیا ہے۔ ان دو مضامین سے جو جان سکا وہ پیشِ خدمت ہے۔

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان پر انگریزوں کا اتنا اثر و رسوخ تھا کہ انھوں نے 1888 میں روس۔ اینگلو جوائنٹ باؤنڈری کمیشن کے ذریعے روس۔ افغان سرحد کی حد بندی کی تھی۔ یہ کام کسی طرح بھی انگریزوں یا روسیوں کے کرنے کا نہ تھا۔ انگریزوں نے ایسا افغانستان کے امیر عبدالرحمٰن خان جو 1880 سے لے کر 1901 تک افغانستان کے امیر رہے، کی مرضی سے کیا۔ اس میں کیا حکمت تھی، یہ تو وہی جانتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس کمیشن میں قاضی سعد الدین امیر افغانستان عبدالرحمان کے نمائندے کے طور پر موجود تھے۔ ان کی حیثیت ایک خاموش تماشائی کی تھی۔ افغانوں کا اس معاملے میں کوئی بھی حقیقی موقف نہیں تھا۔ یہ سب کچھ اس وقت ضروری سمجھا گیا جب 1885 میں برطانیہ، روس اور افغانستان کے درمیان پنج دہ کے مقام پر جنگ جس میں کئی سو افغان، روسی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب روس اور برطانیہ کے درمیان جنگ کا بازار گرم ہونے کو تھا۔

میرا یہ قیاس ہے کہ اس سرحد بندی کے پیچھے بھی انگریزوں کا اپنا ایک اہم مفاد بھی تھا۔ وہ ہندوستان اور روس کے درمیان ایک مضبوط ریاست دیکھنا چاہتے تھے۔ امیر عبدالرحمٰن خان انگریزوں کا قابلِ بھروسا فرد تھا۔ یہ بات بھی ہو سکتی ہے کہ امیر عبدالرحمٰن خان چاہتا ہو کہ اس کی شمالی سرحد محفوظ ہو۔

اس معاہدے کے بعد امیر عبدالرحمٰن خان کو شمالی سرحد سے روسی خطرہ تو کسی حد تک ختم ہو گیا۔ لیکن ابھی بھی، اسے انگریزوں سے خوف بھی تھا۔ اس کے برسرِ اقتدار آنے سے پہلے ہی دوسری اینگلو۔ افغان جنگ میں انگریزوں نے افغانستان کو گندمک معاہدہ کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اب امیر عبدالرحمٰن خان یہ چاہتا تھا کہ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان بھی سرحد کا تعین ہونا چاہیے۔ دوسری طرف انگریز یہ چاہتے تھے افغانستان اور برطانوی ہندوستان کے درمیان سرحد ہو جہاں امیر عبدالرحمٰن خان کا کوئی اثر و رسوخ نہ ہو۔ یاد رہے اس وقت تک ہندوستان اور افغانستان کے درمیان سرحد غیر متعین تھی۔

لیکن ایک حیرت انگیز بات یہ ہے، کہ اس بات کا مطالبہ انگریزوں نے نہیں کیا تھا، کہ سرحد کی حد بندی ہونی چاہیے، بلکہ خود امیر عبدالرحمٰن خان نے اس بارے اکتوبر 1888 میں وائسرائے ہند لارڈ ڈفرن کو ایک خط لکھا، جس میں ان سے درخواست کی گئی کہ وہ ہند۔ افغان سرحد کو طے کرنے کے لیے ایک وفد کابل بھیجیں۔ اس پر انگریزوں کی طرف سے خاموشی رہی۔ پھر دوبارہ 1890 میں، امیر عبدالرحمٰن نے ایک اور خط لکھا۔ اس کے بعد کافی دیر تک خط کتابت ہوتی رہی۔ آخر کار انگریزوں نے ہندوستان میں اس وقت کے خارجہ سکریٹری سر مورٹیمر ڈیورنڈ کو یہ ذمہ داری سونپی۔

جب پہلی مرتبہ ایک نقشہ امیر عبدالرحمٰن خان کو پیش کیا گیا تو اس نے کہا کہ یہ ناممکن ہے۔ اس نقشے میں چترال سے لے کر وزیرستان تک کے علاقوں کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی اور پشتون علاقے ہندوستان میں شامل کیے گئے تھے، جنھیں افغانستان اپنا حصہ سمجھتا تھا۔ تاریخ میں یہ علاقے ایک مدت سے افغانستان کا حصہ تھے۔ مغلوں کے دور میں یہ ضرور ہوا کہ وہ دہلی کے ساتھ ساتھ کابل، قندھار کے ساتھ ساتھ موجودہ افغانستان کے ایک بڑے حصے پر قابض تھے۔ ورنہ موجودہ کے پی کے مغربی علاقوں کا بیشتر حصہ افغانستان کا حصہ ہی رہا ہے۔ درانی دور میں پشاور ان کا سرمائی صدر مقام تھا۔ یہ دیکھ کر امیر عبدالرحمٰن خان نے پریشانی کا اظہار کیا اور انگریزوں کو تنبیہ کی، کہ اگر ایسا کیا گیا یہ لوگ نہ تمہارے کام آئیں گے اور نہ ہی میرے۔ یہ ہمیشہ تمھارے ساتھ جنگ کرتے رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ایسا کیا گیا تو اس سے میرا وقار بھی مجروح ہو گا۔

ان باتوں کا انگریزوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس دوران انگریزوں نے بعض سرحدی قبائلی علاقوں، جیسے بلند خیل اور وانا، ژوب پر زبردستی قبضہ کر لیا۔ یہ سب دیکھ کر امیر عبدالرحمٰن خان معاہدے پر مجبور ہو گیا۔ وہ انگریزوں سے لڑنے کی پوزیشن میں نہیں تھا یا کوئی اور وجہ تھی۔ پھر وہ دن بھی آیا جب بارہ نومبر 1893 کو کابل میں سر مورٹیمر ڈیورنڈ اور امیر عبدالرحمٰن خان کے درمیان معاہدہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں صدیوں سے ایک ہی گاؤں میں رہنے والے لوگ تقسیم ہو گئے۔ درمیان میں ایک سرحد بنی۔ جسے جو ڈیورنڈ لائن کا نام دیا گیا جو 2670 کلومیٹر طویل ہے ( کئی جگہ 2611 کلومیٹر بھی لکھا ہوا ہے ) ۔

امیر عبدالرحمٰن خان کے بعد آنے والے لوگوں نے کہا کہ یہ معاہدہ امیر عبدالرحمٰن خان نے ذاتی حیثیت میں کیا تھا۔ اس پر پھر 1921 تیسری اینگلو۔ افغان جنگ ہوتی ہے۔ جسے ختم کرنے کے لیے راولپنڈی معاہدہ ہوتا ہے اور افغانستان کو حقیقی آزادی ملتی ہے۔

لیکن وہ آج بھی ڈیورنڈ لائن کو ایک سرحد ماننے کو تیار نہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عملی طور پر یہ ایک سرحد ہے، جسے میں نے آج پیدل عبور کیا۔ عبور کرتے ہی مجھے یہ محسوس ہوا کہ یہ تقسیم کوئی فطری تقسیم نہیں تھی۔ افغانستان اور ہندوستان کے درمیان سرحد کا تعین تو ہونا ہی تھا، لیکن اسے ایک بہتر شکل میں کیا جاسکتا ہے، جو شاید افغانستان کو بھی قبول ہوتا۔ یہ معاہدہ، امیر عبدالرحمٰن خان کو مجبور کر کے کیا گیا تھا۔ اس پر اس نے احتجاج بھی کیا تھا لیکن انگریزوں نے اس کے احتجاج کو کوئی وقعت نہ دی۔

میں مدت سے اس بات کی تلاش میں تھا کہ انگریزوں کو افغانستان کا مشرقی حصہ کیوں چاہیے تھا؟ کیا ان کے لیے ایک وسیع و عریض ہندوستان کافی نہیں تھا؟ پھر کیا وجہ تھی کہ انھوں نے افغانستان پر دباؤ ڈال کر اس کے کئی علاقے ہندوستان میں شامل کیے؟

جو میں جان سکا، اس کے مطابق انگریزوں کی یہ خواہش تھی کہ افغانستان اور ہندوستان کے درمیان ایک وسیع علاقے پر مشتمل دو صوبے بنائے جائیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ انگریزوں نے صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان کی بنیاد رکھی۔ ان دونوں صوبوں میں مسلمان کوئی نوے فیصد سے زائد تھے۔ جبکہ متحدہ پنجاب میں مسلمان کوئی پچپن فیصد تھے۔ مشرقی پنجاب میں مسلمان کوئی بیس فیصد تھے جبکہ مغربی پنجاب میں مسلمان پچھتر فیصد سے زائد تھے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ مغربی پنجاب کے شہروں میں مسلمان آبادی کا کوئی تیس فیصد تھے۔ مسلمانوں کی اکثریت دیہات میں رہتی تھی۔ سکھوں اور ہندوؤں کی زیادہ تر آبادی شہروں میں آباد تھی۔

یہ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہزارہ جو، زبان، کلچر، تاریخ اور جغرافیہ کے لحاظ سے پنجاب کا حصہ تھا کو صوبہ سرحد کا حصہ بنایا گیا۔ میرے خیال میں یہ پختون اکثریت کو کم کرنے کی ایک کوشش تھی۔ اسی طرح انگریزوں نے پختون آبادی پر مشتمل چمن، ژوب، لورالائی، ہرنائی، قلعہ عبدالل، زیارت وغیرہ کے علاقے صوبہ سرحد کی بجائے، بلوچستان میں شامل کیے۔ اس سے دو فائدے ہوئے۔ ایک بلوچ اکثریت کو کم کرنا اور دوسرا صوبہ سرحد میں پختون طاقت کو کم کرنا۔ یاد رہے کہ تقسیم سے قبل سندھ میں مسلمان کوئی ستر فیصد تھے۔

اب اگر ہم ایک لمحے کے لیے یہ سوچیں کہ اگر انگریز ایسا نہ کرتے اور افغانستان کی سرحد اٹک تک ہوتی، جو اب بھی افغان دعویٰ کرتے ہیں، بلوچ علاقے جو کبھی بھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہے آزاد ریاستیں ہوتی، تو کیا ہندوستان کی تقسیم ممکن تھی؟ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انگریزوں نے بولان سے لے کر چمن تک کا ایک بڑا علاقہ بلوچوں سے لیز پر لیا تھا۔ پاکستان کا قیام مسلم قومیت کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا تھا۔ مغربی پاکستان میں تین صوبے ؛ سرحد، سندھ اور بلوچستان مکمل طور پر شامل تھے، جب کہ پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کر کے پاکستان اور بھارت میں شامل کیا گیا تھا۔

کیا میں اس سے یہ بات اخذ کر سکتا ہوں کہ تقسیم ہند کا نقشہ ذہن میں رکھ کر 1879 میں گندمک معاہدہ کیا گیا تھا؟ اگر صوبہ سرحد اور بلوچستان کی سرحد وہاں کے مقامی لوگوں کی مرضی سے ہوتی تو کیا یہ دونوں صوبوں کے بغیر پاکستان کا وجود ممکن تھا؟ میرا خیال ہے اگر ایسی صورتِ حال ہوتی تو قیامِ پاکستان ممکن نہیں تھا۔ کیا ہم اس سے یہ سمجھیں کہ انگریزوں نے روس اور ہندوستان کے درمیان ایک نہیں بلکہ دو ملک قائم کرنے اور ان کو مضبوط کر کے روس کے آگے بند باندھنے کی کوشش نہیں کی؟

پھر تاریخ نے یہ دیکھا کہ جیسے ہی روس نے آمو دریا پار کیا اور افغانستان کی سرزمین پر قدم رکھا تو افغانستان اور پاکستان دونوں نے مل کر اس کا راستہ روکا اور اسے واپس جانے پر مجبور نہیں کیا؟ انگریز یہ تو چاہتے تھے کہ افغانستان قائم رہے لیکن وہ اسے اتنا مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے تھے جو ان کے ہندوستان پر غاصبانہ قبضے کے لیے ایک خطرہ ہو۔ اسی لیے انھوں نے افغانستان کے بھی ٹکڑے کیے۔

کیا یہ سب دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انگریزوں نے ہرات کو ایران سے آزادی دلا کر، روس کے ساتھ اس کی سرحد کا فیصلہ کر کے مغربی افغانستان کو محفوظ کیا۔ افغانستان کے مشرق میں دو مسلمان اکثریت کے صوبے بنا کر ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھ کر اپنے مقاصد یعنی روس کو اس کی سرحد کے اندر رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے؟ یہ ایک نُقطَۂ نَظَر ہے جس سے آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ میرا قیاس ہے، ہو سکتا ہے درست نہ ہو، یہ کوئی حتمی بات نہیں ہے، جو میں نے سمجھا وہ بیان کر دیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments