زمین پر بجلیاں گرانے کے بعد چین خود آسمانوں میں محو پرواز


2015 کی بات ہے کاروباری سلسلے میں مجھے چین کے شہر شین زن جانا پڑا میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ شہر کے تمام عوامی ذرائع نقل و حمل جس میں بس، ریل اور ٹیکسیاں شامل ہیں بجلی سے چل رہی ہیں۔ آج چین کی حکومت منصوبہ بنا رہی ہے کہ 2025 تک شین زن کی سڑکوں پر بجلی سے چلنے والی 10 لاکھ گاڑیاں دوڑ رہی ہوں گی اور گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنوں کی تعداد 7 لاکھ 90 ہزار تک ہو جائے گی۔

یہ تو چین کے ایک شہر کی صورتحال ہے لیکن عالمی افق پر چین کی بجلی کی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے طوفان برپا کر رکھا ہے ان سب کمپنیوں کی سرخیل چین کی کمپنی ”بی وائی ڈی“ ہے۔ بی وائی ڈی اپنے خواب تعمیر کرو (build your dream ) کا مخفف ہے۔ لیکن یہ چینی کمپنیاں یورپ اور امریکہ کی عظیم دیو ہیکل گاڑیاں بنانے والی کمپنی جن میں ٹیسلا، بی۔ ایم۔ ڈبلیو اور مرسیڈیز بھی شامل ہیں کے مستقبل کے خوابوں کو چکنا چور کرنے کے درپے ہے۔

حالانکہ پچھلے سال کی بات ہے ٹیسلا کے روح رواں ایلون مسک سے بلومبرگ کے ایک لائیو انٹرویو میں جب یہ سوال کیا گیا کہ آپ کا اپنی مد مقابل چینی کمپنی بی وائی ڈی کے بارے میں کیا خیال ہے تو اس نے باقاعدہ ہنستے ہوئے تمسخرانہ انداز میں میزبان پر جوابی سوال داغ دیا کہ ”کیا آپ نے ان کی گاڑیاں دیکھیں ہیں، میرا نہیں خیال کہ ان کے پاس کوئی اچھی پروڈکٹ ہے“ اس نے مزید کہا کہ میں بی وائی ڈی کو اپنا مد مقابل سمجھتا ہی نہیں۔

شو مئی قسمت کہ ٹھیک ایک سال بعد جنوری 2024 میں وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ ہم کو سب سے زیادہ مقابلے کا سامنا چینی کمپنی بی وائی ڈی سے ہے۔ کیونکہ وہ بہت اچھی اور مقابلتاً سستی گاڑیاں بنا رہی ہے۔ یہ بات اس نے اس وقت کہی جب 2023 کی آخری سہ ماہی میں بی وائی ڈی نے بجلی کی گاڑیوں کی عالمی فروخت میں تعداد کے لحاظ سے ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ جس کے نتیجے میں ٹیسلا اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرنے پر مجبور ہو گیا۔ ایلون مسک نے یہ شکایت بھی کی کہ حکومت چین اپنی بجلی کی گاڑیاں بنانے والے اداروں کو سبسڈی دے رہی ہے اور سب سے زیادہ سبسڈی، بی وائی ڈی کو دی جا رہی ہے اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو چینی کارساز ادارے اپنے تمام عالمی ہم منصبوں کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔

اپنی طرف سے چین نے یورپی یونین کی سبسڈی کی تحقیقات کو یورپ کی طرف سے تحفظ پسندانہ چال قرار دے دیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کے کارساز اس لیے جیت رہے ہیں کیونکہ وہ بہتر مصنوعات بناتے ہیں۔ بلا شبہ خاص طور پر یورپ میں سبز ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنانے کی بڑی وجہ چین سے آنے والی سستی اشیاء ہیں جس میں گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ امریکی اور یورپی کارساز اداروں میں چین کا خوف اس حد تک سرایت کر گیا ہے کہ امریکہ اور یورپ اپنے ممالک میں فروخت ہونے والی چینی کاروں اور ای وی کے پرزہ جات کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے اپنے قوانین کو سخت کر رہے ہیں، امریکہ میں درآمدی محصول اتنے زیادہ کر دیے گئے ہیں کہ چین نے اپنی توجہ دیگر علاقوں یعنی جنوبی امریکہ اور ایشیا پر مرکوز کر دی ہے۔ بی۔ وائی ڈی نے پچھلے سال خالص منافع میں 80 فیصد سے زیادہ اضافے کا اعلان کیا ہے اور اس میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔

چین نے زمین پر تو کڑکتی بجلی کی رفتار سے دوڑنا شروع کر دیا لیکن اب اس کی نگاہیں آسمان پر ہیں۔ 20 فروری 2024 کو سنگاپور میں ایک ”بین الاقوامی ہوائی نمائش“ منعقد ہوئی، جس میں پہلی مرتبہ چین نے اپنے ملک میں تیار کردہ مسافر برادر جیٹ طیارہ نمائش کے لیے پیش کیا جس کو ”کومیک۔ سی نائین ون نائین“ (comac، c۔ 919 ) کا نام دیا گیا ہے۔ سنگاپور کے بعد اس طیارے کی نمائش کا اہتمام منزل بہ منزل ویتنام، لاؤس، کمبوڈیا، انڈونیشیا اور ملائشیا میں بھی کیا گیا۔

ہر مقام پر چینی ”ایرو اسپیس کمپنی“ کے کارپردازوں نے کومیک سی نائین ون نائین کو بوئنگ 737 اور ائر بس۔ 320 کے قابل عمل متبادل کے طور پر پیش کیا۔ جیسے جیسے سی 919 کا دورہ آگے بڑھا، کومیک نے کہا کہ اس کا مقصد ہوائی جہاز کی نمائش کرنا اور ”جنوب مشرقی ایشیا میں مستقبل کی مارکیٹ کی توسیع کے لیے بنیاد بنانا ہے۔“ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، کمرشل ائر کرافٹ کارپوریشن آف چائنا (COMAC) کو توقع ہے کہ ایشیا پیسیفک مارکیٹ میں مسافر طیاروں کی مانگ اگلی دو دہائیوں میں 3000 سے بڑھ کر 9000 ہو جائے گی۔ سی 919 صرف چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی طرف سے تصدیق شدہ ہے، جس نے ستمبر 2022 میں اس کی منظوری دی تھی۔ چین نے کہا ہے کہ وہ سی 919 کے لیے وسیع تر بین الاقوامی شناخت حاصل کرنا چاہتا ہے اور یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے لئے درخواست دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بظاہر روایتی طور پر ابھی یورپین اور امریکی طیار ساز کمپنیاں اور اس صنعت سے جڑے ہوئے مغربی ادارے، اس چینی کاوش کو سنجیدگی سے دیکھنے کو تیار نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس وقت عالمی ہوائی صنعت کے دو اجارہ داروں بوئنگ اور ائربس کو چین کی مسافر بردار طیارہ سازی کی صنعت سے کوئی خطرہ نہیں اور چین اس منڈی میں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کرنے کے قابل نہیں۔ واضح رہے کہ چین بذات خود طیاروں کو فروخت کرنے کی بہت بڑی منڈی ہے۔

چین کی اپنی 50 سے زیادہ قومی اور بین الاقوامی فضائی کمپنیاں ہیں۔ ان سب کا ہوائی بیڑہ لگ بھگ آٹھ ہزار ہوائی جہازوں پر مشتمل ہے۔ چین کی صرف ایک فضائی کمپنی اگلے تین سالوں میں دو سو بوئنگ اور ائربس ہوائی جہاز خریدے گی جبکہ چین کی مقامی فضائی کمپنیاں 1000 کو میک سی نائین ون نائین کے آرڈر پہلے ہی کنفرم کر چکی ہیں۔ چین کی ایک فضائی کمپنی نے تو 5 عدد کومیک۔ نائین ون نائین اپنے فضائی بیڑے میں شامل کر لیے ہیں اور جو اب تک سینکڑوں کامیاب اڑانیں بھر چکے ہیں۔ مستقبل میں کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹیسلا کے ایلون مسک کی طرح بوئنگ اور ائربس کے سربراہان بھی اپنی حکومتوں کو چینی طیارہ ساز کمپنی کے مقابلے سے بچانے کے لیے دہائیاں دے رہے ہوں۔

 

Facebook Comments HS