کاونٹر میڈیا وار فیئر


اسرائیل اور غزہ کا مسئلہ ہر زبان زد عام تھا ہی کہ گزشتہ دنوں ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی کی صورتحال کے بعد یک دم مختلف عوامی اور خصوصی حلقوں میں ایران اور اسرائیل کے سفارتی، سیاسی اور عسکری کردار پر گفت و شنید سننے کو مل رہی ہے۔ انفارمیشن کے ڈومین میں کچھ میڈیا چینلز اور سماجی رابطوں کی سائٹس پر خبروں نے ایرانی حملوں کو کامیاب قرار دیا جبکہ کچھ میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا ہینڈلز پر اسرائیل کی جانب سے حملوں کو ناکام بنانے کی خبریں سامنے آئیں۔

ان حالیہ واقعات سے ایک طرف ریاستوں کے سفارتی اور سیاسی کردار کی افادیت واضح ہوتی ہے دوسری طرف ریاستوں کے قائم کردہ دفاعی اداروں کا کردار، اندرونی اور بیرونی شرپسند عناصر کی بیخ کنی کے فرائض پر معمور اداروں، ریاستی قوتوں، بری بحری اور فضائی افواج اور سیکیورٹی کے حلقے کی موجودگی اور استحکام پسندی کا عنصر ظاہر ہوتا ہے اور تیسری طرف کسی بھی جنگی اور خانہ جنگی سمیت تنازعات کی صورتحال کے دوران سمعی اور بصری میڈیا، رسل و رسائل اور تعلقات عامہ کے شعبہ جات اور جنگی حکمت عملی کو موثر بنانے کا چولی دامن کا ساتھ بھی خوب سمجھ میں آتا ہے یہ جدید جنگی عمل عام زبان میں ”میڈیا وار فیئر یا ففتھ جنریشن وار فیئر“ کہلاتا ہے۔

ماہرین کی رائے کے مطابق میڈیا وار فیئر سے منصوبہ بندی کے بعد جہاں ایک طرف انتہائی برق رفتاری کے ساتھ کسی شرپسند گروپ کی جانب سے ٹارگٹڈ آڈینس کا انتخاب کر کے ان پر مخصوص ایجنڈے، تحریف شدہ معلومات اور منظم تحریکوں کا سہارا لے کر ان کی ذہنی سازی کی جاتی ہے اور عوام کے اندر آہستہ آہستہ اپنے ریاستی اور دفاعی اداروں کے خلاف ذہنیت کو پروان چڑھایا جاتا ہے پروپیگنڈا کا سہارا لیتے ہوئے مخصوص وجوہات اور جائز مطالبات کی آڑ میں ڈھکے چھپے مقاصد کی تکمیل جاری رہتی ہے۔

ریاستوں میں انتشار اور عدم اعتماد کی فضا کو جنم دے کر عوامی جذبات کو ریاست کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، چالاک نعروں سے معصوم عوام کی سوچ پر حملہ کیا جاتا ہے، منظم قسم کی مختلف فرقہ ورانہ، مذہبی، سیاسی، سماجی، ثقافتی، لسانی اور قومی تحریکوں کے ذریعے ریاستوں میں خانہ جنگی کی صورتحال کو ہوا دی جاتی ہے، جو بلاواسطہ طور پر تمام تر ریاستی اداروں سمیت دفاعی حکمت عملی کے طریقوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور مستقبل قریب یا بعید میں ریاست کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتے ہیں وہیں دوسری میڈیا وار فیئر کا زہر دیمک کی طرح معاشرتی اقدار کو چاٹ چاٹ کر ختم کر دیتا ہے۔

میڈیا وار فیئر میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ڈویلپمنٹ سپورٹ کمیونیکشن کا سہارا لیا جاتا ہے جس میں اداروں کے شعبہ تعلقات عامہ درست اور جامع معلومات فراہم کر کے پروپیگنڈا کو کاؤنٹر کرتے ہیں، روایتی اور غیر روایتی انداز میں مثبت پیغام کو ذہنوں میں منتقل کیا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر عوام ہی کے تعاون سے ان تحریکوں کو کاؤنٹر بھی کیا جاتا ہے، میڈیا مالکان اور خاص طور پر ہر سوشل میڈیا صارف بھی اپنی کم علمی کے باعث حادثاتی طور پر شرپسند عناصر کے پروپیگنڈے کا حصہ بننے سے بچیں، ریاست مخالف گروپوں اور پیجز سے متعلق ریاستی اداروں کو رپورٹ کریں اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ سیاسی، مذہبی، عسکری، ثقافتی، سماجی اور لسانی معلومات پر مشتمل پوسٹوں کو شیئر کرتے ہوئے ہزار بار سوچیں کہ کہیں آپ ہیرو کو ولن اور ولن کو ہیرو تو نہیں بنا رہے۔

 

Facebook Comments HS