اصغر ندیم سید کی کتاب پھرتا ہے فلک برسوں

اصغر ندیم سید بلاشبہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کی پہچان ڈرامہ نگاری ہے۔ لیکن انہوں نے جس صنف کو چنا، اس میں اپنے جوہر دکھائے۔ تقریباً فکشن کی تمام اصناف میں انہوں نے تخلیقی صلاحیتوں سے اپنا لوہا منوایا۔ خاکوں پر مشتمل یہ کتاب جو ”پھرتا ہے فلک برسوں“ کے نام سے ہے، اپنی خاص انفرادیت رکھتی ہے۔ کردار کو خوامخواہ رومانوی نہیں بنایا گیا، بلکہ جیسا کہ سید صاحب نے جس کو دیکھا، وہ ہمارے سامنے پیش کر دیا۔ ان خاکوں کی ایک خاص بات کہ یہ جن شخصیات پر لکھے گئے ہیں۔
ان کا مزاج سمجھنے میں معاون ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ، ان کے ادبی پس منظر، ان کی سرگرمیوں اور ان کے اوصاف بیان کرتے ہیں۔ پہلا خاکہ سنگ میل کے بانی نیاز احمد پر ہے۔ اس خاکہ میں ہمیں ایک بڑے شخص کی ایک اور بڑے شخص کے ساتھ محبت و عقیدت کا ایک نمونہ نظر آتا ہے۔ نیاز صاحب کے اس چھاپہ خانے کی وجہ سے ادیبوں نے کیسے سکھ کا سانس لیا، یہ ایک پوری تاریخ ہے۔ جو اس خاکہ میں قلمبند ہے۔
دوسرا خاکہ ”ہندوستان کا داستان گو“ کے نام سے ہے۔ جو گوپی چند نارنگ پر ہے۔ یہ خاکہ بہت زیادہ معلوماتی اور غور طلب ہے۔ اس میں کئی سارے حقائق ہیں۔ یہ خاکہ ہمیں گوپی چند نارنگ کے بڑے قد کاٹھ اور ان کے علمی کارناموں کے متعلق آگاہ کرتا ہے۔ نارنگ صاحب پاکستان کیسے آتے تھے، کیا کیا ان کو اس حوالے سے خدشات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ وہ ایک بار اصغر ندیم سید صاحب کو بھی پاکستان ہندوستان کے متعلق سوالات پر ایجنسی کا آدمی سمجھنے لگے۔
لیکن یہ ان کا وہم تھا جو جلد دور ہو گیا، آخر وہ اتنے حساس کیونکر تھے؟ یہ خاکہ پڑھ کے ہی پتا چلتا ہے۔ نارنگ صاحب کے ساتھ اصغر ندیم سید نے جو سفر کیے اور جن تقریبات میں شرکت کی، اس کی روداد بھی اصغر ندیم نے اسی خاکہ میں قلمبند کر دی۔ اس خاکہ کے اختتام پر ایک ایسا واقعہ ہے جس نے مجھے بہت حیران کیا، یہ واقعہ طویل طلب ہے۔ لیکن اتنا ہی ہمارے مزاجوں کا عکاس۔ یہ جان کر بھی خوشگوار حیرانی ہوئی کہ گوپی چند نارنگ کیسے ہندوستان میں رہتے ہوئے کشمیر کی آزادی کے لیے تشویش رکھتے تھے اور اس کے باوجود انہیں ہندوستان سے اس حوالے سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔
یہ بھی سیکولر ہندوستان کا ایک چہرہ تھا، جو اب دھندلاتا جا رہا ہے! تیسرا خاکہ ”اپنے جیسی ایک عورت“ کے عنوان سے کشور ناہید صاحبہ پر ہے۔ خاکہ کے پہلے صفحہ پر درج ہے ”وہ ایک چھلاوہ ہے جو ہاتھ میں نہیں آ سکتا یا میں اسے دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہوں یا ڈر جاتا ہوں۔ آپ اگر اتنا قریب ہو جائیں تو پھر آپ کو اس کی عیب بھی خوبیاں لگنے لگتے ہیں۔ یہی میرا معاملہ ہے اب میں کیا کروں“ ۔ کشور ناہید کے متعلق اس میں بہت اہم باتیں ہیں۔
وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ادیبوں کی کس طرح مدد کرتی ہیں اور پھر ادیبوں کی طرف سے کیسا رویہ انہیں دیکھنے کو ملتا ہے، جو کہ اکثر مایوس کن ہوتا ہے۔ زاہد ڈار کے ساتھ کشور آپا کا تعلق اور اس کا خیال وہ کیسے رکھتی تھیں۔ وہ کتنی بہادر خاتون ہیں۔ یہ سب متعلقہ واقعات کی روشنی میں اسی خاکہ میں قلمبند ہیں۔ اگلا خاکہ زاہد ڈار پر ہے۔ یہ زاہد ڈار پر لکھے جانے والے بہترین خاکوں میں سے اس لیے ہے کہ اس میں زاہد ڈار پر بہت ساری نئی باتوں سے آپ آگاہ ہوتے ہیں۔
تاہم اس خاکہ میں کچھ پیچیدہ انکشافات بھی ہوئے ہیں۔ جیسے زاہد ڈار واقعی کتاب پڑھتا تھا یا دیگ کا دانہ دیکھ کر باقی دیگ کا اندازہ لگا لیتا تھا؟ زاہد ڈار نے اپنی ساری زندگی لاہور میں بسر کر دی، کن حالات میں اور کیسے کیسے احوال اس پر بیتتے رہے۔ اگلا خاکہ شمیم حنفی پر ہے۔ شمیم حنفی کے ساتھ سید صاحب کے ایک سفر کی روداد ہے۔ جس میں شمیم حنفی کی دلچسپیاں اور ان کی شخصیت نکھر کر سامنے آجاتی ہے۔ شمیم حنفی ہندوستان میں مسلم اشرافیہ کے نمائندے تھے۔
انہوں نے ہندوستان میں ایک سمجھوتے کی زندگی گزاری، اور اس کا فائدہ انہیں بہرحال ہوا۔ چھٹا خاکہ احمد فراز صاحب پر ہے۔ یہ خاکہ میرا اس کتاب میں پسندیدہ ترین خاکوں میں سے ہے۔ یہ پڑھ کر ہی آپ جان سکتے ہیں کہ یہ اتنا دلچسپ اور اہم کیوں ہے۔ پھر ایک اور اہم خاکہ عبداللہ حسین پر ہے۔ عبداللہ حسین کیسی انا کے مالک تھے کہ وہ اس کی خاطر سرکاری ایوارڈ کی بھی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ میں اس خاکہ میں سے ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔
جس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ عبداللہ حسین کے اندر ایک ایسا احساس موجود تھا کہ جیسے وہ جس مقام کے لائق تھے، وہ انہیں نہیں دیا گیا۔ میرے خیال میں یہ بس ان کا محض وہم ہی تھا۔ وہ اقتباس یہ ہے کہ ”سب کو سرینا فیصل آباد میں ٹھہرایا گیا اور سب کو الگ الگ گاڑی بھی دی گئی۔ لیکن انتظار صاحب اور عبداللہ صاحب الگ سفر نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے میں پراڈو گاڑی لے کر عبداللہ صاحب کے گھر گیا۔ اب اگلی سیٹ پر انتظار صاحب بیٹھے تھے میں کیسے انہیں اتار سکتا تھا۔
اس حساب سے مجھے اور عبداللہ صاحب کو پچھلی سیٹ پر بیٹھنا تھا جو بہت آرام دہ تھی لیکن جب عبداللہ صاحب بیٹھنے کے لیے باہر آئے تو اگلی سیٹ پر انتظار صاحب کو بیٹھا دیکھ کر کہنے لگے“ انتظار تم ہمیشہ میری سیٹ پر بیٹھ جاتے ہو ”شکر ہے انتظار صاحب نے سننے والا آلہ نہیں لگایا تھا اس لیے انہوں نے نہیں سنا لیکن میں تو سمجھ گیا اس جملے کا مطلب کیا ہے“ ۔
حبیب جالب۔ روٹھنے والا شخص ”کے ٹائٹل سے خاکہ حبیب جالب کی شخصیت پر ہے۔ جو کہ حبیب جالب کے اندر کے بچے پر ہے۔ جس کے بھروسے انہوں نے ساری زندگی گزار دی! ظہیر کاشمیری، منیر نیازی اور اے حمید پر بھی اس کتاب میں خاکے ہیں۔ جو کہ حسب معمول بہت اہم اور دلچسپ ہیں۔
ایک خاکہ سید صاحب نے اپنے ایک بھائی پر لکھا۔ جس میں رومانوی فضا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑے گھرانے کا نقشہ ہے۔ آخری دو خاکے نیر مسعود اور مسعود اشعر پر ہیں۔ یہ خاکہ تو اپنی جگہ پر لیکن ان کی اہمیت کا اندازہ یہاں سے لگائیے کہ یہ کن کن ہستیوں پر لکھے گئے!
کتابی تبصرہ کا مقصد صرف کتاب کے متعلق ضروری معلومات کی آگاہی ہوتی ہے، اور تبصرے میں محض تبصرہ ہی ہونا چاہیے نہ کے پکی پکائی کھیر! اس لیے ہر خاکہ کی تفصیل لکھنا مناسب بھی نہیں اور ممکن بھی نہیں۔ اب میرا مقصد پورا ہوا اور آپ اپنا مقصد یہ کتاب پڑھ کر پورا کریں۔

