بے گھر بچوں کا عالمی دن اور اس کے قومی تقاضے


12 اپریل کو ہر سال بے گھر بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن بے گھر اور گلی کوچوں میں رہنے والے بچوں کے لیے آواز بلند کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے تاکہ ان بچوں کے حقوق کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ ان بچوں کو مکمل طور پر معاشرے میں محفوظ و عزت والا مقام حاصل ہو سکے اور ان بچوں کو بھی دوسرے بچوں کی طرح تمام حقوق میسر آ سکیں۔ ایسے بچوں کی حفاظت و حقوق کا خیال رکھنے کی ذمہ داری ریاست کی ہے اور ہر حکومت وقت کو بھی ان بے گھر بچوں کو چھت فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔

یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ بے گھر بچوں سے کیا مراد ہے؟ بے گھر بچوں سے مراد وہ بچے جو زیادہ تر وقت اکیلے، یا دیگر بچوں کے ساتھ یا ان کے خاندان کے افراد کے ہمراہ گلی کوچوں میں بسر کرتے ہیں یا کام کرتے ہیں۔ ایسے تمام وہ بچے جو زیادہ وقت گلی کوچوں میں گزارتے ہیں بے گھر بچے کہلاتے ہیں۔ عالمی معاہدہ کنونشن برائے حقوق اطفال کی پاکستان نے 12 نومبر 1990 ءکو توثیق کی تھی۔ اس کے بعد پاکستان کی بچوں کے حوالے سے ذمہ داریاں بڑھ گئیں تھیں اور بچوں کے کنونشن پر عملدرآمد بھی لازم قرار پایا تھا۔

اس کنونشن کی کی توثیق کو تینتیس سال ہوچکے ہیں۔ آج پاکستان میں بچوں کے بنیادی حقوق کی آج کے حالات کے مطابق بات کریں تو پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں بچوں کو انسان اور بچہ ہونے کے بنیادی حقوق تک میسر نہیں ہے۔ The Kids Rights Index 2022 کی رپورٹ کے مطابق 185 ممالک میں سے 149 نمبر ہے جہاں بچوں کو حقوق حاصل ہیں۔ پاکستان میں بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ پاکستان میں بچوں کو سماجی اور ثقافتی رکاوٹوں کا سامنا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں کے بچے۔

پاکستان میں آئے روز بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا سلسلہ جاری ہے جو کہ تشویش ناک بات ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے قانون موجود ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور ملزم و مجرم کیفر کردار تک نہیں پہنچتے جس بنا پر جنسی جرائم کرنے والوں کے حوصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس سمیت عدلیہ کو سیاسی و مذہبی دباؤ سے آزاد کرایا جائے تاکہ مجرموں کو سزائیں مل سکیں۔ اگر عام تعلیم کی بات کی جائے تو دنیا میں اس وقت کی اسکولوں سے باہر بچوں سے تعداد میں پاکستان دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔

یونیسیف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 22.8 ملین بچے جن کی عمر 5 سے 16 سال ہے وہ اسکولوں سے باہر ہیں اور یہ پاکستان کی بچوں کی آبادی کا 44 فیصد ہے۔ قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کی رپورٹ 2022 ءکے مطابق 1.5 ملین بچے بے گھر ہیں اور گلیوں کوچوں میں رہنے پر مجبور ہیں اور مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں اور ایسے بچوں کو معاشرے کی طرف سے بے انتہا ہراساں کیا جاتا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ 22.8 ملین بچے سکولوں سے باہر اور گلی کوچوں میں رہنے والے بچے 1.5 ملین ہیں اگر فرق نکالیں تو 21.3 ملین بچے کہاں ہیں؟

اگر یہ بچے اسکولوں میں بھی نہیں، تو گلی کوچوں میں بھی نہیں ہیں تو پھر 21.3 ملین بچے کہاں ہیں؟ یہ فرق بہت بڑا فرق ہے میرے مطابق پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25۔ اے کے مطابق ہر بچے کو تعلیم دلوانا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے تو پھر جو بچہ سکول نہیں جاتا تو پھر وہ سڑک سے منسلک بچوں میں شامل ہو گا۔ بے گھر اور گلی کوچوں میں رہنے والے بچوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہو گا۔ ایسے بچے بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہوتے ہیں جیسے کہ ان کے پاس پہننے کے لیے صاف کپڑے نہیں ہوتے، جسمانی صفائی نہیں ہوتی، کھانے کی لیے بنیادی خوراک سے بھی محروم ہوتے ہیں جس سے جسمانی صحت بھی خراب ہوتی ہے۔

تو یہ بچے معاشرے میں بالکل الگ نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایسے بے گھر اور گلی کوچوں میں رہنے والے بچوں کو معاشرہ دھتکارتا ہے اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے یہ بچے بھیگ مانگنے پر مجبور ہوتے ہیں یا پھر گلی محلوں میں دکانوں پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان بچوں کے راویوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔ جب یہ بچے معاشرے میں کام کرتے ہیں تو اپنے والدین سے لے کر کام کرنے والے استاد یا مالک حضرات سے بہت سخت رویہ برداشت کرتے ہیں سماجی اور اخلاقی طور سے مکمل طور پر ایسے بچوں کو ہراساں کیا جاتا ہے جسمانی مار اور جنسی زیادتی کے شکار بھی ہوتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ بے گھر اور گلی کوچوں میں رہنے والے بچوں کو انسان کی حیثیت سے بھی نہیں دیکھتے۔ ہمارے معاشرے کے لوگوں نے ایسے بچوں کا بہت زیادہ استحصال کیا ہے اور بدقسمتی سے یہ بڑھتا بھی جا رہا ہے۔ ایسے بچوں کو رحم یا مدد یا خیرات کی بجائے معاشرے کے دوسرے بچوں والے حقوق حاصل ہونے چاہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے حقوق ان کو دلوائیں نہ کہ یہ بات کریں کہ بچے بے گھر یا گلی کوچوں میں نہیں رہنا چاہیے۔

ہمارے معاشرے کو چاہے گلی کوچوں میں زندگی بسر کرنے والے بچوں کو ہراساں نہیں کرنا چاہیے ان کے حقوق اور ان کی عزت و تکریم کا خیال رکھنا چاہے اور انھیں بھی انسان کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ایسے بچوں کی زندگی اور حق کی بقا کے لیے اقدامات کریں۔ ایسے بچوں کو بھی پہچان حاصل ہونے کا حق دینا چاہیے، بے گھر بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا بھی مکمل حق حاصل ہونا چاہے اور معاشرے میں ہر قسم کے تشدد سے محفوظ ماحول فراہم ہونا چاہے ان کو شمولیت کا حق حاصل ہونا چاہے تاکہ جو فیصلہ سازی ان کے لیے ہو وہ ان کے حق میں ایسی ہو کہ جو ان کے لیے فائدہ مند ہو اسی طرح ان کو رنگ و نسل و مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے ایسے بچوں کو کھیل کود کی بھی مکمل آزادی حاصل ہونے چاہیے۔

یہ بچے بھی ہمارے معاشرے کے بچے ہیں ان کو احساس کمتری سے نکالنا ہو گا۔ یہ بے گھر اور گلی کوچوں میں زندگی بسر کرنے والے بچے بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہے ہمیں ان کو اپنے ساتھ لے کر چلنا چاہیے ان کو بھی وہی انسانی حقوق حاصل ہیں جو ایک نارمل بچے کو حاصل ہوتے ہیں۔ یہ تب ہی ممکن ہو گا جب ریاست اور معاشرے کے لوگ مل کر اقدامات کریں۔

Facebook Comments HS