موٹاپا، ماسی اور میم صاحبہ


انسانیت مختلف انواع و امراض اور ابتلا کا شکار رہی ہے۔ اور ہر مرض پہ لوگ تف بھیجتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ خال خال ہی ایسا شخص میسر ہوتا ہے جو اپنے مرض پہ نہ صرف خوش ہو بلکہ مرض پہ فخر کا ذوق بھی رکھتا ہو اور طوالت مرض کا دعاگو بھی ہو۔ اور عمر قلیل چاہتا ہو ایسے شخص کو ”شاعر“ کہتے ہیں۔ ہماری شاعری میں اور تو جو کچھ ہے سو ہے مگر یہ کمال ضرور وقوع پذیر ہوا ہے کہ شعرا نے محبوب اور درد کو سر پر چڑھا رکھا ہے۔ صاحب! صرف سر پر ہی نہیں چڑھایا بلکہ آپس میں ملا بھی دیا ہے یعنی محبوب ہے تو سمجھو درد تو ہے ہی ہے اور جو درد ہے تو اس میں بھی کیا دھرا محبوب کا ہی ہو گا۔ محبوب نہ ہوا ”ٹیٹنس کا ٹیکہ“ ہو گیا۔

مگر میرا دوست ”الف“ شاعر نہیں ہے۔ حد یہ ہے کہ اسے بھی محبوب کا درد ہو گیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا ”بھائی تجھے کب سے محبوب کا درد ہو گیا“

بولا جب سے محبوب کو ملازم رکھا ہے۔ بہت ہی کاہل اور نامعقول ملازم ہے۔ اس دن یہ بات سمجھ آئی کہ درد جہاں بھی ہو گا کسی نہ کسی صورت اس کا تعلق محبوب سے لازمی ہو گا۔

صاحب! جس مرض نے تمام انسانیت کو تڑپا کہ رکھ دیا ہے وہ ہے ”موٹاپا“ ۔ شاید انسانیت اتنا نہ تڑپتی مگر فلمی صنعت اور ماڈل خواتین و حضرات نے اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ انسانیت تڑپ اٹھی۔ ایک زمانہ تھا کہ ہیرو کی بھی کڑاہی نما توند ہوا کرتی تھی۔ آج کل تو ہیرو کا نوکر بھی اتنے چست بدن کا مالک ہوتا ہے کہ دیکھنے والے کی نبض سست ہو جائے۔

”الف“ کے مطابق موٹاپے سے انسانیت کم تڑپی ہے زیادہ ”نسوانیت“ تڑپی ہے کیونکہ مرد تو پھر بھی موٹاپے کا غم سہ لیتے ہیں، مگر جب خواتین دیکھتی ہیں کہ ان کے ایک ہی لباس پہ کپڑے کے دو تین تھان کی ضرورت پڑ رہی ہے تو وہ افسوس کا شکار ہو جاتی ہیں۔

موٹاپے سے کیسے پیچھا چھڑایا جائے اس پہ علما، اطبا اور فلاسفر کے علاوہ ”چول“ حضرات نے بھی طبع آزمائی مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔

صاحب! موٹاپا کیا ہے؟ اس کی معقول تعریف تب ہی ممکن ہے جبکہ یہ امر یقینی ہو جائے کہ حسن کیا ہے؟ اکثریتی آبادی کو تکلیف موٹاپے سے نہیں موٹا دیکھنے سے ہوتی ہے صاحب۔ متعدد فلاسفر نے اس پر رائے دی ہے کہ حسن کیا ہے مگر اس پر حتمی رائے بیوٹی پارلر والیاں اور میک اپ آرٹسٹ کی ہی سمجھی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حسن دبلا پتلا ہونا چاہیے موٹا محبوب آنکھ میں تو کیا شاید گاڑی میں بھی مشکل سے پورا آئے۔ ہمارے ایک دوست راجہ جی کی محبوبہ کافی فربہ تھی۔ ہم نے پوچھا کہ آپ اتنے دبلے پتلے اور محبوبہ ایسی بھاری بھرکم، فرمانے لگے ون ویلنگ کا شوق ہے۔ اسے موٹر سائیکل پر پیچھے بٹھاتا ہوں تو خود بخود ون ویلنگ ہو جاتی ہے۔

دیگر ماہرین کی رائے ہے کہ حسن نظر کا دھوکہ ہے۔ میرا دوست ”خ“ اس گروہ سے تعلق رکھتا ہے جو گھر بسانے پر یقین نہیں رکھتے اس کا کہنا ہے کہ جب تک آپ ایک کے نہیں ہو جاتے اس وقت تک آپ ہر کسی کے ہوتے ہیں۔ ہر کسی کا رہنے میں خوشی بھی زیادہ اور اہمیت بھی۔ حد تو یہ ہے کہ اکثر ہمسائے اس کے گھر کو ”گرلز ہوسٹل“ گردانتے ہیں۔ ”خ“ نوکری کی تلاش میں ایک انٹرویو دینے گیا کمرہ مخصوص میں داخل ہوا تو بیٹھ جانے کو کہا گیا۔

ہونے والے باس خوش گپیوں میں مصروف تھے اپنی موٹی سی توند پہ ہاتھ گھماتے ہوئے ایک نحیف و نزار حضرت سے گویا تھے ہمیں کمپنی نے ذمہ دار لوگوں کی ضرورت ہے اور ذمہ دار شخص شادی شدہ ہی ہوتے ہیں۔ جس کی شادی نہ ہوئی ہو اسے کیا پتہ گھر کیسے چلتے ہیں اور جو گھر چلانا نہیں جانتا وہ ہماری کمپنی کیا خاک چلائے گا۔ نحیف صاحب نے اس زور سے ہاں میں ہاں ملائی کہ ان کے چہرے کے ساتھ پورا جسم ”ہاں“ میں آگے پیچھے ہوا۔ پھر باس بھنویں چڑھا کہ ”خ“ کی طرف مڑے ہاں تو میاں ڈگریاں تو بہت ساری ہیں آپ کے پاس۔ ڈگریاں تو سب کے پاس ہوتی ہیں، بتاؤ گھر والے ہو؟

”خ“ بھی ٹیڑھا، اس نے بھی اثبات میں ایسا سر ہلایا کہ خود بھی ہل گیا۔ باس فرمانے لگے تو ٹھیک ہے آپ کی نوکری پکی، کل ہمارے ساتھ کھانا تناول فرمائیے گا پھر شہادت والی انگلی کو ”خ“ پر تان کر زور دیا ”اور بیگم کے ساتھ تشریف لائیے گا“ ۔

کچھ عرصے بعد ”خ“ سے ملاقات ہوئی۔ ہمیں یقین تھا کہ بیگم کی غیر موجودگی کی وجہ سے ”خ“ یقیناً نوکری سے فراغت پا چکا ہو گا۔ مگر معلوم ہوا ”خ“ خوش و خرم نوکری سر انجام دے رہا تھا۔ ”یہ کیسے“ ہم نہ حیرت میں غوطہ لگا کہ استفسار کیا۔ بولا ”گھر میں جو ماسی جنتے کام کرتی ہے اسے بیوی بنا کہ لے گیا تھا میں نے اسے کہا تھا زیادہ بولنا نہیں اور کام بن گیا“ ۔ اس کے بعد ”خ“ نے پورا قصہ سنایا کہ کیسے ایک بیوٹی پارلر نے جنتے کو ماسی سے میم صاحب بنا دیا۔ اور کیسے ”خ“ کو جنتے سے سچی محبت ہو گئی اور آج وہ مسز ”خ“ ہے۔

ماسی، میم اور مسز تمام عورت کے ہی روپ ہیں اور حسن کے پرتو ہیں۔ شعرا اکثر سادگی پہ زور دیتے ہیں۔ اکثر ہمارے ہیرو کو خاتون کی سادگی یا بے ساختگی پہ پیار آ جاتا ہے اور وہ اپنا دل پھینک بیٹھتے ہیں۔ اصل زندگی میں پیار حسن پہ آتا ہے اور حسن اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے جتنا رنگ کے پردوں میں چھپا ہو۔

مگر یہ پردے رنگ اور ناز و ادا کے ہونے چاہیے نہ کہ گوشت پوست اور موٹاپے کے۔

صاحب کہا جاتا ہے کہ اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو خوب پسینہ بہائیے۔ ہمارے ایک انتہائی موٹے دوست نے ہمیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی جب ہم نے ان کے کمرے میں قدم رنجہ فرمایا تو یوں لگا جیسے ہم خمیر ہوں اور کسی تنور میں لگا دیے گئے ہوں۔ اپنی جیکٹ اتارتے ہوئے ہم نے آجو باجو دیکھا تو معلوم ہوا ایک عام حجم کے کمرے میں چار ہیٹر جل رہے ہیں۔ ہمارے دوست کے چاروں طرف ایک ایک گرم کرنے کا اوزار چل رہا تھا اور حضرت دسمبر کی یخ بستہ سردی میں ایک عدد چست جانگیہ یعنی زیر پوش صغیرہ ذیب تن کیے ہوئے تھے۔

اس عجب احوال پہ ہم بوکھلا گئے اور حضرت کی ذہنی حالت پر بے حد مشکوک ہوئے۔ ہم نے درخواست گوش گزار کی کہ حضرت ستر تو مکمل کر لیں مگر دوست نے فرمایا کہ وزن گھٹانے کے لیے تمہیں یہ قربانی دینا پڑے گی۔ ہم گویا ہوئے کہ حضرت آپ ہمیں نظری دہشت گردی کا شکار کر رہے ہیں۔ یہ منظر ہم سے نہ دیکھا جائے گا۔ بالفرض ہم خود کو اس نظری دہشت گردی کا شکار کر بھی لیں تو بھی اس ماحولیاتی دہشت گردی کو نہ سہ سکیں گے۔ اتنا درجہ حرارت تو شاید روز قیامت ہی ہو گا جبکہ سورج سوا نیزے پر فائز ہو گا۔ ہم نے بہت ٹال مٹول کی اور آخر کار گھنٹے کے بعد اس طرح اپنی زندگی بچائی کہ ایک عدد زیر پوش صغیرہ ذیب تن کیا اور پانی کی چار بوتلیں ساتھ رکھی۔ دو عدد خود پر انڈیلیں اور دو فٹافٹ پی گئے لیکن یار غار کا وزن کم نہ ہو سکا۔

پھر ہم نے یار غار کا وزن کم کرنے کا کوئی مثبت طریقہ کار ڈھونڈنے کا ارادہ کیا اور اسے مشورہ دیا کہ تمہاری ہمسائی ”منی“ روزانہ صبح سویرے بھاگنے کا شغل کرتی ہے تم بھی صبح صبح بھاگو اسی بہانے ”منی“ تمہیں پسند کرنے لگ جائے گی کہ تم ایک محنتی اور ورزش پسند انسان ہو۔ مگر دوست نے فرمایا بھاگ تو لوں مگر صبح جاگے گا کون؟ دوسرا یہ کہ ”منی“ کے آبا کے پاس دو نالی کی بندوق ہے۔ اس خطرناک انکشاف کے بعد ہم نے یہ خیال ترک کر دیا۔

دوستو موٹاپے پہ ہماری تمام تر تحقیق کا لب لباب یہی ہے کہ دو صورتحال ہی ممکن ہیں۔ یا تو اپ موٹاپے سے جان چھڑا لیں یا موٹاپا اپ سے جان چھڑا لے گا۔

 

Facebook Comments HS