یہ شام پھر نہیں آئے گی
میں نیم تاریک راہداری سے گزرتا ہوا اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوا۔ مین سوئچ آن کیا تو پورا ہال روشنی سے منور ہو گیا۔ میں نے لیپ ٹاپ بیگ ٹیبل پر رکھا اور بوجھل قدموں سے چلتا ہوا جوتوں سمیت صوفے پر دراز ہو گیا۔ میرے موبائل میں وائٹل سائن کا یہ گانا چل رہا تھا۔
”یہ شام پھر نہیں آئے گی۔ اس شام کو اس ساتھ کو آؤ امر کر لیں امر کر لیں۔“
میں جکارتہ کے اس ہوٹل کی بیسویں منزل پر موجود تھا اور دو سال سے ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں اسی جگہ پر سکونت پذیر تھا۔ آج دفتر میں میرے مینیجر نے یہ خبر دی کہ مجھے نئی اسائنمنٹ مل رہی ہے۔ سو یہ میرا جکارتہ کے لیے آخری دورہ ہے۔ اور میں دو ہفتے کے بعد لاہور واپس جا رہا ہوں۔
دل اداس تھا۔ سو میں یہ شہر چھوڑ رہا ہوں۔ یہ شہر جس کا نظارہ میں اس ہوٹل کی بلند و بالا عمارت کی مختلف منزلوں پر اطراف میں پھیلے کمروں سے کر چکا تھا۔ ایک نوسٹلجیا دل گیر ہو گیا۔ مگر ایسا کیوں؟ ابھی تو میں اس شہر میں موجود تھا! شاید میں خود کو مستقبل میں لے جا کر اس وقت کو ماضی میں دیکھ رہا تھا۔ اور یاد کر رہا تھا۔
مجھے احساس ہوا کہ میرے پاس یاد کرنے کو کچھ زیادہ نہیں۔ صرف ایک میکانکی سی دفتری زندگی۔ صبح اٹھنا۔ تیار ہونا۔ کولیگز کے ساتھ کلائنٹ کے دفتر جانا۔ وہاں رات گئے تک کام کرنا۔ واپس ہوٹل آنا۔ کھانا تیار کرنا۔ سو جانا۔ یہاں تک کہ ہفتے کے روز بھی ہم کام کرتے۔ اتوار کے روز نیند کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دیر تک سوتا۔ گروسری کرتا۔ کپڑے دھوتا اور انھیں استری کرتا۔ بس؟
پھر اداسی کیوں؟ شاید یہ ایک ملال تھا۔ ایک احساس کہ میں نے اپنا وقت ضائع کر دیا! مگر کوئی بات نہیں۔ میرے پاس ابھی وقت تھا۔ اور پھر مجھے لپک کر ایک خیال آیا۔ میں نے دو سالوں کا مداوا دو ہفتوں میں کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
موبائل میں وہی گانا پھر سے لگ گیا۔ اب یہ بول چل رہے تھے۔
”دل کی باتیں سبھی بن کہے ہم سنیں۔ ہونٹ خاموش ہوں آنکھیں کہتی رہیں۔ دل کی باتیں سبھی۔“
میں نے اپنے لیے ایک نیا پلان ترتیب دیا۔
اگلے روز میں منہ اندھیرے اٹھ گیا۔ سب سے پہلے نیند کو کم کرنا تھا۔ دفتر سے پہلے کچھ گھنٹہ مطالعہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں ہمیشہ اپنے ساتھ کچھ کتابیں ساتھ لے جاتا تھا۔ لیکن وہ میرا منہ تکتی رہ جاتیں۔ اس بار نان فکشن میں Daniel Kahneman کی تھنکنگ فاسٹ اینڈ سلو اور Anatol Lieven کی پاکستان: اے ہارڈ کنٹری تھی۔ فکشن میں عظمیٰ اسلم خان کی جیومیٹری آف گاڈ اور اسماعیل کاردار کی پیلس آف ڈریمز۔ دو ہفتے میں انہیں ختم کرنے کا تہیہ کر لیا۔
اس روز دفتر پہنچا تو مینیجر نے کہا کہ آج سے تم نے کوئی کام خود نہیں کرنا۔ انہوں نے ایک کولیگ کی طرف اشارہ کیا۔ ”یہ تمہارا بیک اپ ہے۔ جو کام تم خود کیا کرتے تھے اب اس سے کراؤ۔“ خدا نے میری سن لی تھی، میں نے سوچا۔ کم مصروفیت ہونے کے سبب اب میں اپنے منصوبے پر زیادہ بہتر طریقے سے عمل کر سکتا تھا۔
شام کو وقت پر گھر آ گیا۔ ہوٹل سے متصل ایک کیفے پر گیا۔ کافی کا آرڈر دیا اور اپنے منصوبے کے بارے میں سوچنے لگا۔ پھر ساتھ ایک پلازے میں چلا گیا۔ وہاں سٹیشنری کی ایک بڑی شاپ تھی۔ وہاں سے میں نے واٹر کلر، سکیچ پیڈ اور ایک ڈائری خرید لی۔
اب روز شام کو میں ایک سکیچ یا پینٹنگ بنانا شروع ہو گیا۔ مواد ڈھونڈنے کے لئے انسٹاگرام کا استعمال بڑھ گیا۔ فیس بک پر متعدد گروپوں میں بڑھ چڑھ کر کمینٹ کرنے لگا۔ ”ہم سب“ پر بھی انہی دنوں لکھنا شروع کیا۔ یہ وہ کام تھے جن کے بارے میں پہلے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
اگلے روز بریک میں میں ایک انڈونیشی ریستوراں چلا گیا۔ پلیٹ میں روسٹ، چاول، مکئی کی ٹکی اور کچھ سپائسز ڈالے۔ ایک جگہ بیٹھ کر جیسمین ٹی کے ساتھ کھانا تناول کرنے لگا۔ کانوں میں ہینڈ فری لگی ہوئی تھی اور وائٹل سائن کا ”دو پل کا جیون“ چل رہا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ بقیہ دنوں میں اپنی مرغوب غذائیں ایک بار پھر کھانا تھیں۔
رات کو میرا معمول یہ بن گیا کہ اپنے ایک دوست کے ساتھ لمبی واک پر نکل جاتا۔ ہم جکارتہ میں ساتھ گزارے ہوئے وقت کو خوب یاد کرتے۔ کبھی سڑک کنارے کسی ڈھابے پر رک کر فریش ناریل کا پانی پیتے۔ یا مکڈونلڈ کی کسی برانچ میں گھس کر کافی یا آئس کریم کا آرڈر دیتے۔
ایک روز میں اکیلا پارک میں چلا گیا اور چہل قدمی کرتے ہوئے موبائل پر کتاب پڑھنے لگا۔ میں نے کنڈل پر ایلزبتھ گلبرٹ کی کتاب بگ میجک کی ان سطور کو ہائی لائٹ کیا:
”In the safe world in which you and I most likely live, the stakes of our creative expression are low.“
اور پھر ویک اینڈ آ گیا۔ ہفتے کے روز صبح صبح ڈرائیور آ گیا۔ آج شہر گھومنے کا پروگرام تھا۔ سب سے پہلے نیشنل مونومنٹ پہنچے۔ خوب گھومے۔ کھایا پیا۔ پھر استقلال مسجد دیکھی۔ نماز پڑھی۔ سامنے واقع گرجا گھر چلے گئے۔ ایک مسیحی شادی کی تقریب کے بن بلائے مہمان بنے۔
اتوار کا دن شاپنگ کے لیے مختص تھا۔ کانوں میں ہینڈ فری لگی ہوئی تھی اور بالی ووڈ کا پلے بیک میوزک چل رہا تھا۔ نگاہ میں ایک کے بعد ایک مال کی چکا چوند۔ کانوں میں ایک کے بعد ایک ہٹ گانے کی گونج۔ سنلیٹن مال۔ ”باتوں کو تیری ہم بھلا نہ سکے۔“ کاسا بلانکا مال۔ ”ہوا ہے آج پہلی بار جو ایسے مسکرایا ہوں۔“ کیمانگ ولیج۔ ”جو تو میرا ہمدرد ہے سہانا ہر درد ہے۔“
ایک روز دفتر کے بعد سنیما چلے گئے۔ ان دنوں شاہ رخ خان کی فلم ”فین“ کا پریمیئر چل رہا تھا۔ لیپ ٹاپ میں بھی فلموں کی کمی نہیں تھی۔ پی کے، کارتھک کالنگ کارتھک اور روئے مووی انہی دنوں کی یادگار ہے۔
اور یوں جکارتہ میں میرا آخری دن آ گیا۔ سامان پیک ہو چکا تھا۔ میں نے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے باہر جھانکا۔ ہمیشہ کی طرح زندگی سے بھرپور ایک روشن دن: سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں۔ دور بلند و بالا عمارات۔ نیلے آسمان پر کہیں کہیں بادل۔ خدا حافظ جکارتہ!
میں نے اپارٹمنٹ پر آخری بار نظر ڈالی اور دروازہ لاک کر کے لابی میں چیک آؤٹ کے لیے آ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ٹیکسی جکارتہ کی کھلی سڑکوں پر ائرپورٹ کے لیے رواں دواں تھی۔ میں خوش تھا۔ خاص طور پر جس طرح میں نے یہ دو ہفتے گزارے تھے۔ مکمل اطمینان محسوس کر رہا تھا۔ کوئی اداسی نہیں۔ کوئی ملال نہیں۔ ایسا لگا کہ شہر کے لوگ اور عمارات بھی مجھے الوداع کر رہے ہیں۔
کئی برس بیت چکے ہیں۔ آج بھی میں جکارتہ میں گزارے ہوئے اس وقت کے بارے میں سوچتا ہوں۔ گو کہ وہ شامیں اب لوٹ کر نہیں آئیں گی۔ مگر ان شب و روز کی یادیں اب بھی میرے ساتھ ہیں اور ذہن میں امر ہو چکی ہیں۔


