علامتی حملہ: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
حالیہ ایران اسرائیل کشیدگی میں ایران اور اسرائیل دونوں خود کو فاتح قرار دے رہے ہیں۔ اس کشیدگی کی بنیاد دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملہ تھا جس میں 8 افراد بشمول تین پاسداران کمانڈرز مارے گئے۔
تل ابیب سے دمشق کا فاصلہ 350 کلو میٹر اور تہران سے تل ابیب کا فاصلہ تقریباً 1650 کلو میٹر ہے۔ جہاں سے میزائل تو اسرائیل میں پانچ منٹ میں پہنچ جاتے ہیں، لیکن ڈرونز کو چند گھنٹے لگتے ہیں۔ دور سے آنے والا ہتھیار عموماً نشانے خطا کر جاتا ہے۔ اسی لیے تین سو کے قریب ہتھیار پانچ گھنٹے تک اسرائیل کے طول و عرض میں گرے مگر ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔ بہت سارے میزائلز اور ڈرونز تو امریکہ نے اسرائیل میں داخل ہونے سے قبل ہی مار گرائے گئے اور یہ سارا عمل اردن کی فضائی حدود میں ہوا۔ اس حملے کے بعد عرب سوشل میڈیا کا مطالعہ دلچسپ رہا۔ کسی ستم ظریف نے لکھا کہ یہ عجیب جنگ تھی کہ آناً فاناً شروع ہوئی اور فوراً ختم بھی ہو گئی۔
اب یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا یہ جنگ طول پکڑے گی؟ تو جواب یہ ہے کہ جنگ کے وسیع تر ہونے کے موجودہ صورت حال میں امکانات کم ہیں۔ ایران نے نے دمشق کے حملے کا بدلہ لے لیا، ایرانی شہروں میں حکومت کے حق میں جلوس بھی نکلے ہیں مگر ساتھ ہی پٹرول پمپس پر لمبی قطاریں اور ایرانی کرنسی مزید گر گئی ہے۔ اپنے موجودہ اقتصادی حالات کی وجہ سے ایران لمبی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امریکہ جی سیون کا سہارا لے کر جنگ کو وسیع تر کرنے سے روکنے کا خواہاں ہے۔
یورپی یونین بھی چاہتی ہے کہ جنگ زیادہ، وسعت اختیار نہ کرے تاکہ توانائی کی قیمتیں مزید نہ بڑھیں۔ افراط زر قابو میں رہے۔ عالمی اقتصادی حالات کساد بازاری کا شکار نہ ہوں اور امریکہ یکسوئی سے اپنی پوری توجہ چین پر مرکوز کر سکے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو مڈل ایسٹ میں امریکی فوجی اڈے اس کا ہدف ہوں گے اور یہ عسکری بیس ایران کے قریب ہی قطر اور بحرین میں واقع ہیں۔ صدر بائیڈن کی پوری کوشش ہو گی کہ الیکشن کے سال میں ایسی پریشان کن صورتحال پیش نہ آئے۔ ایران اور اسرائیل کے مابین موجودہ صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہوا ہے کہ دنیا کی توجہ غزہ کے مظلوموں سے ہٹ گئی ہے۔
مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی ایک کمزور تنظیم ہے۔ انڈونیشیا سے مراکش تک تقریباً پچاس ملک اس کے ممبر ہیں۔ ہر قابل عمل فیصلہ مکمل اتفاق رائے سے ہوتا ہے۔ تنظیم کے کئی ممبران اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتے ہیں تو ایسی صورت میں اسرائیل مخالف پروگرام پر اتفاق رائے کیسے ہو سکتا ہے۔
غزہ پر مسلسل عالمی جنگ بندی کے لیے دباؤ اتنا بڑھ چکا تھا کہ اسے ’ڈیفلیکٹ‘ کرنے کی ضرورت تھی اس کا سب سے مجرب طریقہ یہ تھا کہ بحران کا دائرہ بڑھا کر زیادہ ممالک ملوث کو کیا جائے تاکہ یہ بوجھ یا تو بٹ جائے اور اگر ایسا نہ ہو تو کم از کم، ہو جائے۔ نیتن یاہو کے مخالفین کے بقول غزہ جنگ بندی کی صورت میں ان پر دوبارہ استعفیٰ کے لیے دباؤ بڑھنے اور استعفیٰ کے بعد پرانے الزامات اور مقدمات ان کی راہ بے چینی سے تک رہے تھے۔ رائے عامہ کے مختلف جائزوں کے مطابق اس وقت اوسطاً ستر فیصد سے زائد اسرائیلی باشندے یرغمالیوں کے بے یقین مستقبل کے باوجود غزہ مہم کو ’منطقی انجام‘ تک پہنچانے کے خواہاں ہیں۔
نیتن یاہو 1980 کے عشرے سے اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہوتے ہوئے اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب، وزیر خزانہ، وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور قائد حزب اختلاف کے عہدوں پر متمکن ر ہے۔ لہٰذا انھیں اندرونی و بیرونی بساط پر کھیلنے کا بخوبی تجربہ ہے۔ وہ بین الاقوامی رائے عامہ تقسیم کرنے اور اسرائیل سے منفی عالمی توجہ ہٹانے کے ماہر ہیں۔ اسرائیل کے طویل ترین مدت تک وزیر اعظم رہنے کا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔ 2017 میں کرپشن کے سنگین الزامات پر مخالفین نے جیل کی سلاخوں کے پس منظر میں ان کی سیاسی وصیت لکھ ڈالی۔ مگر وہ 2022 میں چھٹی بار بھی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ وزارت عظمی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
اس کے بعد انھوں نے کرسی مضبوط کرنے اور کچھ اہم عدالتی اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کرنے کی کوشش کی۔ مگر حزب اختلاف اور سول سوسائٹی نے سخت مزاحمت سے لگتا تھا کہ نیتن یاہو دباؤ کی تاب نہ لا سکیں گے مگر حماس کی جنوبی اسرائیل پر یلغار نے نیتن یاہو کو بحرانی دور کی قومی حکومت کے وزیر اعظم کے طور پر سیاسی دلدل سے نکال دیا۔ ان کو سیاسی اور سفارتی ترپ کے پتے کھیلنے میں ید طولی حاصل ہے۔ مختصراً ان پر نظر ڈال لیتے ہیں۔
* 26 جنوری 2024 کو عالمی عدالت انصاف نے جنوبی افریقہ کی پٹیشن پر غزہ میں انسانی امداد کی بحالی اور سویلین آبادی کو محفوظ رکھنے کے لیے اسرائیل کو موثر فوری اقدامات کرنے اور طاقت کے استعمال کو حد میں رکھنے کا پابند کرنے کی کوشش کی تو فیصلے کے کچھ دیر بعد اسرائیلی وزارت خارجہ نے ممکنہ عالمی ردعمل کی پیش بندی کے طور پر یہ رپورٹ جاری کر دی کہ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے برائے فلسطین (انرا) کے کم از کم 12 ارکان 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر ہونے والے حملوں میں براہ راست ملوث ہیں۔
میڈیا اور مغربی حکومتوں کی توجہ چند ہی گھنٹے میں عالمی عدالت انصاف کی رولنگ سے ہٹ کر اسرائیلی الزامات پر مرکوز ہو گئی اور متعدد ممالک بشمول یورپی یونین نے ”انرا“ کی امداد عارضی طور پر معطل کر دی۔ دباؤ اتنا بڑھا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھی فوری طور پر ان اہلکاروں کی معطلی کے احکامات جاری کرنے پڑے۔ ڈھائی ماہ بعد بھی ان الزامات کے حق میں ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آ سکے۔ چنانچہ کئی ممالک نے ”انرا“ کی معطل امداد بحال کر دی ہے مگر اسرائیل نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے۔
* یکم اپریل 2024 کو جب غزہ میں فلسطینیوں کو غذا فراہم کرنے والے سات بین الاقوامی رضاکار ایک اسرائیلی فضائی کارروائی میں ہلاک ہوئے۔ چھ کا تعلق اسرائیل کے مختلف اتحادی ملکوں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، پولینڈ، برطانیہ اور دیگر ملکوں سے تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسے ناقابل تصور واقعہ قرار دیا۔ اسرائیلی فضائیہ نے ایرانی سفارت خانے کو نشانہ بنا کر رضا کاروں کے واقعے سے توجہ ہٹا دی۔ اسی لیے اس حملے کو کچھ مبصرین نے ٹریپ قرار دیا۔ اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ نے اسے حق بجانب، بلکہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی کھل کے مذمت کرنے کے بجائے یہ مبہم موقف اختیار کیا کہ وہ اس واقعہ کی چھان پھٹک مکمل ہونے کا انتظار کریں گے۔
ایرانی فوجی تنصیبات اور اہلکار سات اکتوبر کے بعد اسرائیلی حملوں کا ہدف بنے مگر سفارتی دفتر پر حملے کے بعد ایران کو یہ سوچنا تھا کہ اس کی بدستور خاموشی کو اندرون و بیرون ملک ریاست کی کمزوری پر محمول کیا جا سکتا ہے اور مشرق وسطی میں اس کے اتحادیوں کا ایرانی سیاسی و عسکری حمایت پر سے اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ اگر وہ عسکری اور براہ راست جواب دیتا تو پھر اسرائیل کی ایران کو گھیر کے مارنے کی خواہش پوری ہو سکتی تھی اور اس ’کار خیر‘ میں امریکہ سمیت دیگر علاقائی و بین الاقوامی اتحادی بھی شامل ہوسکتے تھے۔ ایران نے جواب دینے کا راستہ چنا لیکن اس میں کوئی ایسا سرپرائز نہیں تھا جو کسی موثر عسکری آپریشن کا بنیادی محور ہوتا ہے۔ ایرانی کارروائی اندرون ملک قومی وقار اور بیرون ملک اتحادیوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ایک علامتی کارروائی تھی۔
کئی دوستوں کی رائے میں ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے امت مسلمہ کی قیادت حاصل کر لی ہے۔ مندرجہ بالا حقائق اس کی نفی کرتے ہیں۔ ایران نے فلسطینیوں کے لیے ایک بھی میزائل فائر نہیں کیا۔ بہرحال ایک طرف ایران نے حملہ کیا تو دوسری طرف یہ سفارتکاری سے کوشش کی کہ معاملہ ایک حد سے زیادہ نہ بڑھ جائے۔ اسی لیے اس حملہ کے فوری بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے خلاف کوئی قرارداد پاس نہیں ہو سکی۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
ان فضائی حملوں کے سبب ایران کے مقابلے میں اسرائیل کو زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ اسرائیل میں کوئی بڑا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا اور اب امریکہ اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی، انٹیلی جنس تعاون اور مالی امداد کے لیے مغربی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ جو بائیڈن اسرائیل کو مظلوم بنا کر پیش کر رہے ہیں اور اس کے لیے جی سیون ممالک سے مدد مانگ رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسرائیل تنہا اپنا دفاع نہیں کر سکتا بلکہ اسے ایرانی میزائل مار گرانے کے لیے امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اردن کی مدد کی ضرورت ہے۔ واہ کیا کمال وقت آ گیا ہے کہ اپنی طاقت کا بھرم قائم رکھنے کے لیے ”علامتی حملوں“ کی ضرورت پڑتی ہے چاہے اس میں ملامت ہی گلے پڑے۔


