فرض کی ادائیگی پر شکریہ کا کلچر ختم کرو
روڈ جو عوام کے ٹیکسوں سے بنتی ہے اور اس کو مزدور تیار کرتے ہیں۔ کبھی مجھے اتفاق نہیں ہوا کہ کوئی ایم ایل اے، وزیر یا وزیر اعظم روڈ بنا رہا ہو مزدوروں کے ساتھ کام کر رہا ہو۔ پھر بھی لوگوں سے سنا ہے کہ فلاں وزیر نے یہ سڑک بنائی ہے۔ اگر کسی شہری نے کسی وزیر کو واقعہ ہی کسی سڑک پر کام کرتے دیکھا ہو تو میری رہنمائی کریں تاکہ میرا یہ ابہام دور ہو سکے کہ روڈ مزدور بناتے ہیں اور پیسے عوام کے ہوتے ہیں۔ اس لئے تختی پر نام اور تصاویر مزدوروں کی ہونی چاہیے۔
حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ تمام سڑکوں کو پختہ رکھیں۔ ان کو خستہ حال نہ ہونے دیں۔ اگر کوئی محکمہ یا حکومت اپنا فرض پورے کرے تو اس کا شکریہ ادا کرنا بنتا ہے تو پھر ایک درزی روزانہ کپڑے سلائی کرتا ہے، ایک حجام شہریوں کے بال اور شیو بناتا ہے، ایک پبلک ٹرانسپورٹ کا ڈرائیور شہریوں کو منزل پر پہنچاتا ہے، مزدور کارخانوں اور فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں، تمام سرکاری و نیم سرکاری ملازم اپنی اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیتے ہیں، ایک دکاندار شہریوں کی بنیادی ضروریات کی اشیاء فروخت کرتا ہے، ایک کسان کھیت میں کام کرتا ہے، ان سب کا بھی شکریہ ادا کرنا بنتا ہے۔
کیونکہ ایک درزی نے بروقت کپڑے سلائی کئیے ہیں کوئی شخص بغیر کپڑے کے نظر نہیں آتا۔ تمام دکاندار بلکہ پورے معاشرے میں تمام معاشی سرگرمیاں بر وقت سرانجام دی جا رہی ہیں۔ کئی افراتفری نظر نہیں آ رہی۔ شادی بیاہ سمیت تمام خوشی غمی کی سرگرمیاں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔ ان تمام افراد کا شکریہ بنتا ہے جو ان سرگرمیوں کو معمول کے مطابق لانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
آج تک ہماری حکومتوں نے کوئی فرض بروقت ادا نہیں کیا۔ محترم دوست کی پوسٹ نظر سے گزری۔ محترم دوست وزیر اعظم صاحب کا ایک خستہ حال روڈ کو پختہ کرنے کے اعلان پر ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ جس روڈ کا ذکر کیا ہے۔ اس پر سفر کرنے کا متعدد بار اتفاق ہوا ہے۔ اگر روڈ کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہونے دیا جاتا تو متعلقہ علاقے کے شہریوں کا کتنا قیمتی وقت بچتا، کتنی قیمتی جانوں کو بروقت ہسپتال پہنچا کر بچایا جا سکتا تھا۔ بیشک ہر روح کا وقت مقرر ہے۔
میرے نزدیک معاشرے کے سارے عام شہری تو اپنی تمام معاشی و سماجی ذمہ داریاں بہتر انداز سے بروقت پوری کر رہے ہیں۔ ان سب کا روز کی بنیاد پر شکریہ ادا کرنا بنتا ہے اور موجودہ اور سابقہ حکومتیں کوئی بھی فرض بروقت ادا نہیں کر رہی جس سے شہریوں کا ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے۔ اب اگر کوئی حکومت جو کام آج سے بیس سال پہلے کرنا بنتا تھا۔ اس کا آج اعلان کر رہی ہے تو اس کو یہ باور کروانا بنتا ہے۔ اس کی بے حسی اور لاپرواہی کی وجہ سے شہریوں کا کتنا نقصان ہو چکا ہے اور اس ایک سڑک سمیت جتنی بھی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ وہ حکومتوں کی لاپرواہی اور بے حسی کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ حکومتوں کی لاپرواہی اور بے حسی سے شہریوں کا جو نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت وقت اپنا فرض پورا کرے اور شہریوں کو ہرجانہ ادا کرے اور تمام کام بروقت ادا کرے۔ کیونکہ شہری اپنی تمام ذمہ داریاں بروقت ادا کرتے ہیں۔
پچھلے دنوں کی بات ہے جاپان میں ایک میٹرو ٹرین صرف 45 سیکنڈ لیٹ ہوئی تو محکمہ نے تمام مسافروں سے معافی مانگی اور کرایہ بھی واپس کیا۔ دوسری طرف ہم ہیں۔ حکومتیں اور ادارے کئی کئی سال غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ ہم ان کی غفلت اور لاپرواہی کی نشاندہی کرتے ہیں نہ ان سے ہرجانے کا مطالبہ۔ آج دنیا کی جدید ثقافت ٹیکنالوجی ہم نے قبول کر لی ہے۔ لیکن جدید دنیا کی غفلت اور لاپرواہی کرنے والوں سے کیا جانے والا سلوک ہم نے قبول نہیں کیا۔ آج بھی جاگیردارانہ خوش آمدی اور چاپلوسی کا پیچھا چھڑا نہیں پا رہے۔ یہی رویہ ہمیں دنیا سے پچھاڑ رہا ہے۔
ہم 2024 میں سانس لے رہے ہیں۔ اگر ہم حکومتوں کی لاپرواہی اور غفلت کو منزل عام پر نہیں لائیں گے۔ بلکہ ان کی غفلت اور بے حسی پر پردہ ڈالنے کے لئے ان کی تعریفیں کریں گے۔ تو پھر ہم اپنے پڑھے لکھے نوجوانوں کی جوانی اور ان کا ہنر جدید دنیا کو بیچتے رہے گے۔ اللہ نہ کرے ہم اپنے پیاروں کی لاشیں سمندروں میں ڈوبنے کی خوفناک خبریں سننے۔ اگر معاشرے میں کوئی بھی شخص اپنا فرض پورا کرتا ہے۔ جس کا وہ پورا پورا معاوضہ وصول کرتا ہے۔ تو اس کی تعریف کی ضرورت نہیں کیونکہ معاشرے کا ہر فرد جو معاشی یا سماجی سرگرمی کرتا ہے۔ وہ معاشرے کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اور معاشرہ اس کو اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔
اگر ہمیں جدید دنیا سے مقابلہ کرنا ہے۔ تو پھر ہمیں تعریفی اور خوش آمدی ثقافت کا خاتمہ کر کے سماج کے لئے کسی بھی فرد کی سماجی و معاشی خدمت کو تسلیم کرنا ہو گا۔ طاقتور اداروں اور شخصیات کی خام خواہ تعریفیں اور شکریہ کو خیرباد کہنا ہو گا۔ جو بھی سماجی یا معاشی فرض کی ادائیگی میں تاخیر یا غفلت کرے اس کو پورے سماج کی طرف سے حوصلہ شکنی کی جائے۔ ہم ضرور جدید دنیا کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔


