ڈاکٹر حبیب الرحمان کا شعری مجموعہ ”دشت تشنگی“
محترم ڈاکٹر حبیب الرحمان مقیم کینیڈا کا نیا شعری مجموعہ ”دشت تشنگی“ کے نام سے پی ڈی ایف فارمیٹ میں ایک سانجھے دوست ندیم احمد مرزا مقیم انگلستان کی توسط سے وصول ہوا۔ ندیم صاحب شکریہ کے حقدار ہیں کہ انہوں نے ایک بہترین شاعر کی تخلیقات سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا۔ چونکہ ادب و شاعری سے اتنا تعلق تو ہے کہ پڑھتا بھی ہوں، سنتا بھی ہوں۔ لاہور میں اور جرمنی میں متعدد مشاعروں میں شرکت بھی کی۔ شاید ایک دو بار مشاعروں کی رپورٹ بھی لکھی اور ایک بار کسی خاتون کی شاعری کی کتاب پر مضمون لکھنے کا موقع ملا تھا اور بس۔
چونکہ شعر و ادب کے مکمل اسرار و رموز پر دسترس تو نہیں لیکن ڈرتے ڈرتے حسب ضرورت کچھ سپرد قلم کرنے کی عاجزانہ کوشش کر ڈالتا ہوں۔ کیونکہ کسی شاعر کی شاعری کی کتاب پر کچھ لکھنا، کہنا آسان نہیں ہوتا بلکہ شاید شاعری کرنے سے کچھ مشکل ہی ہو۔ موصول شدہ ”دشت تشنگی“ عید الفطر کے فوراً بعد پہلی فرصت میں پڑھنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر حبیب الرحمن سے ذاتی براہ راست کوئی تعلق اور تعارف نہ تھا لیکن پھر یوں لگا کہ گویا پڑھنے کے ساتھ ساتھ اجنبیت کی تمام دیواریں زمیں بوس ہوتی گئیں اور تعلق نہ ہونے کے گمان کا بت بھی پاش پاش ہو گیا۔
ماورا پبلشرز لاہور کے زیر اہتمام شائع ہونے والا یہ شعری مجموعہ گزشتہ سال شائع ہوا اور اہل ذوق کے ہاتھوں تک پہنچا تھا۔ 229 غزلوں سے مزین یہ شعری مجموعہ شعر و ادب کے تقریباً تمام ہی موضوعات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس کی ایک جھلک شاعر کے لکھے پیش لفظ میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ لکھتے ہیں کہ ”زندگی کا حسن اور زینت اس کے تغیرات اور تضادات اور رنگینی تخلیق سے ہے۔ تغیرات زندگی دیکھئے تو کہیں شادی ہے اور کہیں غم۔ کہیں وصل ہے تو کہیں فراق۔ اقرار ہے تو انکار بھی ہے اور ابتداء ہے تو انکار بھی ہے“ ۔ مزید لکھتے ہیں کہ ”نشیب و فراز، ہستی و نیستی، راحت و رنج کے تضادات نہ ہوتے تو زندگی بہت بے مزہ ہوتی“ ۔ غزلوں کی ابتداء میں ان کی پہلی غزل ہی توجہ کھینچ لیتی ہے،
بس کہہ دو کہ اب وقت نہیں چارہ گری کا
ناسور ہوا کب سے مرا زخم جگر تو
کب پہلے سنی اس نے کہ وہ آج سنے گا
کیا روکنا جب باندھ لیا رخت سفر تو
پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ شاید موصوف کوئی خاندانی شاعر ہیں جنہیں شاعری کا وصف وراثت میں ملا ہے۔ کیونکہ جو بھی غزل اور کلام پڑھا اس میں مکمل ادبی پختگی نمایاں تھیں اور کہیں بھی کسی قسم کا جھول دکھائی نہیں دیا۔ لیکن یہ سچ نہیں نکلا۔ انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر حبیب الرحمن محض بارہ سال شاعر ہیں۔ نومبر 2012 کو انہوں نے بطور شاعر اس وقت فضاؤں میں جنم لیا تھا جب وہ اپنے والد کی تدفین کے بعد واپس کینیڈا جا رہے تھے اور غم و رنج و الم کی چادر میں لپٹے اور جہاز میں بیٹھے کچھ اشعار کا نزول ہوا جن کے بطن سے پھر ایک مکمل شاعر نے جنم لیا۔
موصوف ایک ڈاکٹر ہیں لیکن انہوں نے طب کے ساتھ ساتھ شاعری کی دنیا میں بھی اپنی شاعری سے رنج و الم و غم زدہ زخموں پر مرہم رکھا اور ادبی مسیحائی بانٹی ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”آداب عشق“ کے عنوان سے ادبی حلقوں میں متعارف ہوا تھا۔ ان کے دوسرے مجموعہ کا نام ”صدائے عشق“ ہے۔ ان کا تیسرا شعری مجموعہ ”دشت تشنگی“ کے نام سے گزشتہ سال شائع ہوا ہے۔ اس تیسرے مجموعہ میں ہر قسم کا ذوق رکھنے والے قاری کو اپنی من پسند شاعری پڑھنے کو ملتی ہے۔ شاعر کسی بھی پس منظر میں جنم لے، اس کی شاعری عورت کی تعریف کیے بغیر ادھوری رہتی ہے۔ یہاں بھی شاعر نے کیا خوب لکھا ہے کہ،
زیر لب چھپی ہنسی شوخ پن وہ آنکھ کا
پرکشش لگے ہے اب ان کی ہر ادا مجھے
ایک اور غزل میں حبیب الرحمن اپنی اندرونی اداسی کی کیفیت کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں،
آج تیرے شہر میں لوگ کیوں اداس ہیں
چاند میں چمک نہیں پیڑبے لباس ہیں
کب کے جا چکے مگر مجھ کو تو لگے یہی
آج بھی یہیں کہیں میرے آس پاس ہیں
ٓٓٓآخری صفحہ کی ٓٓآخری غزل کے آخری اشعار،
راہ بہت طویل تھی پاؤں میں آبلے پڑے
پھر بھی رکے نہیں مگر گام پہ گام آ گئے
ڈر تھا مجھے شروع سے کنج قفس میں قید کا
بال کشا ہوئے نہ تھے جو تہہ دام آ گئے



