پانی بچاؤ! زندگی بچاؤ! ملک بچاؤ!


اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سے ایک بڑی اور اہم نعمت پانی ہے۔ انسان کے بے شمار معاملات پانی سے ہی حل ہوتے ہیں۔ انسان کو قدم قدم پر پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ پانی کے بغیر انسان کے لیے زندہ رہنا ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ملک کو اللہ نے اس نعمت سے خوب نوازا ہے اور پانی کی وافر مقدار آج بھی موجود ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ اس نعمت کی قدر کریں۔ اس کی حفاظت کریں اسے ضائع ہونے سے بچائیں اور اس کے استعمال میں احتیاط برتیں۔

شاید یہی شکران نعمت کہلاتا ہے۔ پانی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ انسان کی روزمرہ ضروریات کے علاوہ جانوروں، پرندوں، کیڑوں مکوڑوں غرض ہر جاندار، نباتات و جمادات، زراعت، درخت، سبزہ، پھل و پھول کے لیے خوراک کی حیثیت رکھتا ہے۔ صنعتیں اور انڈسٹریز، کارخانے سب اس کے محتاج ہیں بجلی اور توانائی کا منبع بھی پانی ہوتا ہے۔ مختصر یہ کے دنیا کی بقا ءکے لیے پانی لازمی جزو ہے۔ اس لیے ہماری زمین کا تقریباً اکہتر فیصد رقبہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے اور اسے قدرت مختلف ذرائع سے ہم تک پہنچاتی ہے۔

سمند ر، دریا، جھیلیں، بارش، چشمے اسی کام پر معمور ہیں یہاں تک کہ آگ بجھانے کے لیے بھی پانی استعمال ہوتا ہے۔ سب سے اہم پینے کے لیے صاف پانی کی ضرورت ہے جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ہماری ہر حکومت اور سیاستدان عوام کو اس کی یکساں فراہمی کا خوبصورت خواب دکھاتے ہیں! مگر مصلحتوں کا شکار ہونے سے اب تک اس خواب کی تعبیر کبھی مکمل نہیں ہو پائی۔ اگر یہ کہا جائے کہ پینے کا پانی پاکستان اور خصوصاً بہاولپور ڈویژن کا سب سے بڑا مسئلہ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ شہر میں نصب چند واٹر پلانٹ اتنے بڑے شہر کی ضروریات پورا نہیں کر پاتے اور ان پلانٹس پر بے تحاشا رش اور ہجوم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پانی کی ضرورت مزید بڑھ رہی ہے۔

میرا گھر چوک عباسیہ احمد پور شرقیہ پر نہر کنارے واقع ہے یہ وہ خوش نصیب جگہ ہے جہاں کا پانی پینے کے قابل ہے۔ پورا شہر یہاں سے پانی بھرتا ہے۔ جس کے لیے شہر کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پانی کے پمپ لگائے ہوئے۔ یہاں روزانہ لوگوں کا ایک بڑا ہجوم پانی کے حصول کے لیے اکٹھا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ بڑی تعداد میں پانی سپلائی بھی کرتے ہیں اور فروخت بھی جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کی گہرائی میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

یہ پمپ کب تک پورے شہر کے پانی کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں؟ بہاولپور شہر میں چند واٹر پلانٹ موجود ہیں جہاں پر اس قدر رش ہوتا ہے کہ پانی کا حصول دشوار ترین کام بن جاتا ہے۔ بہت پہلے دریائے ہاکڑہ کا خشک ہوجانا دراصل چولستان جیسے بڑے صحرا اور ریگستان کو جنم دینے کا باعث بنا اور آج چولستان کا ایک بہت بڑا علاقہ پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہا ہے اور چند روایتی ٹوبے ( تالاب ) ہی انسانوں اور جانوروں کے لیے پانی فراہم کر کے ان کی زندگیاں بچاتے اور پیاس بجھاتے ہیں۔

چولستان کے لوگ ابھی اس کرب سے گزر ہی رہے تھے کہ سندھ طاس معاہدہ دریائے ستلج کی بندش کا باعث بن گیا اور اب دریا ستلج کی جگہ ریت ہی ریت نظر آتی ہے۔ کبھی بھارت جان بوجھ کر یا غلطی سے اس میں پانی چھوڑ دے تو پورا شہر اسے دیکھنے جاتا ہے اور پانی پر پھول نچھاور کر کے اپنی محرومیوں کا اظہار کرتا ہے۔ دریائے ستلج کے ساتھ ساتھ تمام شہری آبادیاں پینے کے پانی کو ترس رہی ہیں۔ بہاولپور کا پورا علاقے پینے کے پانی سے محروم ہو چکا ہے۔

2020 ء کی ایک رپورٹ جو وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے جاری کی تھی۔ اس کے مطابق انتیس بڑے شہروں کا پانی آلودہ نکلا پورے ملک کا اکسٹھ فیصد پانی پینے کے قابل نہیں ہے اور یہ جراثیم زدہ پانی انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ ہے۔ جن میں بہاولپور سر فہرست ہے جہاں اب پانی میں سنکھیا کی بڑی مقدار موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے جو خطرے کا الارم ہے۔ اور بہاولپور میں پینے کے پانی مین بیکٹیریا، آرسینک، مٹی، اور فضلے کی آمیزش کی موجودگی انسانی زندگی اور صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہیں اور اس کی وجہ سے گیسٹرو، ٹائیفائیڈ، ہیپا ٹائٹس اور پیٹ اور گلے کی بیماریاں زور پکڑ چکی ہیں۔

آلودہ پانی یرقان، جلد، سانس اور گردوں کی بیماریوں سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ بہاولپور ہسپتال کا ایک بہت بڑا وارڈ ہر وقت مریضوں سے بھرا رہتا ہے۔ آلودہ پانی سے کاشت سبزیاں بھی ان بیماریوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔ مضر صحت پانی بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما پر بھی اثر انداز ہو تا جا رہا ہے۔ صاف پانی ایک صحت مند معاشرے کی اولین ضرورت ہے۔ آج ہمارے ملک میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے بعد پانی کی نایابی حکومت اور عوام کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے؟

جہاں ہمیں پینے کے صاف پانی کا خاطر خواہ انتظام کرنا ہے اور اس کے لیے مکمل پلاننگ کی ضرورت ہے وہیں ہمیں اپنا اخلاقی اور سماجی فرض بھی ادا کر کے اس مسلے میں بہتری لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جیسا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ پانی کی اس زبردست قلت کے باوجود روز مرہ معمولات زندگی میں پانی کے بے دریغ اور بے مقصد استعمال کی مجرمانہ غفلت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اس کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہی نہیں اور نہ اس کے ضائع ہونے کا احساس کرتے ہیں۔

شاذ و نادر کوئی فرض شناس شہری ایسا ہو گا جو پانی کا محتاط استعمال کرتا ہو گا اور اس کے بے جا اسراف سے پرہیز کرتا ہو گا۔ اس ضمن میں حضور پاک کی ایک حدیث ہمارے لیے مشعل راہ ہے ”پانی میں اسراف مت کرو اگر چہ بہتی نہر پر ہو“ بہت سا پانی تو ہم اس حدیث مبارک پر عمل کر کے ہی بچا سکتے ہیں کیونکہ پانی کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ملکیت ہوتا ہے۔ اور زندگی وہیں پھلتی پھولتی ہے جہاں پانی میسر اور موجود ہو گویا پانی ہماری زندگی ہے اور صاف پانی محفوظ زندگی کی ضمانت ہوتا ہے۔

چاند اور مریخ جیسی بڑی بڑی سر زمینیں پانی نہ ہونے سے ویران پڑی ہیں۔ ہمیں پانی کے اپنے موجودہ ذخائر کی حفاظت اپنا قومی فرض سمجھنا چاہیے اور پانی کے استعمال میں احتیاط کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سات کروڑ کی آبادی صاف پانی کی سہولت سے محروم ہے اتنی بڑی تعداد میں پانی کی کمی کو پورا کرنا کوئی آسان کام نہیں یہ حکومت اور اس کے اداروں کے لیے چیلنج ہے۔ آج گھروں، عبادت گاہوں، کار واش سروس اسٹیشن، اور بے شمار جگہوں پر یہ اسراف عام دیکھنے کو ملتا ہے۔ دوسری جانب پینے کا پانی اب مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے اور صاف پانی کی فراہمی کے حکومتی دعوے ٰ اور وعدے دور دور تک نظر نہیں آرہے۔ منرل پانی بنانے والی کمپنیاں دونوں ہاتھوں سے لوگوں لوٹ رہی ہیں۔ ایک صاف پانی کی بوتل 1یک سو روپے سے دو سو روپے تک جا پہنچی ہے۔ دوسری جانب منرل واٹر کے نام پر سادہ پانی کی گھروں میں مہنگے داموں فروخت کرنے کا کام بھی عروج پر ہے۔

عالمی سطح پر بہت سے ادارے اس نعمت کی حفاظت اور بچت کے بارے میں کام کر رہے ہیں۔ کیونکہ پانی کا مسئلہ ہماری زندگیوں سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر اس کا احساس خود نہیں کریں گے اور ہمارے مذہبی، سماجی، سیاسی ، صحافتی ادارے عوام میں اس پانی بچاؤ مہم کے شعور کو بیدار کرنے میں شامل نہیں ہوں گے ۔ عام زندگی کے استعمال میں کفایت شعاری، بارش اور دریاؤں کا پانی بچانے کے ساتھ ساتھ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیموں، تالابوں کی تعمیر بے حد ضروری ہو چکی ہے۔

نئے ڈیم نہ صرف ہمارے مشکل وقت کے لیے پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں بلکہ ہمارے ملک کی توانائی کا بحران بھی ختم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ جس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر حکومتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ورنہ دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ہمیں خشک سالی اور قحط کا شکار بھی کر سکتی ہیں۔ اگر مزید پانی کے پلانٹ لگانا مشکل ہے تو موجودہ پانی کے استعمال میں احتیاط کر کے اسے ضائع ہونے سے بچایا تو جا سکتا ہے۔

سننے میں آیا تھا کہ دریائے ستلج پر ایک نئی جھیل بنانے کا منصوبہ زیر غور ہے تاکہ میٹھے پانی کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ بہاولپور کے عوام کو تفریح بھی فراہم کی جا سکے۔ مگر تا حال یہ منصوبہ بھی خواب ہو کر رہ گیا ہے۔ ہماری این جی اوز کو ایک واک ”پانی بچاؤ زندگی بچاؤ“ کا شعور اجاگر کرنے کے لیے بھی کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS