لکیر کا تعاقب
انسان کا لکیر سے دلچسپی کب شروع ہوئی، اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا دشوار ہے۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ انسان اور لکیر کا رشتہ نہ صرف قدیم ہے بلکہ انتہائی مضبوط بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لکیر کے اثرات انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جیسے زبان، ریاضی، سیاست، اور معاشرہ۔
اردو زبان پر لکیر کے اثرات خاص طور پر نمایاں ہیں۔ جب میں لکیر کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے سکول میں پڑھی جانے والی اردو کی کتابیں یاد آتی ہیں، جن میں لکیر سے متعلق کئی محاورے موجود تھے۔ جیسے کہ ”پتھر پر لکیر“ ، ”لکیر کا فقیر“ ، یا ”لکیر پیٹنا۔“ ان محاوروں کو جملوں میں استعمال کرنا ہوتا تھا اور اکثر غلطی کی صورت میں سزا بھی ملتی تھی۔ اگر میں آج سکول میں ہوتا تو شاید ان محاوروں کو جملوں میں اس طرح استعمال کرتا: جو تعلیمی نظام نصابی کتابوں کو پتھر پر لکیر سمجھتا ہے وہ درحقیقت لکیر کے فقیر پیدا کرتا ہے، ایسے افراد زندگی میں صرف لکیر پیٹنے کے قابل رہتے ہیں۔
میری مادری زبان ”وخی“ میں بھی لکیر سے متعلق کئی دلچسپ اظہارات موجود ہیں۔ جیسے کہ ”سکا کھو چرگ ہل“ جس کا مطلب ہے ”اپنی لکیر پر رہو“ یا ”اپنے حد میں رہو۔“ جب کوئی حد سے تجاوز کر جائے تو یہ محاورہ تنبیہ کے طور پر بولا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک اور اظہار ہے ”چرگ ار صوحب۔“ یعنی لے کر کے مالک یا نسل کو آگے بڑھانے والا نرینہ اولاد۔ یہ ایک لحاظ سے ایک پدرشاہی سوچ کا اظہار ہے۔ ایک گھر میں جتنی بھی بیٹیاں بھی پیدا ہو جائیں وہ لکیر کے مالک نہیں بن سکتیں، لیکن اگر ایک لڑکا پیدا ہو جائے چاہے وہ آوارہ ہی کیوں نہ ہو لکیر کا مالک بن جاتا ہے۔
انسان کی لکیر سے دلچسپی صرف زبان تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ انسان لکیر سے اتنا متاثر ہوا کہ اس سے متعلق ایک شعبہ علم بھی وجود میں لایا، یعنی جیومیٹری۔ جو کہ ہمارے جیسے کم فہم طالب علموں کے لیے فیل ہونے کا باعث بھی رہا ہے۔ جب ہم سکول میں ہوتے تھے تو ریاضی اردو زبان میں پڑھائی جاتی تھی۔ اس لئے جیومیٹری کے مسائل سے زیادہ مشکل اس کی زبان ہوتی تھی جو کہ عربی یا فارسی سے مستعار لی ہوئی تھی۔ مثال کے طور پر، لکیر کو ”خط“ کہا جاتا تھا، جو کہ ہمیشہ لکھے ہوئے خط سے غلط ملط ہوتا تھا۔ سیدھی لکیر کو خط مستقیم کہا جاتا تھا، جب تین لکیریں آپس میں ملیں تو تکون، چار ملیں تو مربع یا مستطیل، پانچ ملیں تو مخمس، چھ ملیں تو مسدس۔ سکول سے تو ایسے تیسے کر کے نکل گئے لیکن لکیروں کی یہ زبان آج تک سمجھ نہیں آئی۔
جب ریاضی کی کلاس میں لکیر کو ”خط“ کہا جاتا تھا تو میرا ذہن ہمیشہ لکھے ہوئے خط کی طرف جاتا تھا۔ کیونکہ خط سے میرا ایک خاص تعلق تھا۔ اس زمانے میں خط ڈاک کے ذریعے آتے تھے۔ اگر ہمارے نام کوئی خط ہوتا تو اس کا لفافہ کھولنا خط پڑھنے سے زیادہ خوبصورت احساس ہوتا تھا۔ لیکن بہت عرصہ تک یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ لکیر اور خط کے درمیان تعلق کیا ہے۔ کافی دیر بعد ان کے درمیان ایک تعلق پایا وہ یہ کہ ان کے اثرات ایک جیسے ہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے لکیر کھنچنے اور خط لکھنے والا کون ہے۔ خط کسی کو بچاتا ہے تو کسی کو لے ڈوبتا ہے۔ اگر خط کے اثرات کی مثال دیکھنا ہے تو قطری شہزادے کا خط، میموگیٹ یا سائفر سے بہترین مثال نہیں ہو سکتی۔ ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جہاں خطوط مختلف ہوتے وہاں ان اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں۔
انسان نے شاید سب سے پہلی لکیر زمین پر کھینچی ہوگی اور وہ بھی کسی طاقتور نے کھینچی ہوگی۔ جس سے میرا اور تیرا کا تصور وجود میں آیا۔ اور پھر لکیر کھنچنے کا یہ سلسلہ نہیں رکا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری دنیا اس وقت لکیروں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ انسان ان لکیروں کے لیے ہی پیدا ہوا ہے۔ کروڑوں افراد نے ان لکیروں کے لیے جان دی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
انسان نے نہ صرف جغرافیائی لکیریں کھنچی ہیں بلکہ کئی تصوراتی لکیروں کا وجود بھی عمل میں لایا ہے۔ جیسے معاشی لکیریں، سماجی لکیریں، جنسی لکیریں، ثقافتی لکیریں، نسلی لکیریں۔ لکیریں سب کے لیے یکساں ہیں ہوتیں۔ یہ طاقتور کے لیے کچھ اور معنی رکھتیں ہیں اور کمزوروں کے لیے کچھ اور۔ لکیریں عموماً طاقتور ہی کھنچتے ہیں اس لیے ان کو مختلف نام دیا جاتا ہے۔ جیسے سبز لکیر، زرد لکیر اور سرخ لیکر۔ ایک کمزور زرد لکیر تک قدم رکھ سکتا ہے لیکن اگر سرخ لکیر پر قدم رکھے تو طاقتوروں کی مفادات پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔
یہ ایک تجرباتی تحریر ہے، جس میں لکیروں اور سوچ کی لکیروں کی تعاقب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لئے اسے پتھر پر لکیر سمجھ کر کوئی ایک معنی نکالنا لکیر کے فقیر بننے کا مترادف ہو گا اور لکیر پیٹنے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا


