لائن میں لگو


تہذیب پنپنے کے ثمرات یا ہمارے نظام حکومت کا ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں عوام الناس کو بنیادی ترین مصنوعات و حقوق کے حصول کے لیے طویل لائنوں اور قطاروں میں لگا دینا اور بنیادی ترین حقوق و مصنوعات کے حصول کے لئے قائم طویل لائنیں و قطاریں ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ جیسے معاشرے میں تھکن زدہ اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جبکہ ترقی یافتہ و صف اول کے معاشرے قطاروں و لائنوں سے پاک و صاف معاشرے کی تشکیل بلکہ ہشاش بشاش اور صحت مند و توانا معاشرے کی تشکیل اور اقوام عالم میں ترقی کی دوڑ جیسے زبردست اشغال میں مشغول رہتے ہیں۔ ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں جنوبی پنجاب جیسے علاقوں میں ”راقم“ کے شہر ”خان پور“ اور پورے وطن عزیز کے تمام شہروں میں کم و بیش عوام الناس کو بنیادی ترین انسانی حقوق اور بنیادی ترین مصنوعات کے حصول کے لئے لائنوں اور طویل قطاروں میں لگانے کا تصور و عمل بہت مضبوط و راسخ ہو چکا ہے۔

صحت عامہ کے شعبہ کو دیکھیں عام آدمی بیماری کی صورت میں صحت جیسے بنیادی ترین حق کے حصول کے لیے پہلی ترجیح میں کسی سرکاری ہسپتال کے تگڑے ڈاکٹر کے نجی کلینک و نجی ہسپتال میں جانا چاہے گا، اس نجی کلینک میں پہنچتے ہی تگڑی فیس وصول کرتے ہی مریض کو جو کہ پہلے ہی بیماری جیسی تکلیف میں مبتلا ہے انتظار و کرب جیسی لائن میں لگا دیا جائے گا۔ اس دوران میں اگر موصوف ڈاکٹر یا ڈاکٹر کے عملے کا کوئی واقف یا معاشرے میں اثر و رسوخ رکھنے والا کوئی بھی مریض آ گیا تو تمام انتظار اور لائن میں لگے لوگوں کو بیماری کی حالت میں مزید کرب و انتظار جیسی طوالت کو برداشت کرنے ہو گا۔ مگر واقف یا طاقتور مریض لائنوں و قطاروں میں نہیں لگیں گے اور انتظار کی لائن میں لگے بغیر فوری علاج اور معالج کی سہولت سے مستفید ہوں گے۔ اگر تحصیل ہیڈ کوارٹر یا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میں دیکھا جائے تو ”او پی ڈی“ میں سر عام صحت عامہ کے بنیادی ترین حق کے حصول کے لئے خواتین، بزرگ، بچوں کو بیماری کی حالت میں لائنوں و قطاروں میں لگایا جاتا ہے۔

مشہور ترین بینکس جن میں جنتا اپنا سرمایہ رکھتی ہے اور اپنے ہی سرمایہ کے حصول کے لیے جب کبھی ان بینکوں میں جانے کا اتفاق ہو جائے تو یہاں پر بھی لائنوں و قطاروں کا تصور و وجود مضبوط و مربوط ترین صورت میں لاگو ہے۔ بلکہ بینکوں کے اسلحہ بردار گارڈز تو عام آدمی و عورت کو تو بہت اچھی اور طویل لائنوں و قطاروں میں لگاتے ہیں مگر یہاں پر بھی زیادہ بڑے اکاؤنٹ والے صاحب کا کوئی بندہ یا اثر و رسوخ والے کسی بھی صاحب کے لیے کوئی لائن یا قطار نہیں ہے بلکہ ان صاحب کا کام فوری اور ہنگامی بنیادوں پر کیا جائے گا جبکہ باقی عوام لائن و قطاروں کو مزین کریں گے۔

یوٹیلٹی بلز (گیس و بجلی) کی ادائیگی کے لئے بینکوں اور ڈاکخانہ کے اندر و باہر لگی طویل لائنیں اور قطاریں ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے شہریوں کو بنیادی ترین حقوق کی فراہمی کے بلز کی وصولی کے لئے وطن عزیز میں قائم ”لائن میں لگو“ کے نظام کو وضاحت کے ساتھ بیان کر رہا ہے۔

نادرا و پاسپورٹ آفس لائنوں، قطاروں حتی کہ دھکم پیل اور دھینگا مشتی کے معمول کے سب سے زیادہ ذہنی کوفت اور انتظار و توہین آمیز رویوں کے لئے مشہور ترین پبلک آفس ہیں۔ جہاں پر عوام الناس کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہیں وصول کرنے والے عوام الناس کو بنیادی ترین انسانی حق شناختی کارڈ، پاسپورٹ و ب فارم کے حصول کے لئے فیس وصول کر کے بھی طویل لائنوں اور قطاروں میں لگاتے ہیں۔ بلکہ سردیوں کی ایک یخ بستہ علی الصبح ابھی پو بھی نہیں پھٹی تھی اور ملگجے اندھیرے کا راج تھا راقم کو نادرا آفس ”خان پور“ سے گزرنے کا اتفاق ہوا تو لمبی لائنوں و طویل قطاروں میں مرد و زن افروزاں تھے۔ میرے استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ لائنوں اور قطاروں کا یہ سلسلہ تو رات سے ہی شروع ہو جاتا ہے کہ جو لائنوں اور قطاروں میں سب سے آگے ہوں گے ان کے نمبر پہلے آئیں گے، حالانکہ انتظار کی طوالت و کرب اتنا ہی ہو گا۔

رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں نگہبان راشن کے حصول کے لئے، یوٹیلٹی سٹورز کے باہر معمولی طور پر سستی مصنوعات کے حصول کے لیے لائنیں و قطاریں، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفاتر و رقوم کی منتقلی کے مقامات پر طویل لائنیں و قطاریں،

کاشت کاروں اور کسانوں کو گندم کو پالنے کے لیے پہلے یوریا کھاد کی خریداری کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والی لائنوں اور قطاروں میں لگانا اور پھر گندم تیار کر کے فروخت کرنے کے لیے بار دانہ کے حصول کے لیے پاسکو سنٹرز پر طویل لائنوں اور قطاروں میں لگانا، اناج اگانے جیسے مقدس عمل کی تذلیل و توہین ہے۔

ابھی وطن عزیز ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں اور بھی بہت سے قطاریں اور لائنیں ہیں جن کا تذکرہ اہم ہے مگر کالم کی طوالت اور ”لائن میں لگو“ کے تصور کو کمزور کرنے کے لئے ہی لکھا گیا کالم یا تجزیہ مزید طوالت کی ترویج کو فروغ نہیں دینا چاہے گا۔

اکیسویں صدی کے عصر حاضر میں جہاں ترقی یافتہ ممالک و معاشرے انسانی حقوق و انسانی ترقی کو ہی معیار بنا کر معاشرتی ترقی و معاشرتی اقدار کو دوام دیتے ہیں۔ ان ترقی یافتہ ممالک و معاشروں کی ترقی کا عالم یہ بھی ہے کہ شاید ان کے ہاں موجود جنگلی حیات و چرند پرند کو بھی لائنوں اور قطاروں میں لگانا معیوب اور جمہوری و ترقی یافتہ اصولوں اور تہذیب کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ وہیں ہمارے وطن عزیز میں بنیادی ترین انسانی حقوق کے حصول کے لیے موجود لائنوں و قطاروں میں لگے قیمتی ترین مخلوق ”انسان“ ہمارے وطن میں رائج نظام حکومت کی سنگین بے حسی اور عوام الناس و ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کو ترقی پذیر و پسماندہ رکھنے کی عکاس ہیں۔

حکومتوں، بیوروکریسی اور پبلک آفس ہولڈ کرنے والے پالیسی ساز اداروں کے افسران بالا کو لائن بنانے کے کلچر کو انتہائی مستعدی سے مسترد کرنا ہو گا، کیوں کہ ”لائن میں لگی“ وطن عزیز ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کی عوام الناس کے بنیادی جمہوری و عوامی حقوق کی تذلیل ہی معاشرے میں نفرت و تقسیم، انتشار اور باعث ہیجان و انتہا پسندی ہے۔ ان عمومی رویوں کے ذمہ داران بیوروکریسی، نجی شعبہ جات کے ذمہ داران اور حکومتی ایوانوں کو مجوزہ رویوں اور لائنوں میں لگانے جیسے افعال کو ٹھکرانا ہو گا اور اپنے انتظامی امور کو بہترین مقام تک لے کر جاتے ہوئے عوام الناس کو توقیر و عزت نفس جیسے حساس اور لطیف جذبات سے محروم کرنے کی بجائے عوام الناس کے قومی تشخص اور وقار کو بحال کرنے پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments