بلوچستان کی وادی ہربوئی جو خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے
ہربوئی بلوچستان کا ایک پہاڑی سلسلہ ہے یہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے چار گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے۔
ہربوئی سطح سمندر سے 9000 فٹ بلند ہے۔ اس وجہ سے یہاں موسم سرد رہتا ہے بلکہ گرمیوں میں ٹھنڈ ہوتی ہے۔ اس علاقے میں کالے اور بنجر پہاڑوں کا سلسلہ ہے۔
ہربوئی کا مطلع شدہ علاقہ ( 55,230 ایکڑ) جسے 1961 میں نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ لفظ ہربوئی ایک قدیم لفظ ہے بعض دانشوروں کے مطابق یہ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ”خوشبوؤں کا مجموعہ“
ہربوئی میں پہاڑوں کا مشرقی سلسلہ ہے۔ ہربوئی کا یہ پہاڑوں کا سلسلہ دشت کے علاقے ڈیغاری سے شروع ہو کر ضلع خضدار کے علاقے زہری تک ہے۔ اسے بروہی سلسلے کا ہربوئی سلسلہ کہا جاتا ہے۔
ہربوئی کی خوبصورت اپنی مثال آپ ہے یہاں صنوبر کے جنگلات پائے جاتے ہیں ہربوئی صنوبر کی جنگلات کی وجہ سے کافی مشہور ہیں صنوبر کی درختوں کو سب سے قدیم بڑھنے والی درختوں کے انواع میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ 3 ہزار سال سے زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ صنوبر بلوچستان کی دیگر علاقوں زیارت کوئٹہ اور مستونگ میں پائے جاتے ہیں۔
ہربوئی میں صنوبر کے درختوں کے علاوہ اور بھی درخت ہیں جو ہربوئی کے مقامی ہیں یہاں مختلف قسم کے جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔
ایک رائے کے مطابق یہاں پائے جانے والی جڑی بوٹیاں بلوچستان کے اور علاقوں کے نسبت بہت زیادہ ہے۔ ہربوئی میں تقریباً پانچ قدرتی ندیاں ہیں جو سارا سال بہتی رہتی ہیں۔
یہاں جنگلی جانور بھی پائے جاتے ہے۔ ہربوئی میں بلوچستان اور پاکستان کے مخلتف شہروں سے لوگ پکنک منانے کے لئے آتے ہیں۔
ہربوئی کا راستہ بھی بہت خوبصورت ہے۔ لیکن اس علاقے میں رہنے والے مقامی لوگوں کو حکومت کی طرف سے بنیادی ضروریات فراہم نہیں کی جاتیں لہذا وہ ایندھن، پناہ گاہ اور روزمرہ سہولت کے لیے یہ لکڑی استعمال کرتے ہیں اور جنگل کے وسائل کا استحصال کرتے ہیں۔


