اچھائی، برائی، ٹیکا اور ٹیکہ
تین اقوال ہیں جو عالمی شہرت یافتہ ہیں۔
پہلا شاید ابراہیم لنکن کا ہے کہ آپ سب لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔
دوسرا دیسی شیکسپیئر نے کہا تھا کہ رشتے میں تو ہم تمہارے باپ لگتے ہیں مگر نام ہمارا شیخ اذپیئر ہے۔
جبکہ تیسرا قول آپ کے بھائی کا ہے کہ تالاب میں رہتے ہوئے ڈڈو اور مگرمچھ سے کبھی پنگا نہ لیں۔
تینوں اقوال میں گہرائی ہے۔
یعنی بات تو گہری ہے پر ڈوب نہ جانا کون باہر نکالے گا؟
حضرات! دنیا میں رہنے کے دو طریقے ہائے کار ہیں۔ اول کہ آپ ہر کسی کو اچھا سمجھیں اور اسے اچھا ہی برتاؤ برتیں یہاں تک کہ وہ اپنا باولاپن دکھا دے۔ یہ رویہ کہلاتا ہے ”اچھائیت“ ۔
دوسرا اس کے الٹ ہے کہ آپ سب کو ابلیس کی اولاد کے طور برتیں۔ یعنی ”برائیت“ ۔ اچھائیت اچھی چیز ہے مگر اس میں دھکے بہت ملتے ہیں۔ معصومیت کی ایک نشانی یہ بھی کہ آپ اچھائیت کا شکار رہتے ہیں۔ خود مصنف نے بارہا اچھائیت کے چکر کتوں سے کٹوایا ہے اور چودہ چودہ ٹیکے لگوائے ہیں۔
مرشد شیخ اذپئیر یعنی شیخ ناشپاتی صاحب نے فرمایا ہے کہ
”ایسے بن جاؤ کہ اگر کتا تمھیں کاٹے تو چودہ ٹیکے اسے لگوانے پڑ جائیں“
مزید فرماتے ہیں کہ
”ٹیکے لگوانے سے ڈر نہیں لگتا حضور پشت برہنہ کرنے سے لگتا ہے“
ٹیکہ دو جملہ اقسام کا مانا جاتا ہے۔ ٹیکہ اور ٹیکا۔ ایک تو جو کہ روایتی برصغیری خواتین ماتھے پر لگاتی تھیں۔ مگر اب ہندو خواتین کا خاصا بن چکا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ والا ٹیکہ تو اب مملکت خداداد میں حرام ہے۔ اس کے حرام ہونے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ تقسیم ہند ہو چکی ہے۔ اور تقسیم کے بعد ”حضرت ٹیکہ“ دہلی کے اس پار رخصت ہو چکے ہیں۔ مسلمان خواتین کا ٹیکہ لگانے سے اسلام اور حیا دونوں پر حرف آتا ہے۔ ہم جو کہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے ہر اول دستے کے سوار ہیں، اس ٹیکے کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔
اس ٹیکے کی حرام ہونے کی زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ ایشوریہ رائے نے ”دیوداس“ نامی فلم میں ٹیکہ لگا رکھا تھا۔ اور خدا کی قسم قیامت ڈھا رہی تھی۔ ہم وقت سے پہلے قیامت کیسے اور کیوں کر آنے دیں۔ ٹیکہ ایشوریہ رائے لگاتی ہے اور دل میں درد سا ہمارے دل میں اٹھتا ہے۔ وہ جو ٹیکہ لگاتی ہے، تو ہمارا من کرتا کہ ہم بھی خود کو ٹیکا لگوا لیں درد دل کا۔ پاگل دل یہ شرط رکھ دیتا ہے کہ ٹیکا لگانے والی خاتون بھی ایشوریہ ہی ہو، ایک نرس کے روپ میں۔ وہ آئے اور ٹیکا لگا جائے۔ سیلاب تخیل میں یہ وہ مقام ہے جہاں ”ٹیکہ“ اور ”ٹیکا“ ایک ہو جاتے ہیں۔ کئی گانوں میں بھی ایشوریہ ٹیکہ استعمال کر چکی ہے، مگر ہم نے جس سے بھی اس کا ذکر کیا، اس نے یہی کہا،
”پیشانی پر تو میری نظر ہی نہیں گئی“
توبہ ہے، نامعلوم نظریں کہاں گھومتی رہتی ہیں۔ ان نظروں کو بھی دہلی کے اس پار بھیجنا پڑے گا۔
حضرات اچھائیت اور برائیت کے پیمانے لوگوں پر تو لگائے جا سکتے ہیں مگر اشیا، سوچ، ٹیکے اور ٹیکے پر ہرگز نہیں۔
یہ اور بات ہے کہ یہی ٹیکا کبھی کبھار ”کلنک کا ٹیکہ“ بھی ثابت ہوتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مملکت خداداد میں ٹیکہ ممنوع ہے۔ کلنک کے ٹیکے پر کوئی پابندی نہیں۔ اجی پابندی چھوڑئیے۔ کلنک کا ٹیکہ تو قابل فخر کاوش سمجھا جاتا تھا۔ لوگ کلنک کے ٹیکے سینے پر سجائے پھرتے ہیں۔ جس کے جتنے کلنک کے ٹیکے ہوں گے وہ اتنا ہی بڑا راہنما، وزیر، مشیر ہو گا۔ کلنک کا ٹیکہ فوری اور اچانک مشہوری کا بہترین طریقہ ہے۔
سوئی والا ٹیکا بھی ہمارے ہاں کافی پسند کیا جاتا ہے۔ اس قدر کے محاوراتی طور پر کسی کو لوٹ لینے یا چکر بازی کرنے کو بھی ”ٹیکا لگانا“ ہی کہتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ
”فلانے ٹھیکے دار نے سڑک بنانے میں سرکاری خزانے کو خوب ٹیکا لگایا۔“
ایسے ٹھیکے داروں کو بار بار ٹھیکے ملتے ہیں۔ کیونکہ یہ ٹھیکے دار بھی ہوتے ہیں اور ڈاکٹر بھی۔
ڈاکٹر کا کمال یہ ہے کہ وہ اصلی والا ٹیکا بھی لگاتے ہیں اور محاوراتی بھی۔
اپنے ہاں ٹیکے کا اتنا رواج ہے کہ اکثر پلوں کے نیچے ایک ہی ٹیکے سے کئی حضرات مستفید ہو رہے ہوتے ہیں۔ ٹیکا لگایا اور اقبال کے شاہین بن کے محو پرواز ہو گئے۔ یعنی ”ٹیکا لگے پھر مزے ہی مزے۔“
مشرقی روایت ہے کہ خواتین کو دھوپ نہ لگے۔ وہ کون سا کپڑا ہیں کی جسے دھوپ لگوانی پڑے۔ جسمانی ورزش بھی دہلی کے اس پار ہجرت کر چکی ہے۔ اپنے ہاں خواتین کی ورزش کو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے۔ اور کردار پہ آنچ آتی ہے۔ اسی لیے تیسری دہائی کے بعد 90 فیصد خواتین وٹامن ڈی کی کمی کے باعث جسمانی دردوں کا شکار ہو چکی ہوتی ہیں۔ تمام خواتین بھی ٹیکے کی شیدائی ہوتی ہیں۔ اکثر پانی کی بوتل اور ٹیکا لگوانے کے بعد ہی آرام نصیب ہوتا ہے، خاتون کو بھی اور گھر والوں کو بھی۔ یعنی
”ٹیکا لگے پھر مزے ہی مزے!“
تو حضرات! ٹیکا اور ٹیکہ، دونوں کو اچھائیت اور برائیت سے بری کر دیں۔ اور فلسفہ جات انسانوں پے لاگو کریں۔ شغل یہ لگا پڑا ہے کہ یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ کوئی گنگا کو پوچھے سو عرض ہے کہ ”اچھائیت“ عمدہ ہے مگر اس کا نقصان یہ ہے کہ بندہ بار بار ٹھوکریں کھاتا ہے۔ اور آخر کار اڈیالہ جیل پہنچ جاتا ہے۔
اس کے الٹ ”برائیت“ ہے۔ یعنی ہر شخص ذاتی زندگی میں جیسا بھی ہے، آپ کا بہر حال برا ہی چاہے گا۔ اپنا مطلب نکالنے کے لیے آپ کا نقصان خود کر دے گا۔ مصنف کی دانست میں برائیت زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ ہے۔ وقت گزرنے پر جو لوگ آپ کے ساتھ مخلص ہوں گے یا کم از کم نیت کے صاف یعنی ”صافی“ ہوں گے وہ آپ کے حلقہ احباب میں آ جائیں گے اور باقی ماندہ نقصان پہنچائے بغیر ہی دفعہ دور رہیں گے۔ برائیت پے یقین رکھنے والے لوگ زیادہ کامیاب نہیں۔ اگر آپ ”برائیتی“ ہیں تو کتے کو دور سے دیکھ کے ہی پتھر اٹھا لیں گے، کیونکہ آپ جانتے ہیں کتا ہے کاٹے گا۔
حضرات آپ کا ایمان اچھائیت پہ ہو یا برائیت پہ یہ بہر حال یاد رکھیں کہ تالاب میں رہتے ہوئے ڈڈو اور مگرمچھ سے پنگا نہ لیں مگر مچھ آپ کی گردن دبوچے گا تو آپ بھی اس کی گردن دبوچ سکتے ہیں۔ لیکن ڈڈو دم پر حملہ کرتا ہے دم پر حملے کا علاج شیر کے پاس بھی نہیں ہے۔ تبھی مصنف فرماتے ہیں کہ بات تو گہری ہے پر ڈوب نہ جانا کون نکالے گا؟
آخر میں عرض کروں گا کہ آغاز میں ایک قول کا ذکر کیا تھا ابراہیم لنکن صاحب کا کہ ”آپ سب لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بیوقوف نہیں بنا سکتے“ تاریخی طور پر یہ قول ہر جگہ درست ثابت ہوا۔ صرف ایک جگہ یہ قول غلط ثابت ہوا اور وہ جگہ ہے ”مملکت پاکستان“ ۔ یہاں آپ سب لوگوں کو ہمیشہ کے لئے بیوقوف بنا سکتے ہیں۔


