صحت و تندرستی کے لیے فری ٹانک


جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں جاپان دنیا کا استاد ہے۔ بلٹ ٹرین ٹیکنالوجی 1964 سے جاپان میں فعال ہے اور اس میں مسلسل حیران کن ترقی جاری ہے۔ اس طرح مصنوعی ذہانت صنعتی و میڈیکل کے شعبے میں انسانوں کی جگہ لے رہی ہے۔ نت نئے آلات اور مشینی جادوگری کے تیز ترین دور میں بھی جاپانی قوم نے ایک انتہائی مفید قدیم ترین صحت و تندرستی کو قائم رکھنے والے نسخے کو اپنی زندگی سے خارج نہیں کیا۔ اس انمول نسخے کو اپنانے کے لیے سرمایہ خرچ کرنا پڑتا ہے نہ جنگلوں میں بھٹک کر جڑی بوٹیاں جمع کرنی پڑتی ہیں۔ اس نسخے کے کو زندگی کا جز بنانے کے لیے کسی ڈاکٹر کسی ماہر کی بھی حاجت نہیں ہے۔ صحت و تندرستی کو بحال رکھنے کے لیے سیر کرنا بہترین نسخہ ہے۔

ہم غریب قوم جاپانیوں سے بلٹ ٹرین نہیں خرید سکتے۔ ہم ان سے جدید ترین روبوٹ ٹیکنالوجی حاصل نہیں کر سکتے

جاپان کے پاس دنیا کی انتہائی برق رفتار ٹرینیں اور دیگر جدید ترین ذرائع آمدو رفت ہیں لیکن جاپانی کلچر میں صبح و شام کی سیر آج تک زندہ ہے۔ جاپانی قوم نے پیدل چلنے کو اپنی لائف سے بے دخل نہیں کیا۔ اس لیے سب سے زیادہ عمر دراز لوگ جاپان میں موجود ہیں۔ جاپان میں نوے سو سو سال کے معمر حضرات روز لمبی لمبی واکیں کرتے ہیں۔ اس قوم نے صبح و شام کی سیر کو نہیں چھوڑا اور پیدل چلنا ترک نہیں کیا اس وجہ سے یہ ملک طویل عمر پانے والوں کا خطہ بن گیا۔ بے شک جاپانیوں کی طویل عمری کے پیچھے دیگر عوامل بھی کار فرما ہیں لیکن سب سے بنیادی عمل سیر سے محبت ہے۔ جو قومیں پاؤں کو گرم اور دماغ کو ٹھنڈا رکھتی ہیں، اجتماعی و انفرادی سطح پر ترقی کا باعث بنتی ہیں۔ اگر اس ترقی کے فارمولے کو الٹا دیا جائے یعنی پاؤں کو سرد اور دماغ کو گرم رکھا جائے تو وہی ہو گا جو ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے۔ ہم نے اپنی غفلت کی وجہ سے نئی نسل کو اس قدر سست و کاہل بنا دیا ہے کہ کچھ فاصلے پر واقع پرچون کی دکان سے سودا سلف لانے کے لیے بھی ہمارے بچے موٹر سائیکل کے محتاج ہیں۔ انہیں واک کرنا ایک فضول اور بلاوجہ کی محنت لگتا ہے۔ ہم بچوں میں واک کی عادت کو پختہ کرنے کی بجائے کیا کرتے ہیں کہ جب بچے کی ٹانگیں ذرا لمبی ہوتی ہیں تو ہم اسے واک جیسی سخت محنت سے پرہیز کروانے کے لیے اس کے سامنے موٹر سائیکل کا تحفہ رکھ دیتے ہیں یعنی واک تو دور کنار، اب ہم سائیکل جیسی کار آمد سواری کو بھی خارج کرتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے شاہی مزاج کی وجہ سے فضول پٹرول پھونکتے ہیں اور پھر سارا دن مہنگائی کا رونا روتے ہیں۔ ڈنمارک خوشحال ترین لوگوں کا ملک ہے لیکن خوشحالی و سرمائے کے باوجود وہ سائیکل کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں۔ صبح و شام کے اوقات میں ڈنمارک کی سڑکیں سائیکلوں سے بھری نظر آتی ہیں۔ پاکستان میں، سائیکل سواری کو غریب کی سواری سمجھا جاتا ہے لیکن سائیکل سمجھ دار آدمی کی سواری ہے۔ ہمیں اپنی صحت اور بچت سے زیادہ اپنی ناک عزیز ہوتی ہے۔ کیا آپ نے پاکستان میں کسی امیر کو آفس آنے جانے کے لیے سائیکل استعمال کرتے دیکھا۔ ہے؟ امیر تو جانے دیں آج کل کو غریب بھی سائیکل سواری کو اپنی توہین سمجھتا ہے۔ اگر کہو کہ واک اور سائیکل سواری سے وقت ضائع ہوتا ہے تو یہ سب سے بڑا لطیفہ ہے کیونکہ جاپان اور ڈنمارک نے واک اور سائیکل کی سواری کو زندہ رکھتے ہوئے ہی ترقیاں کی ہیں۔

قدرت نے واک کو ذہنی سکون و وسعت اور سٹریس و ڈپریشن سے نجات کا ایک مضبوط آلہ بنایا ہے۔ روزانہ واک کرنے سے آپ میں توجہ قائم رکھنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔

واک پر ہونے والی ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ واک کی عادت سے ذہنی آسودگی کے ساتھ ساتھ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور یاداشت کی قوت بھی بڑھتی ہے۔ واک کرنے سے ایسے نیورو ٹرانسر میٹر پیدا ہوتے ہیں جو ہمارے مزاج کو خوشگوار بنا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ واک سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، دل اور باقی اعضاء کو تقویت پہنچتی ہے۔ واک بہت سی بیماریوں جیسے شوگر، بلڈ پریشر وغیرہ میں افاقے اور کمی کا باعث بنتی ہے۔ واک ذہن اور جسم کے لیے ٹانک ہے اور یہ ٹانک خریدنے کے لیے کسی سرمائے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم جاپان سے بلٹ ٹرین نہیں خرید سکتے، روبوٹ ٹیکنا لوجی نہیں سیکھ سکتے۔ لیکن واک جیسا فری ٹانک کو اپنی زندگی میں رائج تو کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS