کراچی میں ایک دوست کے نام دہلی سے مکتوب


کراچی میں مقیم اپنے دوست رضوان طاہر مبین کے ایک خط کا جواب جو انھیں چار سال قبل لکھا گیا تھا۔ اس میں چونکہ امن سے محبت اور جنگ سے نفرت کی بات کہی گئی ہے اس لیے اس خط کو افادہ عام کے لیے شائع کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے پڑھ سکیں، یوں بھی لکھنے والے کے قلم سے کوئی چیز نکل جاتی ہے تو پھر وہ اس کی اپنی ملکیت نہیں رہ جاتی بلکہ بلکہ پڑھنے والوں کا حق ہوتا ہے۔ سو آپ کے سپرد ہے۔

٭٭٭      ٭٭٭

پیارے رضوان طاہر مبین!

فل اسکیپ کے تقریباً چار صفحات پر مشتمل تمہارا تفصیلی خط مجھے پرسوں ملا، تم نے جس پتہ پر بھیجا تھا وہ تو بالکل درست تھا اور اسی پتہ پر میرے ڈاک آتے ہیں لیکن یہ خط وہاں تک نہیں پہنچا بلکہ ڈاکیہ نے یہ جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں دے دیا، وہاں سے مجھے فون آیا کہ آپ کے نام ڈاک ہے، یقین جانو ویسے ہی بے چینی ہوئی جب ہاسٹل میں ہوتا تھا اور کسی رشتہ دار، دوست، احباب یا پھر ابا کے خط کا انتظار رہتا تھا اور ڈاکیہ کو دیکھتے ہی اس کی جانب قدم بڑھ جاتے تھے اور بے اختیار اس سے یہ پوچھے بنا نہیں رہتے تھے کہ میرے نام کچھ ہے کیا؟

ہمارے ہاسٹل میں اسرائیل نام کے ایک چپراسی ہوا کرتے تھے جو وہ کمرے کمرے جاکر طلبا کے خطوط دیتے تھے۔ اسرائیل صاحب کو دیکھتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔ چونکہ ہم گھر سے بہت دور تھے، فون تو ہفتے یا مہینے میں ایک دو مرتبہ ہی کوئی کوئی کرتا تھا وہ بھی چند منٹ کی باتیں بھی نہ ہو پاتی تھیں کہ فون کٹ جاتا تھا۔ خط میں دنیا جہان کی چیزیں ہوتی تھیں۔ آج فلاں پھپھو کا انتقال ہو گیا، گاؤں کے فلاں صاحب نہیں رہے۔ میرے ایک استاد ہوا کرتے تھے، مولانا انعام اللہ رحمت ندوی، وہ اکثر ایسے ہی خطوط لکھتے تھے اور میں خط پڑھ کر آبدیدہ دیر تلک اداس بیٹھا رہتا تھا۔

خیر! جیسے ہی مجھے تمہارے خط کی اطلاع ملی لپک کر وہاں پہنچا اور لفافہ ہاتھوں میں لیتے ہی ایک سانس میں تمہارا خط پڑھ ڈالا، اور پھر ایک مرتبہ نہیں کئی بار پڑھا، تم نے جس جذبہ کے ساتھ خط لکھا تھا وہی جذبہ میں نے محسوس کیا یا نہیں یہ تو میں دعویٰ نہیں کر سکتا، لیکن خط پڑھتے ہوئے میں اپنے آنسوؤں کو ضبط نہیں کر سکا۔ ادھر گزشتہ کئی دنوں سے فیس بک نے مجھے بلاک کیا ہوا ہے اس وجہ سے تمہیں وقت پر جواب کیا، خط ملنے کی رسید بھی نہیں دے سکا اس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔

یار تمہارا یہ خط کیا ہے ہجرت اور پیچھے چھوڑ جانے والوں کا نوحہ ہے، اسی درد کا قصہ جو برسوں ہمارے پرکھوں نے جھیلا تھا اور اب بھی دونوں جانب اس کو بہت سے لوگ جھیل رہے ہیں۔ یہ کتنی عجیب بات ہے نا کہ ایک صدی مکمل ہونے کو ہے اور ابھی بھی سرحد کے دونوں جانب ہجر کے مارے لوگ ایک دوسرے کے لئے تڑپ رہے ہیں، ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے ترس رہے ہیں، کیا عالم ارواح میں روحیں بھی ایسے ہی تڑپ رہی ہوں گی؟

موت کے بعد کا قصہ کون جانتا ہے، یہاں تو ہم زندگی میں ہی موت دیکھ رہے ہیں اور یہ سب کچھ صرف چند لوگوں کی ہٹ دھرمی اور شدت پسندی کی وجہ سے ہو رہا ہے، کہتے ہیں کائنات میں محبت کی کمی ہے محبت بانٹو، لیکن بہت لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتی۔ انھیں تو بس نفرت کی سوداگری کرنی ہے، اسی سے ان کی روزی روٹی چلتی ہے سو اس دنیا میں یہ کارو بار بھی خوب دھڑلے سے چل رہا ہے بک رہا ہے۔

لوگوں نے جنگوں کی ہولناکی دیکھی ہے لیکن اس سے عبرت نہیں پکڑ رہے ہیں، دیکھو نا دونوں جانب اب بھی لوگ جنگ کی بات کرتے ہیں، یقین جانو میں تڑپ اٹھتا ہوں جب جنگ و جدل کی بات ہوتی ہے۔ جنگ مسئلہ کا حل پہلے بھی نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے۔ اس میں تو صرف نقصان ہوتا ہے۔ بر صغیر نے برطانیہ سے آزادی حاصل کرلی مگر اس آزادی کی بڑی قیمت چکانی پڑی اور پورے خطے کو تقسیم کے اذیت ناک مرحلے سے گزرنا پڑا، تقسیم کے دوران خوف و ہراس اور خاک و خون کے طوفان میں اپنے چھ لاکھ بیٹوں اور بیٹیوں کو قتل ہوتے ہوئے اور تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کو نقل مکانی کرتے ہوئے دیکھنا پڑا۔

ان واقعات اور حالات کی روداد تم نے بھی کتابوں میں پڑھی ہوگی اور میں نے بھی پڑھی ہے۔ یقیناً اس کی روداد اتنی تکلیف دہ اور مضطرب کردینے والی ہے کہ ان کے خیال سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عرصہ ہوا میں نے کہیں پڑھا تھا صرف آزادی کے بعد لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں اور 72 لاکھ مسلمان تقسیم کے وقت ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے جب کہ 1941ء سے 1951ء تک پاکستان کے علاقوں سے ہندوستان آنے والے ہندؤوں اور سکھوں کی تعداد 45 لاکھ چالیس ہزار تھی۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جس بحران سے ہندوستانی مسلمانوں کو 1947ء میں گزرنا پڑا وہ چند باتوں کے لحاظ سے 1857ء کے بحران سے کم، مگر مجموعی طور پر اس سے کہیں زیادہ سخت ثابت ہوا۔ 1857ء میں سلطنت مغلیہ کے آخری تاج دار کے اٹھ جانے سے ہندوستان خصوصاً شمالی ہند کے مسلمانوں کی دنیا تاریک ہو گئی۔

 

تقسیم ہند کے بعد بظاہر مسلمانوں پر جو مصیبت گزری تھی وہ آبادی کے تبادلہ کے دوران دہلی، پنجاب اور ایک حد تک بنگال و بہار میں محدود رہی۔ اس کے مقابلہ میں انہیں ہندوستان اور پاکستان میں آزادی کی دولت، جس کے لئے وہ سو سال سے جدوجہد کر رہے تھے، مل گئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو 1857ء سے کہیں زیادہ ابتلا و آزمائش کا سامنا 1947ء کے بعد کے برسوں میں کرنا پڑا۔ یہ سب بہت سے مسلمانوں کے لئے بڑی روحانی اذیت کا سبب تھا جس نے ان کے دلوں کو خود اپنے عزیزوں کے لٹنے اور مارے جانے سے بھی زیادہ دکھ دیا تھا۔ سید عابد حسین کے الفاظ میں :

” لاکھوں سکھوں اور ہندؤوں کو جو مغربی اور مشرقی پاکستان سے لٹ پٹ کر آئے تھے آوارہ بے خانماں، خراب و خستہ، حیران و پریشان دیکھنا پڑا اور یہ کڑوے اور دلخراش الفاظ سننے پڑے۔ سب کچھ مسلمانوں کے ہاتھوں گزرا۔ اسلام نے مسلمانوں کو یہ سکھایا تھا کہ اس کے لئے محرومی مظلومی سے بھی زیادہ شرم و ذلت کی بات یہ ہے کہ وہ یا اس کا کوئی برادر ایمانی ناانصافی اور ظلم کا مرتکب ہو، پاکستان سے آئے ہوئے پناہ گزینوں میں نفرت اور انتقام کے شعلے اور پرانے غیر مسلم ہمسایوں کی نظروں میں ملامت اور شبہ کی چنگاریاں ہندوستانی مسلمانوں کے دل میں ایک عجیب و غریب کیفیت پیدا کرتی تھیں۔ ایک طرف اس نا انصافی کا صدمہ کہ دوسرے کے فعل کا ذمہ دار خواہ مخواہ مسلمانوں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ دوسری طرف اس تلخ حقیقت کا احساس کہ دار مکافات میں انسان کو اپنے بھائیوں کے کرتوت کی سزا بھی بھگتنی پڑتی ہے۔ پھر خود ملک کی تقسیم نے جو پاکستان کے حامی اور مخالف دونوں طرح کے مسلمانوں کے لئے ایک بلائے ناگہانی بن کر نازل ہوئی تھی، ان کے دلوں کو غم و غصہ سے بھر دیا تھا۔ پاکستان کے مخالف جن میں زیادہ تر علما اور عوام اور کچھ متوسط طبقے کے قوم پرور تھے، اپنی بے بسی پر جھنجھلائے ہوئے تھے کہ وہ تقسیم کو، جو ان کے لئے مہلک تھی، کسی طرح نہ روک سکے۔ پاکستان کے مطالبے کی حمایت کرنے والے جو پاکستان نہیں جا سکتے تھے یا نہیں جانا چاہتے تھے، اپنی حماقت پر پچھتاتے تھے کہ انہوں نے کیوں اپنے لیڈروں پر اعتبار کیا جنہوں نے بدنیتی اور ناواقفیت کی بنا پر ان کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان کا نعرہ محض ایک دھمکی ہے۔ در اصل اس کا دباؤ ڈال کر مسلم لیگ مسلمانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ مخصوص حقوق اور طاقتیں حاصل کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان دل خوش حکمت عملی کی جگہ ایک ناگوار حقیقت بن گیا تھا۔ وہ چھوٹے بڑے لیڈر جنہوں نے ان کو دھوکہ دیا تھا، خود دھوکہ کھایا تھا، پاکستان جا کر جاہ و منصب کے ٹکڑوں کے لئے لڑ رہے تھے اور انہیں پاکستان کی قیمت ادا کرنے کے لئے ہندوستان میں چھوڑ گئے تھے۔ یہ قیمت ہندوستان کے خصوصاً شمالی ہند کے مسلمانوں کو صرف روحانی کوفت اور ذہنی کرب کی صورت میں نہیں بلکہ معاشی تباہی اور تعلیمی و تہذیبی پسماندگی کی صورت میں بھی ادا کرنی پڑی۔“ ( 216۔ 215 سید عابد حسین، ہندوستانی مسلمان آئینہ ایام میں، مکتبہ جامعہ، 1991ء، ص)

بلاشبہ ایسے واقعات انقلاب کا ذریعہ ہوتے ہیں اور ان سے عزم و ہمت اور ایک نیا جہان پیدا کرنے کا ولولہ ملتا ہے، مگر ایسا لگتا ہے کہ بر صغیر نے ان سب سے کچھ نہیں سیکھا۔ دونوں ممالک اپنی آزادی سے لے کر اب تک چار جنگیں لڑ چکے ہیں ( 1947۔ 1948، 1965، 1971 اور 1999 ) اور گزشتہ ساٹھ ستر برسوں کے دوران بہت سے بحرانوں کا سامنا کر چکے ہیں جو انہیں جنگ کے قریب لے آئے ہیں۔ اب بھی جنگ کا ماحول بنا ہوا ہے۔ دونوں جانب میڈیا اور سیاست دانوں کی توتکار سے ایسا لگتا ہے کہ آج ہی پھر سے لڑائی شروع ہو جائے گی۔ اب جنگ نہیں چاہیے۔ بہت ہو گیا بھائی، بس اب تو محبت کو عام کرنا چاہیے۔ کاش ہم اس میں کچھ حصہ ڈال سکتے، کوئی امن کی دیوی آتی اور سرحد کے دونوں جانب ایسا نغمہ گاتی کہ اس کے سر سے پھٹے ہوئے دل جڑ جاتے، نفرت کی دیواریں منہدم ہو جاتیں، انسانیت اور بھائی چارہ کا ماحول بپا ہوجاتا، خوش گوار ماحول ہوتا، پیار کے نغمے ہوتے، امن اور سکون ہوتا۔

خط میں تم نے ہجرت کی ہولناکی اور کسک کو بیان کیا ہے اور تمہارا خط پڑھتے ہوئے میں تاریخ کے انھیں اوراق میں کھو گیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے بر صغیر میں ایک مرتبہ پھر کچھ لوگ اچھے خاصے پرامن خطے کو آگ میں جھونکنے کے در پے ہیں۔ ایسے ایسے قانون لائے جا رہے ہیں جس سے شہری پریشان ہیں، لوگوں میں بے چینی اور ہراس ہے، کچھ لوگوں کو اسی میں مزا آتا ہے، لیکن بے چین کرنے والے ایک دن خود ہی چین کی دہائی دیں گے، بے چینی ضرور تھمے گی۔ ہمیں امید ہے، آج نہیں تو کل سہی بدلے گا یہ دور اور آئے گا امن کا پیام۔

اتفاق دیکھو تمہارا خط آج ملا ہے جس میں تم نے اپنی دادی کے درد کا قصہ بیان کیا ہے اور یہاں دلی کے شاہین باغ ہی کیا پورے ہندوستان میں میں تمہاری دادی ہی طرح ہماری دادیاں کسی ایسے ہی خوف اور اندیشے سے جس میں انھیں کسی اور سرزمین کی ہجرت نہ کرنی پڑ جائے ہڑتال پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ ان کے اس ہڑتال کو اب تقریباً دو ماہ ہونے کو ہیں لیکن حکومت کے کسی کارندے کو توفیق نہیں ہوئی ہے کہ ان کی سدھ لے لے۔

تم نے اپنی نانی اور دادی کا کیا قصہ نہیں چھیڑا ہے بلکہ آنسوؤں اور آہوں کا ریلا چھوڑا ہے، جس کی کسک اور درد کو میں محسوس کر سکتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے تم نے اس خط میں اپنی دادی اور نانی کی آنسوؤں کے ساتھ ساتھ اپنے آنسوؤں کا بھی دریا بہا دیا ہے جو تھمنے کا نام نہیں لیتے، یقین جانو تمہارا خط پڑھتے ہوئے میں بھی روئے بغیر نہیں رہ سکا، میں تو ایسے ہی کچھ زیادہ جذباتی ہوں، کسی بچے کو بھی روتا دیکھوں تو تڑپ اٹھتا ہوں اور تم تو خیر میرے یار ہو، میری جان اور میرا بچھڑا ہوا بھائی۔

مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ میں تمہارے خط کا کیا جواب لکھوں، تم نے خط کے ذریعے جس محبت اور اپنائیت کا اظہار کیا ہے اس پر کچھ نہ لکھنا بھی خود غرضی اور لاپرواہی کے زمرے میں آئے گا اس لئے یہ خط لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔ یقین جانو میں تمہارے خط کا جواب نہیں دے رہا ہوں، تم نے جس محبت اور اپنائیت کا اظہار کیا ہے میں اپنے چند کھوکھلے الفاظ کے ذریعے بھلا اس کا کیا جواب دے سکوں گا۔

تم نے خط کے ساتھ جو اخبار بھیجا ہے میں نے اس کو بار بار پڑھا ہے، یقین جانو کوئی فرق نظر نہیں آیا، وہی کرپشن، وہی بد عنوانی، وہی رشوت ستانی، وہی چوری چکاری جو یہاں کے اخباروں میں ہوتا ہے، مجھے لگا ہی نہیں کہ میں کسی اور دیش کے اخبار کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ ہاں! تمہارے یہاں کے اخبار کو دیکھ کر ایک بات تو بہت شدت سے محسوس کیا کہ تمہارے یہاں کی صحافت میں ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ شدت پسندی اور ہندوستان کے تئیں نفرت ہے۔ کم از کم یہاں کے اردو اخبارات میں پاکستان کے تئیں ایسے کریہہ الفاظ کا استعمال نہیں ہوتا جو تمہارے یہاں ہوتا ہے، یہاں کے بعض ہندی اخبارات پاکستان کے بارے میں اس طرح کی زبان ضرور استعمال کرتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے یہ انتہا پسندی دونوں ہی جانب ہے۔ حالانکہ انگریزی میڈیا میں دونوں ہی جانب اتنا گھٹیا پن نہیں ہوتا، کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کیا ہی بہتر ہوتا کہ دونوں جانب کی میڈیا امن و محبت والی خبریں بھی چھاپتے، دلوں کو توڑنے نہیں بلکہ جوڑنے والی خبریں دیتے، لیکن شاید اس سے دونوں کی دکانداری بند ہو جائے۔

خط میں تم نے مکان اور مکین کی بات چھیڑ کر مجھے بہت دور پہنچا دیا ہے جس میں احساسات تو ہیں لیکن اس کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ اب اسے کیا کہوں ہمارے پرکھوں کی غلطی یا مشیت الٰہی کا کرشمہ کہ بٹوارہ ہوا اور ہم جیسے نہ جانے کتنی آنکھوں نے محبتوں کے انمٹ نقوش کو دیکھنے، چھونے اور پانے سے قاصر رہے۔ میں نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے، تم نے بھی لکھا ہے، پرانی باتیں دہرانے سے فائدہ بھی کیا ہے اس لئے میں اسی بات کو بار بار نہیں دہراؤں گا کہ مبادا تم بور ہو جاؤ اور کہو کہ میں بھی کیا پرانے قصے لے کر بیٹھ گیا۔ لیکن رضوان یہ حقیقت ہے کہ اگر بٹوارہ نہ ہوا ہوتا تو شاید سرحد کی دونوں جانب سیاست کی یہ حالت نہ ہوتی کچھ تو بالغ نظری کی باتیں ہوتیں، کچھ تو ترقی کی باتیں ہوتیں، چیک اینڈ بیلنس بھی رہتا، خیر جانے دو ان سب کو، بات کہاں سے کہاں پہنچ رہی ہے، ابھی کچھ کہوں گا تو پھر وہی چبی چبائی باتیں شروع ہو جائیں گی جو برسوں سے لوگ کہتے اور سناتے آ رہے ہیں اس لیے اسے یہیں دفن کرو، آؤ مل کر دعا کرتے ہیں امن کی، خوشحالی کی، محبت کی، کیا پتہ خدا سن لے۔

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 174 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah

1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments