ایک ادبی میلے کی روداد

اس دفعہ بڑے عرصے بعد ایک ادبی میلے میں چلے گئے۔ ہماری ایک دوست ہیں بڑی اچھی افسانہ نگار، ان کا افسانہ سننے کے لیے۔ لیکن اس سے پہلے بہت سے مرحلوں سے گزرنا پڑنا۔
پہلے مرحلے میں سب دیے گئے ہوئے موضوع سے ہٹے ہوئے تھے۔ بہت سارا وقت اپنے مربی کے قصیدوں میں بتا دیتے، جو تھوڑا بچتا، وہ اپنی تعریفوں کی نذر کر دیتے۔
گفتگو بڑی جذباتی ہو رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہنسی کوئی بیتی ہوئی صدیوں کی بات لگنے لگی۔ ان دنوں ہماری پھول گاؤں کے مولوی صاحب سے کچھ ان بن ہو گئی ہے اور ہم پر ڈائس سے اور اپنے موبائل سے سطحی سی جذباتیت کی گولہ باری شروع ہو گئی۔
ڈائس: کلیوں کی پامالی پہ چہکتے الو دیکھ کر میں نے دانت بھینچ کر کہا، دنیا تو کتنی ظالم ہے۔
موبائل: اچھلتے ہوئے مینڈھوں کی قسم، تمھاری دوستی کے جہنم میں مزید نہیں جل سکتا۔
ڈائس:نچے ہوئے پر دیکھ کر میں رونے ہی لگی تھی کہ لوڈ شیڈنگ ہو گئی اور اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں درندوں کی کردار کی سیاہی نے میرے آنسو خشک کر دیے۔
موبائل: تمھارے بدنما رویوں کے گھبرا کر میں رکشے پر اپنے حقیقی دوست سے ملنے کینیڈا جا رہا ہوں۔ اکیلے، تن تنہا، ایک ایسے ملک میں جہاں رکشے بھی پرخلوص ہوتے ہیں۔
ڈائس: دوپہر ایک خوانچہ فروش لڑکی جس کے آنسو تھمتے ہی نہیں۔
اس کے بعد ہم کچھ بوکھلا سے گئے اور ادبی کارروائی پر کچھ خاص توجہ نہیں دے سکے اور کچھ فارم بھی کھو بیٹھے۔ لیکن پھر کچھ آوازیں کانوں میں پڑتی رہیں اور کچھ شکلیں دیکھتے رہے۔
یہ کون ہے؟
پتا نہیں، مگر ایک فنکشن میں چار دفعہ کپڑے بدل چکی ہے۔
اور یہ کون پیرس میں سارتر اور سیمون کے مزار پر جھاڑو پھیرنے گئی تھیں اور اس موضوع پر انھوں نے ایک طویل نظم بھی لکھی تھی۔ اور یہ نظم تین زبانوں میں تھی، کچھ انگریزی، کچھ اردو اور بہت سی غمازی۔ سیمون تو کچھ اچھی ہیں مگر سارتر کا تو آپ کو پتا ہی ہے کہ وجود کے پکے اظہار کی راہوں میں تعفن بہت پھیلاتے ہیں۔
دیکھیں، انھوں نے الٹیوں کے ساتھ کتنی رومانویت جوڑ لی ہے۔
بہرحال ہم کچھ الجھے الجھے ہی رہے اور اس سمیت کسی بھی سیشن پر کچھ خاص توجہ نہیں دے سکے۔
اگلے سیشن میں لوٹے تو مربی کے افسانوں پر گفتگو ہو رہی تھی۔
یہ جو گھوڑا ہے، یہ ذوالجناح کی علامت ہے۔ ہم ہیں کہ بلا جویان دشت کربلائی کے ماتمی ہیں، وہیں حضرت کو سلام کرنے لگے تھے کہ گھوڑا ہنہناتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ اب وہ گھوڑا مربی کے پر شکوہ خیالات کی علامت تھا۔ پھر تو اس گھوڑے پر وہ فیشن ڈیزائینگ ہوئی کہ گھوڑے کے سموں سے ریشم و دیبا کا فروغ ہونے لگا اور اس کی ہنہناہٹ سے وہ نغمے بر آمد ہوئے کہ امیر خسرو بھی یہی کہتے
مجھے گھوڑے کے رنگ میں رنگ دے نجام یا اسپ من بیا،
یا
جس کوہ پہ تم ہانپتے ہو
میرا دلدار دوڑا
اے سکھی ساجن
نا سکھی گھوڑا
وقفہ ہوا تو
سنا ہے آپ بھی لکھتے ہیں۔
اب ہم نے لکھنے پر ایک جامع لیکچر شروع ہی کیا تھا کہ ان کے چہرے پر بوریت دیکھ لی اور کچھ خیال آ گیا ہے کہ یہ لوگ پتا نہیں کتنی بکواس سن چکے، اپنی بکواس سے انھیں بچا کر ہم ان لوگوں پہ کچھ رحم کر ہی دیں۔
لیکن ہماری مہربانی کچھ کام نہ آئی کیونکہ ایک اسفل السافلین آ دھمکے۔ اب ان کا کیا تذکرہ کرنا۔ خیر سب نے ان سے جان چھڑا ہی لی۔
اس کے بعد کے سیشن میں ہماری کچھ توجہ بحال ہوئی۔ اس دفعہ موضوع تھا، فکشن کا آپ کا پسندیدہ کردار۔
ایک خاتون نے جمیلہ ہاشمی کی کنول کماری ٹھاکر کو چنا اور اس کردار کے ارد گرد وہ نثری شاعری کی کہ ہمارا دل چاہا وہیں کنول کماری ٹھاکر کی مورتی بنا کر اس کی پوجا شروع کر دیں۔ اتنی چالاک نہیں نکلیں وہ، انھیں بھی چاہیے تھا کہ گھوڑے پرہی اپنی نثری شاعری کی صلاحیتوں کو صرف کرتی۔
ایک اور صاحب نے گبرئیل گارشیا کے کسی افسانے میں موجود کسی ڈائن سی بوڑھی کو چنا اور اس کی کمینگی کے سہرے گانے لگے۔
ہمیں بھائی طارق یاد آ گئے کہ وہ کہتے تھے یار مرزا میری دادی کو تم نہیں جانتے، بڑی کتی ہے۔
اس کے بعد افسانے شروع ہوئے، آدھے ہم نے سنے۔ ایک افسانہ تو بہت ہی عجیب تھا، کچھ اس طرح کی انشا پردازی۔ کچھ لنڈا پتر سا چل رہا تھا۔
وہ جست جس کے نتیجے میں بازو ٹوٹ جاتے ہیں، وہ جست مریخ کی سیڑھی ہے، مریخ کی سیڑھی جسے دیکھ کر دوشیزائیں گھبرا کر اپنی چوڑیاں توڑ دیتی ہیں اور ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کے رنگ چن کر شکیلہ نے کوہ جودی پر وہ قلابازیاں کھائیں کہ اڈونس حیرت زدہ ہو کر تانڈو ناچنے لگا، آہ وہ تانڈو جو دلوں کو اتھل پتھل کر دیتا ہے مگر نادانوں کو کیا پتا کہ بنڈلی کیا ہوتی ہے۔
ہم تو ہنسی نہیں روک پائے اور وہ دیگیں اٹھانے والے مزدور تو باقاعدہ قہقہے لگانے لگے مگر ادیب لوگ اس انشا پردازی سے بڑی رمزیں بوجھ رہے تھے اور ہم لوگوں کو خفگی بھری نظروں سے دیکھنے لگے۔
ایک خاتون نے قدرے بہتر افسانہ پڑھا۔ ہم نے یاد رکھا اور بعد میں ان کے افسانے کی بہت تعریف کی۔ اور وہ خوش بھی بہت ہوئیں۔
ایک افسانہ عہد جاہلیت کے ماحول میں تھا مگر اس زمانے کے عربوں سے اور اپنے زمانے کے پاکستانیوں سے افسانہ خواں واقف نہیں لگے اور ہمیں حافظ یاد آ گئے۔
برو فسانہ مخواں اور فسوں مدم حافظ
کزیں افسانہ و افسوں مرا بسی یاد است
کہ افسانے مت پڑھو اور جادو مت جگاؤ، کہ ہمیں سینکڑوں افسانے یاد ہیں۔
آخرکار ہماری دوست کے افسانے کی باری آ گئی۔ وہ اچھی افسانہ نگار ہیں اور ان کا فسانہ اچھا تھا۔ بہت سی اس کی جہتیں تھیں مگر ہم چونکہ ملکی مسائل میں گھسے رہتے ہیں، اس لیے اس کی تفسیر ہم نے ملکی مسائل کے تناظر میں کی۔
مجموعی طور پر ہمیں لگا کہ وہاں خواتین افسانہ نگاروں کو بات کی کچھ سمجھ ہے، مرد افسانہ نگار تو بس شیخیاں ہی بگھارتے رہے۔
ہمارا خیال ہے ہمارے ہاں کے ادیب کاملیت پرستی کے بہت زیر اثر ہیں اور جب یہاں سے نکلتے ہیں تو رومانویت پسندی، وجودیت اور جادوئی حقیقت پسندی کے اسیر ہو جاتے ہیں اور یہ سارے نظام فیکٹ کو پسند نہیں کرتے۔ اور جسے مابعد جدت یا جدیدیت کہتے ہیں، وہ بھی فیکٹ سے بھاگتی رہتی ہے۔
اور جسے فیکٹ سمجھا جاتا ہے، وہ تعفن سے رومانوی لذت پر بہت اصرار کرتا ہے۔
اور فیکٹ کے بغیر ادب کیا، کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہو سکتی۔
