اسرائیل ایران جنگ میں پاکستانیوں کا کردار


تقریباً تمام معتبر خبر رساں اداروں کی خبر ہے کہ اسرائیل نے اصفہان میں میزائل فائر کیے ہیں جن کے توڑ کے لیے ایران کا ہوائی دفاعی نظام حرکت میں آیا، کچھ مبینہ وڈیوز بھی انٹرنیٹ پر گردش میں ہیں۔ مگر تا حال ایران کی طرف سے اس کی تردید یا توثیق ہونا باقی ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کیا تھا جس کے رد عمل کے طور پر ایران نے 13 اپریل کو ڈرونز اور میزائلوں کے ساتھ جوابی حملہ کیا تھا اور ایک پیغام جاری کیا تھا کہ ایران نے اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں مزید کوئی کارروائی زیر غور نہیں۔ اسرائیل کی طرف سے موجودہ حملہ علامتی محسوس ہوتا ہے جس کا مقصد اپنی عوام کو مطمئن کرنا اور ایران کو پیغام دینا ہے کہ ایران کی اہم تنصیبات بھی اسرائیل کی پہنچ میں ہیں۔ عقل کہتی ہے کہ دونوں ممالک اپنی اپنی عوام کو دشمن کی تباہی کے کچھ اعداد و شمار کی چوسنی تھما دیں گے اور معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ مگر پوری دنیا پریشان ہے کہ پاکستان میں آنے والے انقلاب کا سامنا کیسے کیا جائے؟

ایران کے حملے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا نے ایران کی بھرپور مدد کرتے ہوئے اسلام اور یہود کی جنگ، میدان سوشل میڈیا پر جیت لی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بات نکل کر شیعہ سنی کی جنگ تک جا پہنچی۔ کچھ بھولے سوشل میڈیا صارفین اپنی دینی حمیت میں اس قدر جذباتی ہو گئے کہ آپس میں فرقہ ورانہ طنز و تشنیع اور کہیں کہیں تو گالم گلوچ کے جوہری بموں کے ذریعے اسرائیل کو تباہ اور ایران کی غیرت کو خراج عقیدت پیش کرنے لگے۔ عوامی جمہوریہ سوشل میڈیا میں فوری آرڈیننس کے ذریعے منادی کرا دی گئی کہ ایسے تمام گستاخ دائرہ حب الاسلامی سے خارج کر دیے جائیں گے جو کہیں کہ ایران اسرائیل جھگڑا کسی طور حق و باطل کی جنگ نہیں ہے۔ یہ بات بھی یہود و ہنود نے اڑائی ہے کہ انقلاب ایران سے قبل ایران اور اسرائیل دوست ممالک میں شمار ہوتے تھے۔ اور وہ تو واجب العنت ہو گا جو کہے کہ ارطغرل کا ترکی وہ پہلا مسلم ملک تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا جبکہ ایران نے اس معاملے میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ اور مسلم حمیت پر یہ کتنی کاری ضرب ہو گی کی انقلاب ایران کے بعد اسرائیل سے تعلقات شاہ ایران کی باقیات ہونے کی وجہ سے متاثر ہوئے اور بالآخر اسرائیل مخالف بیانیہ پروان چڑھا۔ غزہ کے شہید ہونے والے چونتیس ہزار مسلمانوں کا بہتا خون اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ ایران نے حملہ تو ان کے بدلے کے لیے کیا ہے، دیر اس لیے ہوئی کہ یہود کو دمشق کی ایمبیسی دیر سے ملی۔

وطن عزیز کے باسیوں کی سوچ عام دنیا کی سوچ سے بہت آگے جا چکی ہے۔ قوم سمجھ چکی ہے کہ یہ اسرائیل اور مغرب تھا جس نے ہمیں اپنی ترقی یافتہ چیزوں سے ہمیں کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ لہذا اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ اسرائیلی پراڈکٹس کے جملہ فارمولے عالم جذب میں جا کر حاصل کیے گئے اور جذبہ ایمانی کے تحت عام کر دیے گئے ہیں۔ گلی کوچوں میں بھی کوکا کولا اور پیپسی جیسی سافٹ ڈرنکس بنائی جا رہی تھیں، کہیں ایک کمرے کی فیکٹری میں معروف ترین برینڈز کی بیوٹی پراڈکٹس بنائی جا رہی تھیں۔ کہیں اسرائیلی پانی میں ایمانی اجزا کا دم کر کے دودھ بنایا جا رہا ہے، کہیں ادویات میں ایسے نمکیات استعمال کیے جا رہے ہیں کہ جن کی تاثیر کم ہو تا کہ دم درود کی جانب رغبت بڑھے۔ اور تو اور ہر ماں باپ اپنے بچوں کو یورپ جانے کی ترغیب دے رہا ہے اور لاکھوں روپے بھی لگا رہا ہے تا کہ یورپ کا پرچم سر نگوں کر کے پرچم اسلام کو سر بلند کیا جا سکے۔ مغرب پر بالا دستی کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کے نا دیدہ جری مجاہدین نے اپنا سکہ تب بٹھایا چلہ کشی کے ذریعے جب وہ یتیم ہونے والے فلسطینی بچوں کو اس مقبوضہ فلسطین سے نکال لائے جہاں جانے کی اجازت ابھی تک کسی کو بھی نہیں۔ اسرائیلی پراڈکٹس کے بائیکاٹ مہم سے لے کر فلسطینی بچوں کو گود لینے تک جری قوم نے قدم قدم تک ثابت کیا کہ ”مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی“ ۔

 

Facebook Comments HS