پیرانہ سالی اور پولیس


پاکستان کی سیاسی اور صحافتی تاریخ جاننے والے اظہر مسعود سے ضرور واقف ہوں گے، اظہر مسعود چوہدری اس زمانے میں ٹی وی رپورٹنگ کیا کرتے تھے جب پاکستان میں اکلوتا پی ٹی وی تھا، اظہر مسعود نے پارلیمانی رپورٹنگ بھی کی، وہ کئی وزرائے اعظم اور صدور کے ساتھ بیرونی دوروں میں شامل رہے، انہوں نے بھٹو اور بھٹو کے بعد آنے والے حکمرانوں کو بہت قریب سے دیکھا، پی ٹی وی میں ترقی کرتے کرتے کنٹرولر نیوز کے عہدے پر پہنچے اور اسی عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔

اظہر مسعود یار باش آدمی ہیں، پچھلے دنوں کوہسار اسلام آباد میں ان سے ملاقات ہوئی تو ان کا ”چہرہ“ پریشان دکھائی دیا، میں نے ان سے پریشانی پوچھی تو ان کے اندر کا پڑھا لکھا صحافی جاگا، کہنے لگے ”ایک بات تو طے ہے کہ ہمارے ہاں وکیلوں اور پولیس والوں کو انگریزی نہیں آتی“ ۔ میں نے ان سے عرض کیا حضور! میں نے پریشانی کا سبب پوچھا ہے، انگریزی آنے نہ آنے کی بات نہیں کی، بس اس کے بعد پچھتر سالہ اظہر مسعود چوہدری پھٹ پڑا، اس نے پوری داستان سنا دی، کہانی سن کے ایک لمحے کے لئے میں بھی سوچ میں پڑ گیا، ہم کس معاشرے میں رہتے ہیں، ہمارا معاشرہ ان بزرگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے، ہماری تو روایات تھیں، ہم تو بڑوں کا ادب کرتے تھے مگر اظہر مسعود کی کہانی سن کر لگتا ہے کہ معاشرے نے دولت کی محبت میں اعلیٰ روایات کو بھی روند ڈالا ہے۔

کہانی کچھ اس طرح سے ہے کہ کمرشل مارکیٹ راولپنڈی سے شروع ہونے والی اٹھارہ کنال زمین مری روڈ کو جا ملتی ہے، مری روڈ راولپنڈی کی معروف شاہراہ ہے، لہذا یہ زمین بہت قیمتی ہے، ایک طرف تین کنال میں گھر بنا ہوا ہے، یہ زمین اظہر مسعود چوہدری کے والد گرامی نے لی تھی، ہمارے معاشرے میں بڑھاپے سے فائدہ اٹھانے والے چکر باز کسی نہ کسی چکر میں رہتے ہیں۔ تین افراد، راجہ رزاق، فہیم شاہ اور وحید بھٹی، ان تینوں نے ایک چکر چلایا اور اظہر مسعود چوہدری سے مکان کی خریداری کی بات کی، راجہ رزاق نامی آدمی نے چوہدری اظہر مسعود سے ایک معاہدہ کیا اور جو دس لاکھ کا بیعانہ تھا وہ بھی خود ہی رکھ لیا کہ کچھ چیزوں کی مرمت کروانی ہے، بس اسی معاہدے کی آڑ میں یہ افراد پچھتر سالہ اظہر مسعود کے مکان پر قابض ہو گئے، صرف مکان پر قابض نہیں ہوئے، انہوں نے اظہر مسعود کے کروڑوں مالیت کے سامان پر بھی قبضہ کر لیا، ساتھ ہی اپنے پروں کو اٹھارہ کنال پر پھیلانا شروع کر دیا، اس دیدہ دانستہ فراڈ کے خلاف جونہی اظہر مسعود نے تھانے کا رخ کیا تو وہاں پہلے سے موجود ایک اے ایس آئی کو فراڈیے راضی کر چکے تھے، پچھتر سالہ بزرگ نے کوشش کی، خبریں لگوائیں، سفارشیں لڑوائیں مگر سب بے نیل مرام۔

تھک ہار کے اظہر مسعود نے عدالتوں کا رخ کیا، چھوٹی عدالتوں سے لے کر بڑی عدالتوں نے اس کے حق میں فیصلہ دیا، فیصلے اس کے پاس ہیں مگر راولپنڈی پولیس قبضہ مافیا سے گھر خالی کرانے کے لئے تیار نہیں، راولپنڈی شہر کے کوتوال اپنے ملتانی خالد ہمدانی ہیں، ویسے تو یہ معاملہ انہیں حل کر دینا چاہیے تھا مگر وہ تو ابھی تک میرے بھائی عمار برلاس کا موبائل بھی برآمد نہیں کروا سکے۔ اظہر مسعود چوہدری نے مقدمے کے اندراج اور گھر خالی کروانے کے لئے آئی جی پنجاب اور وزیر داخلہ کو بھی درخواست دی ہے، آئی جی پنجاب اگر ٹک ٹاک سے فارغ ہوں تو انہیں چاہیے کہ وہ صوبے کے کم از کم بزرگوں کو انصاف دلا دیں، بزرگوں کی تو مدد کر دیں، وزیر داخلہ محسن نقوی ویسے بھی صحافی ہیں، انہیں ایک صحافی سمجھ کر اظہر مسعود کی مدد کرنی چاہیے۔

قبضہ گروپ ہر شہر میں متحرک ہے، لاہور کے سینیئر صحافی طارق حمید کے ساتھ بھی اسی طرح کا فراڈ ہو چکا ہے، بودلہ نامی آدمی شاید انتظامیہ سے زیادہ طاقتور ہے، میں تو صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ ان پولیس افسران نے بھی کبھی تو بوڑھا ہونا ہے، انہوں نے بھی ریٹائرڈ ہونا ہے، یہ معاشرے کے بزرگوں کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہیں، اس سلوک کو تو کسی طرح بھی احسن نہیں کہا جا سکتا۔ بقول اقبال

حضور! دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی

Facebook Comments HS