آصف علی زرداری کا کارنامہ


2013 سے آج تک آصف علی زرداری ایک تنہا شخص پوری ریاست کا ناپسندیدہ شخص ہے۔ 2022 میں کپتان کی ناکامی کے باوجود پی پی پی کو سیاسی میدان میں داخلہ کی جگہ نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

کارکن 24 گھنٹے آصف علی زرداری کے گھوڑے پر چڑھ کر اسے بجاتے رہتے ہیں۔

کبھی غور کیا ہے کہ اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کی ایک بات سن لے تو تمہاری بک بک سے بے نیاز ہو جائے اور میڈیائی نوٹنکی اور بچونگڑے اس کی تسبیح اور قصائد پڑھتے دکھائی دیں اور وہ ملک کا مقبول ترین لیڈر بن جائے۔ سارے الیکٹیبلز اس کی گود میں بیٹھنے کو بے تاب ہو جائیں۔ کیونکہ شخصی خوبیوں کی حد تک تو پاکستانی سیاست ایڈمنسٹریشن اور فوج کا ہر بندہ ماننے کو تیار ہے کہ آصف علی زرداری سے بہترین انسان پیدا نہیں ہوا۔ لیکن اخر کیا وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ ولن بنا رہتا ہے اور ولن بنانے میں سب سے بڑا کردار پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن کا ہے کبھی غور کیجئے کہ یہ بات کیوں ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کی تاریخ میں پہلی مبغوض ترین سیاسی جماعت ہے جسے کبھی اسٹیبلشمنٹ نے تسلیم نہیں کیا۔

اس کی بنیادی وجہ پاکستان پیپلز پارٹی کا کثیر قومی تصور وفاق پر ایمان ہے۔ پاکستان کی ریاستی اسٹیبلشمنٹ موجودہ وفاق کو پنجاب کی کالونی بنا کر چلانا چاہتی ہے اور پنجاب اور اردو زبان کے علاوہ کسی بھی شناخت کو تسلیم کرنے والوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑتی ہے۔

1973 کا آئین ایک کمزور دستاویز تھا جو کثیر قومی وفاق کے تصورات پر پورا نہیں اتر سکا اور اس نے ایک وحدانی طرز حکومت بنانے کے لیے سپیس اسٹیبلشمنٹ کو دیے رکھی۔

اٹھارہویں ترمیم پاکستان کے ریاستی مقتدرہ کے دل میں خنجر کی طرح چبھی ہے۔ صوبائی خود مختاری اور صوبوں کی امدنی کی یقینی گارنٹی اس ترمیم کا خاصہ ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے دن سے ہی مختلف امور پر پیپلز پارٹی کے خلاف جنگ عظیم شروع کر دی گئی تھی 2010، 2011، 2012 میں پیپلز پارٹی کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ عدالتی محاذ پر پیپلز پارٹی کو وقتی طور پر پسپا ہونا پڑا اور 19 ویں آئینی ترمیم منظور کروانا پڑی تھی۔

آج بھی صدر آصف علی زرداری عوامی لیڈر کے طور پر مشہور ہو سکتے ہیں۔ کارکنوں کو محبوب ہو سکتے ہیں صرف وہ صوبائی خود مختاری پر اصرار چھوڑ دیں صوبوں کی گارنٹی شدہ امدنی پر اصرار چھوڑ دیں اور تمام قومی وسائل ریاستی مقتدرہ پاک فوج اور انتظامی افسران کے ہاتھوں میں سرینڈر کر دیں تو یقین کیجیے یہی میڈیا، یہی اخبار اور یہی میڈیائی نوٹنکی اپ کو بتائیں گے کہ آصف علی زرداری سے کوئی عظیم لیڈر پیدا نہیں ہوا۔

مسئلہ یہ ہے کہ 1977 کے بعد سے سیاسی کارکن صرف گالی گلوچ کو سیاست سمجھتا ہے اور اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کا کارکن آصف علی زرداری کی جدوجہد اور محنت کی بجائے شیر افضل مروت کی لغو بیانی سے متاثر ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن کو اس چومکھی لڑائی کی سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ جو آصف علی زرداری تنہا اپنی ذات پر جھیل رہا ہے۔ اسے یوں لگ رہا ہے کہ اپوزیشن کا اصل منصب اور مقام تو شیر افضل مروت چھین کر لے گیا ہے۔ اور آنے والے وقت میں شیر افضل مروت درست طور پر اپوزیشن لیڈر بن سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے ایسے کارکن پیپلز پارٹی کے لیے اثاثہ ہرگز نہیں ہیں یہ پیپلز پارٹی کے لیے ایک بوجھ بنتے چلے جا رہے ہیں اور آنے والے وقت میں یقینی طور پر یہ پیپلز پارٹی میں نہیں رہیں گے۔ یہ سب لوگ آنے والے وقت میں شیر افضل مروت کی نئی بنائی جانے والی پارٹی میں شریک ہو کر سڑکوں پر لوگوں کو آتے جاتے کاٹا کریں گے اور ان کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر ان کے کپڑے پھاڑا کریں گے اور کیونکہ یہ سیاست اسی امر کو سمجھتے ہیں۔

آصف علی زرداری شہید محترمہ کے بعد سے جس قدر سخت ذہنی، جسمانی جنگ لڑ رہے ہیں اس کا تصور بھی پاکستان کی تاریخ میں نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد بھی شہید محترمہ نے جو جنگ لڑی۔ آصف علی زرداری نے اپنی زندگی میں ہر موقع پر اس سے زیادہ سخت لڑائی لڑی اور دباؤ جھیلا ہے۔

2010 کے بعد بالخصوص اٹھارہویں ترمیم کا تحفظ اور صوبائی خود مختاری کے موضوع پر اگے بڑھنا اور ملکی وسائل کو صرف اور صرف عوامی بہبود اور ترقی کے لیے بچائے رکھنا آصف علی زرداری کا ایک ایسا کارنامہ ہے جو انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید بنا دے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments