ترقی اور بقائے باہمی کے لئے جدید سیکولر نصاب تعلیم ناگزیر
موجودہ دنیا کو ایک گلوبل ولیج (Global Village) کہا جاتا ہے۔ ذرائع مواصلات اور آمد و رفت کی تیز رفتار ترقی اور جدید سہولتوں نے فاصلوں اور مسافتوں کو اتنا کم، آسان اور برق رفتار بنا دیا ہے۔ کہ دنیا کہ ایک حصے سے دوسرے حصے تک پہنچنے کے لئے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرنے لئے چند گھنٹے ہی درکار ہوتے ہیں۔ ماضی میں جس کو طے کرنے کے لئے کئی کئی ماہ بلکہ کئی کئی سالوں پر محیط انتہائی پرخطر راستوں پر سفر کرنا پڑتا تھا۔ آج انٹرنیٹ، کمپیوٹر، موبائل فون اور سوشل میڈیا کی بدولت دنیا بھر سے خبریں اور معلومات چند سیکنڈز میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتیں ہیں۔ ماضی میں ایک خط کو اپنی منزل تک پہنچنے میں ہفتے اور بعض صورتوں میں مہینے درکار ہوتے تھے۔ انسانوں نے برسا برس کی محنت، ریاضت، تحقیق اور تجربات کر کے اس دنیا کو جدت بخشی ہے۔ اسی لئے اب خط کی جگہ ای میل، ایس ایم ایس، واٹس ایپ، ٹیوٹر یا ایکس اور دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ نے لے لی ہے۔ اسی طرح ایک کتاب کیا پوری کی پوری لائبریری کو چند منٹوں میں پی ڈی ایف فائلوں کے ذریعے دنیا کے کسی بھی کونے میں چند سیکنڈز میں بھیجا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر کے اخبارات، رسائل، ٹی وی چینل، فلمیں، ڈوکیومنٹریز ان لائن دستیاب ہیں۔ چاند اور مریخ کو تسخیر کر لیا ہے۔ جب جب بھی انسان نے نئی ایجادات کیں۔ تو بعض ملکوں میں مقتدر حلقوں اور مذہبی پیشواؤں کے لاکھوں حربوں اور کوششوں کے باوجود یہ کسی مخصوص طبقے، مذہب یا علاقے تک محدود نہیں رہیں۔ بلکہ آہستہ آہستہ جدیدیت کے ثمرات ہر خطے اور ہر طبقے تک پہنچے ہیں۔ چاہیے دیر سے ہی کیوں نہ پہنچی ہوں۔ دیر سے پہنچنے کے بے شمار محرکات شامل ہوتے ہیں۔ مقتدرہ، عالمی، علاقائی طاقتیں۔ اور اکثر صورتوں میں ترقی کے پہیے کو روکنے مذہب کو بطور ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تاکہ عوام کو علم اور شعور سے بیگانہ رکھا جائے۔ کیونکہ عالمی استعماری قوتیں اور ان کے آلہ کار علم اور شعور کو اپنا سب سے بڑا دشمن مانتے ہیں۔ اسی لئے نئی ایجادات کے خلاف پراپیگنڈہ اور فتویٰ بازی ہوتی رہتی ہے۔ کیونکہ اہل علم اور باشعور انسان کے حقوق کو سلب کرنا۔ اس کے ملک، زمینوں اور وسائل پر قبضہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ جتنا نسبتاً ایک کم پڑھے لکھے اور خاص کر ایک مذہبی جنونی، فرقہ پست اور علاقائی ازم پر نفرت پھیلانے والے کو۔
یہ دنیا متنوع معاشروں پر مشتمل ہے۔ جو بے شمار، مذاہب، عقیدوں، ثقافتوں، زبانوں اور روایات کی عکاسی کرتی ہے۔ جو اس کرہ ارض کی اصل روح اور خوبصورتی ہے۔ جو انسانیت کو متحرک بناتی ہے۔ اور عالمگیریت کا باعث ہے۔ تاہم عالمی استعماری قوتیں، ان کے آلہ کار، فرقہ پرست طاقتیں اپنے مفادات کے لیے اختلافات کو پروان چڑھا کر فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ان تباہ کن رجحانات کا مقابلہ کرنے اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی ہو یا علاقائیت کی بنیاد پر نفرت پھیلانے والے۔ ایسی قوتیں معاشرے کے تانے بانے کو کمزور کرتیں ہیں۔ ہماری متنوع دنیا کی ہم آہنگی اور خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے نظریات کا مقابلہ کرنا اور ان کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔ آج کی متنوع دنیا یا گلوبل ولیج میں ایک جدید سیکولر نصاب تعلیم کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سائنسی بنیادوں پر استوار کیا گیا۔ جدید نصاب نہ صرف پرامن بقائے باہمی کو پروان چڑھاتا ہے۔ بلکہ ایک ہنر مند افرادی قوت بھی تیار کرتا ہے۔ جو قوموں اور ملکوں کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ جنھوں نے مذہب کو ریاستی امور سے لگ کر کے جدید نظام تعلیم متعارف کروائے اور تعمیر و ترقی کی منازل طے کیں۔ ان ممالک میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر کی مکمل اجازت ہے۔ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے۔ کہ وہ اپنے عقیدے اور مذہب کے مطابق عبادت کرے۔ اور جو کسی مذہب اور کسی عقیدے کو نہیں بھی مانتا، اسے کوئی بزور قوت مذہبی بنانے کی کوشش نہیں کرتا۔ چاہیے وہ ریاست ہو یا کوئی مذہبی پیشواء ہی کیوں نہ ہو۔ سکولوں میں تقابل ادیان، تاریخ اور سائنسں اور عصر حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق مضامین، سائبر کے قوانین، سائبر کرائمز سے آگاہی، آرٹیفشل انٹلیجنس AI، بائیو انجینئرنگ، ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ، گلوبل وارمنگ کے نقصانات اور دیگر جدید علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ تقابل ادیان میں ایسی تعلیمات نہیں دی جاتی۔ کہ آپ ہی سب سے برتر اور اعلیٰ ہو۔ اور آپ پوری دنیا پر غلبہ پانے کے لئے پیدا ہوئے ہو۔ اور نہ ہی ایسی تعلیمات دی جاتی ہیں۔ کہ آپ دوسروں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں۔ اپنے عقیدے اور مذہب میں شامل ہونے کی دعوت دیں۔ اور نہ ماننے کی صورت میں بزور شمشیر اپنی بات منوائیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں تاریخ کا درست علم دیا جاتا ہے۔ ریاست اور بحیثیت ایک قوم کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔ اپنی کامیابیوں کے راز اور ناکامیوں کے محرکات بتائے جاتے ہیں۔ اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور نا انصافیوں پر کھلے اور صدق دل سے دیگر اقوام اور لوگوں سے معافی مانگی جاتی ہے۔ اور یہ عہد کیا جاتا ہے۔ کہ ماضی کی غلطیوں کو دوہرایا نہیں جائے گا۔ اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیا جائے گا۔ قانون کی حکمرانی، آئین اور قانون کی پاسداری کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے۔ کہ کچھ لوگ جو ہمارے معاشروں میں پرورش پاتے ہیں۔ اکثر اپنے ملک میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر فخر کرتے ہیں۔ سگریٹ کے خالی پیکٹ، کولڈ ڈرنکس کی خالی بوتلیں اور ڈبے، بسکٹ اور چپس کے پیکٹ، پلاسٹک کی تھیلیاں گلیوں، محلوں، چوک چوراہوں اور پارکوں میں پھینکنے پر کسی قسم کی ندامت محسوس نہیں کرتے۔ اور ساتھ میں صفائی نصف ایمان ہے کا ورد بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہی لوگ جب ان ممالک میں آتے ہیں۔ جہاں قانون کی بالادستی ہے۔ شعور و آگہی ہے۔ تو یہ نہ چاہتے ہوئے بھی ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے نظر آتے ہیں۔ اور کوڑا کرکٹ ادھر ادھر پھینکنے سے گریز کرتے ہیں۔ کیونکہ انھیں یہاں اس بات کا احساس ہوتا ہے۔ کہ ان ممالک میں قانون کی حکمرانی ہے۔ اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ ہو گا۔ یا سزا بھگتنا پڑی گی۔ کیونکہ رشوت اور سفارش کہاں کام آنے والی نہیں۔ اور نہ ہی جان پہچان والا کوئی بھی کسی طرح کی کوئی مدد کر سکتا ہے۔
سائنسی بنیادوں پر استوار جدید نظام تعلیم متنوع معاشروں کے درمیان امن، ہم آہنگی اور بقائے باہمی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ تاہم اس وژن کو عالمی استعماری قوتوں، مذہبی منافرت اور بنیاد پرست نظریات کا پرچار کرنے والی قوتوں سے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ بشمول پاکستان وہ تمام ممالک جہاں ایک مخصوص نظریے کو پروان چڑھانے کے لئے حقائق کے مغائر اور نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ انھیں اپنے قومی بیانیے اور نصاب کو ترجیحی بنیادوں پر تبدیل کرنا چاہیے۔ کیونکہ تاریخ مسخ کرنے، اور من گھڑت کہانیوں سے ماضی کو نہیں بدلا جا سکتا۔ البتہ ماضی کی خامیوں اور ناکامیوں سے سبق سیکھ کر حال اور مستقبل کو درست ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اکیسویں صدی انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ دنیا بھر کا علم، حالات واقعات لوگوں کی فنگر ٹپس (Fingertips) پر ہیں۔ ایک سمارٹ فون پر دنیا جہاں کی معلومات ہیں۔ اس لئے لوگوں کو زیادہ عرصے تک حقائق سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔ ایسے میں فوری اور دوررس اقدامات کی ضرورت ہے۔ تعلیمی نصاب کو جدید بنانے کو ترجیح دی جائے۔ آئین اور تعلیمی نظام میں اصلاحات لائی جائیں۔ ایسا جدید سائنسی مساوی نظام تعلیم جس میں انسان اور انسانیت کی بھلائی کا درس ہو۔ جس نصاب کے ذریعے باشعور اور اعلیٰ مہارت والے لوگ پیدا ہوں۔ تاکہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اور امن و استحکام کا تحفظ کیا جا سکے۔ آخر کب تک نفرتوں اور عداوتوں کی تعلیم دی جاتی رہے گی۔ کانٹے بو کر پھول نہیں اگائے جا سکتے۔ اپنے آنگن میں یہ سوچ کر سانپ پالنا کہ یہ صرف پڑوسیوں کے بچوں کو ہی ڈسیں گے۔ اس سے بڑی حماقت بھلا اور ہو کیا ہو سکتی ہے۔ اس نظریے اور سوچ کو بدلنا ہو گا۔
ترقی یافتہ ممالک نے باصلاحیت اور باشعور انسان پیدا کیے ہیں۔ اپنے جدید، سیکولر نظام تعلیم سے۔ اور ہمارے ہاں ایک ہجوم ) Mob) کو پروان چڑھایا گیا ہے۔ جس کو جب چاہیں جس طرف موڑ دیا جائے۔ یہ ہجوم (mob) اب سڑکوں چوراہوں پر مسلح دندناتا ہے۔ اور لوگوں کی قسمتوں اور زندگیوں کے فیصلے کرتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ یک دم نہیں ہوا۔ بلکہ یہ گزشتہ کئی دہائیوں کی ریاستی بیانیے اور پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ جس میں سوال کرنا ایک جرم بنا دیا گیا۔ اور ایک خاص سوچ اور نظریہ کو پروان چڑھایا گیا۔ جس میں سوچنے سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہ ہو۔ تاکہ جب چاہیں اس ہجوم کو جس طرف موڑ دیں۔ یہ ہجوم متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ جب کہ مقتدر حلقوں، مذہبی پیشواؤں اور اشرافیہ کے بچے جدید اور اعلیٰ حاصل کرنے کے لئے مغربی ممالک جاتے ہیں۔
تیزی سے ابھرتی ہوئی عالمی معیشت کے لیے درکار فکری اور عملی مہارتوں کے لیے ایک جدید، سیکولر نصاب ضروری ہے۔ ایسا نصاب جو تنقیدی سوچ، سائنسی تحقیقات، اور تکنیکی خواندگی پر زور دے کر طلبا کو روزگار کے بدلتے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور قومی ترقی کے اقدامات میں موثر طریقے سے تعاون کرنے کے لیے ضروری مہارت اور صلاحیت سے لیس کرتا ہے۔ مزید برآں یہ جدت، کاروبار اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دیتا ہے۔ جنوبی ایشیا جیسے متنوع معاشروں میں ایک سیکولر نصاب مختلف عقائد، ثقافتوں اور روایات کے لیے افہام و تفہیم، رواداری اور احترام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ انسانی حقوق، مساوات اور سماجی انصاف کی آفاقی اقدار کی تعلیم دے کر یہ طلباء میں ہمدردی اور احساس ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ پرامن بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کی بنیاد رکھتا ہے۔ مزید برآں یہ انتہا پسند گروہوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے تفرقہ انگیز بیانیے کا مقابلہ کرتا ہے۔ اور مذہبی یا فرقہ ورانہ وابستگیوں کی بجائے مشترکہ اقدار پر مبنی قومی اتحاد کے احساس کو فروغ دیتا ہے۔
مذہبی منافرت اور بنیاد پرست نظریات کا پھیلاؤ سماجی ہم آہنگی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ایک جدید سیکولر نصاب تعلیم مختلف مذہبی اور نظریاتی برادریوں کے درمیان مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دے کر دلیل، شواہد اور حقائق پر مبنی تعلیم کے ذریعے انتہاپسندانہ بیانیے کو ختم کر سکتا ہے۔ طالب علموں کو انتہا پسندی کے پروپیگنڈے کا تنقیدی تجزیہ کرنے اور سوال کرنے کے ہنر سے لیس کر کے یہ انہیں بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کی رغبت سے بچا سکتا ہے۔ لیکن یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کہ وہ اپنے تعلیمی نصاب کو تکثیریت (Pluralism) کی بنیاد پر تشکیل دے۔ اس سلسلے میں ایسے اہل علم، سائنسدانوں، دانشوروں، مفکروں اور محققین سے رائے لیں۔ جنھیں حقیقی معنوں میں تاریخ، سائنس، اور جدید علوم پر دسترس حاصل ہو۔ جو جمہوری طرز حکمرانی کے اصولوں کے مطابق آئینی اصلاحات کے لئے اپنی ماہرانہ رائے دیں۔ جس میں فرقہ واریت اور عدم برداشت کو فروغ دینے والے فرسودہ نصاب پر نظر ثانی کرنا، انسانی حقوق کی تعلیم دینا۔ قطع نظر مذہبی، نسلی، نظریاتی پس منظر تمام شہریوں کے لیے معیاری تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا۔ اس کے علاوہ ریاستوں کو ایسے قانونی ڈھانچے کو نافذ کرنا چاہیے۔ جو قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ اور نفرت انگیز تقریر اور تشدد پر اکسانے والوں کی حوصلہ شکنی کرے۔ تاکہ امن، استحکام اور سماجی ترقی کے لیے ایک قابل عمل ماحول پیدا ہو۔
ایک جدید، سیکولر نصاب کو اپنانا محض تعلیمی پالیسی کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ترقی کو فروغ دینے، امن، ہم آہنگی اور بقائے باہمی کو فروغ دینے اور مذہبی منافرت اور بنیاد پرست نظریات کا مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تعلیمی اصلاحات کو ترجیح دے کر اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھ کر ریاستیں ایک زیادہ جامع، خوشحال، اور لچکدار معاشرے کی راہ ہموار کر سکتیں ہیں۔ جس کی بنیاد رواداری، تنوع، اور انسانی وقار کے احترام کے اصولوں پر ہو۔ کوئی ریاست، تنظیم، لیڈر، مذہبی پیشوا، شخصیت یا کوئی بھی ادارہ۔ جب قومی، مذہبی، علاقائی، لسانی، جنسی، قبائلی، عقیدے یا کسی بھی بنیاد پر نفرت پھیلائے۔ تو وہ اپنی قوم اپنے لوگوں اور انسانیت کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ ایسے معاشرتی ناسور کا ایک ہی علاج ہے۔ اور وہ ہے نوجوان نسل کو شعور و آگاہی دینا۔ تاکہ انسانیت اور بنی نوع انساں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا جا سکے۔


